مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ کو دوبارہ نوٹس، این سی سی آئی اے کی نئی تحقیقات

مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ کو این سی سی آئی اے کے دوبارہ نوٹس
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ہراسانی کیس: مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ کو این سی سی آئی اے کے دوبارہ نوٹسز

مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ کو ہراسانی کیس میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے نئے ڈیجیٹل شواہد سامنے آنے کے بعد دوبارہ نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ حکام کے مطابق کیس کی ازسرنو تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔

این سی سی آئی اے کے ترجمان کے مطابق مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ کو نئے سامنے آنے والے ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر دوبارہ نوٹس بھیجے گئے ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد معاملے کی مزید چھان بین کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جو کیس سے متعلق دستیاب شواہد اور سابقہ ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لے گی۔

ترجمان کے مطابق خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز افسر کریں گے۔ ٹیم کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نئے ڈیجیٹل شواہد کے ساتھ ساتھ اس معاملے میں پہلے سے موجود ریکارڈ اور دیگر متعلقہ معلومات کا بھی جائزہ لے۔

نئے ڈیجیٹل شواہد کا جائزہ

این سی سی آئی اے کے مطابق تحقیقات کا بنیادی مقصد نئے سامنے آنے والے ڈیجیٹل شواہد کا قانونی اور تکنیکی اعتبار سے جائزہ لینا ہے۔ ٹیم اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ نئے شواہد کیس میں پہلے سے موجود معلومات سے کس حد تک مطابقت رکھتے ہیں اور ان کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی کی ضرورت ہے یا نہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ سائبر کرائم سے متعلق معاملات میں ڈیجیٹل مواد اہم شواہد کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے تحقیقات کے دوران دستیاب ریکارڈ کو مختلف پہلوؤں سے جانچا جائے گا۔

خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل

مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ کے کیس میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل اس معاملے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ این سی سی آئی اے ترجمان کے مطابق ٹیم نئے ڈیجیٹل شواہد، سابقہ تحقیقات کے ریکارڈ اور دیگر متعلقہ معلومات کو یکجا کرکے معاملے کا جائزہ لے گی۔

تحقیقاتی عمل کے دوران متعلقہ فریقین سے دستیاب معلومات اور شواہد کے بارے میں بھی قانونی تقاضوں کے مطابق پیش رفت کی جا سکتی ہے۔ تاہم کسی بھی فریق کے خلاف حتمی قانونی نتیجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت

این سی سی آئی اے کے ترجمان نے بتایا کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو تحقیقات مکمل کرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔ ٹیم مقررہ مدت کے دوران اپنی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اے کو پیش کرے گی۔

رپورٹ میں نئے ڈیجیٹل شواہد اور سابقہ ریکارڈ کے جائزے کی بنیاد پر تحقیقات کے نتائج شامل کیے جائیں گے۔ اس کے بعد رپورٹ کا جائزہ لے کر آئندہ قانونی کارروائی کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔

این سی سی آئی اے کے مطابق فی الحال معاملے میں آئندہ قانونی کارروائی کا فیصلہ تحقیقات مکمل ہونے اور خصوصی ٹیم کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد کیا جائے گا۔ اس لیے کیس میں کسی بھی حتمی نتیجے کے لیے تحقیقاتی عمل مکمل ہونے کا انتظار کیا جائے گا۔

مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ سے متعلق کیس کی تازہ پیش رفت نے ایک بار پھر ڈیجیٹل شواہد کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ سائبر کرائم سے متعلق معاملات میں سوشل میڈیا مواد، ڈیجیٹل رابطوں اور دیگر الیکٹرانک ریکارڈ کی جانچ پڑتال تحقیقات کا اہم حصہ بن چکی ہے۔

این سی سی آئی اے کی جانب سے تشکیل دی گئی خصوصی ٹیم اب کیس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔ ایک ماہ کے اندر رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ تحقیقات کس سمت میں آگے بڑھتی ہیں اور آیا مزید قانونی کارروائی کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے یا نہیں۔

READ MORE FAQS
  1. مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ کو دوبارہ نوٹس کیوں جاری کیے گئے؟

این سی سی آئی اے کے مطابق نئے ڈیجیٹل شواہد سامنے آنے کے بعد دونوں کو دوبارہ نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

  1. کیا کیس کی دوبارہ تحقیقات شروع ہوگئی ہیں؟

جی ہاں، نئے شواہد سامنے آنے کے بعد ازسرنو تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔

  1. خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی کون کرے گا؟

این سی سی آئی اے کے مطابق ٹیم کی سربراہی ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے کا افسر کرے گا۔

  1. تحقیقاتی ٹیم کیا جائزہ لے گی؟

ٹیم نئے ڈیجیٹل شواہد، سابقہ ریکارڈ اور کیس سے متعلق دیگر معلومات کا جائزہ لے گی۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:17 AM
طلوع آفتاب05:43 AM
ظہر12:07 PM
عصر03:44 PM
مغرب06:32 PM
عشاء07:58 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6