برطانیہ کا اسرائیلی بستیوں کے خلاف بڑا اقدام، مغربی کنارے پر قبضہ غیر قانونی قرار

برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ کا اسرائیلی بستیوں کے خلاف پابندیوں کا اعلان
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

برطانیہ کا اسرائیلی بستیوں کے خلاف بڑا اقدام، مغربی کنارے پر قبضہ غیر قانونی قرار، فلسطینی عوام کی انسانی امداد جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا

لندن (8 ستمبر 2026): برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری اور بستیوں کی توسیع کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے 8 ستمبر کو دارالعوام میں اسرائیل اور فلسطین کے معاملے پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری میں تیزی اور آبادکاروں کے تشدد نے دو ریاستی حل کے امکانات کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ برطانوی حکومت نے اسی روز اعلان کیا کہ غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کی جائے گی جبکہ آبادکاری میں مدد، سرمایہ کاری یا توسیع میں کردار ادا کرنے والی کمپنیوں اور افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف تجارتی پابندیاں

ایڈ ملی بینڈ کے مطابق برطانیہ مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم ان اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرے گا جنہیں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی تصور کیا جاتا ہے۔

روس اور شمالی کوریا کے درمیان نئے سڑک پل کا افتتاح
روس اور شمالی کوریا کے درمیان دریائے تومین پر پہلے سڑک پل کا افتتاح کردیا گیا۔

برطانوی حکومت نے واضح کیا کہ اقدامات کا ہدف اسرائیل کی مجموعی تجارت نہیں بلکہ غیر قانونی بستیوں سے متعلق سرگرمیاں ہیں۔ اس کے علاوہ ان کمپنیوں اور افراد کے خلاف بھی پابندیاں عائد کی جائیں گی جو آبادکاری کے لیے تعمیرات، بنیادی ڈھانچے، مالی معاونت یا رئیل اسٹیٹ کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔

برطانوی حکومت کے مطابق ان اقدامات کا بنیادی مقصد فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو محفوظ رکھنا اور دو ریاستی حل کو مزید نقصان سے بچانا ہے۔

مغربی کنارے میں ’نسلی صفایا‘، برطانوی وزیر خارجہ

ایڈ ملی بینڈ نے اپنے خطاب میں کہا کہ برطانوی حکومت کا خیال ہے کہ مغربی کنارے کے بعض علاقوں میں فلسطینیوں کے خلاف ’’نسلی صفایا‘‘ جاری ہے، جس میں پرتشدد اسرائیلی آبادکاروں کا کردار ہے۔

انہوں نے اسرائیلی حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آبادکاروں کی جانب سے فلسطینی آبادی کے خلاف تشدد اور بے دخلی کے واقعات کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ تاہم یہ الفاظ برطانوی وزیر خارجہ کا سیاسی و حکومتی مؤقف ہیں، جنہیں کسی حتمی عدالتی فیصلے کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔

30 سے زائد اسلحہ لائسنس پہلے ہی معطل

برطانوی وزیر خارجہ نے اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی کے معاملے پر بھی اہم اعلان کیا۔ ان کے مطابق برطانیہ پہلے ہی اسرائیلی فوج کے غزہ میں استعمال ہونے والے 30 سے زائد اسلحہ برآمدی لائسنس معطل کر چکا ہے۔

سری نگر ایئرپورٹ پر انڈیگو طیارہ پارکنگ کے دوران کھمبے سے ٹکرا گیا
سری نگر ایئرپورٹ پر انڈیگو کی پرواز 6E-225 کو حادثہ

ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ اب ان تمام اسلحہ اور دیگر برآمدی لائسنس درخواستوں کو بھی مسترد کیا جائے گا جو ان کے بقول اسرائیلی قبضے کو مادی طور پر تقویت پہنچاتی ہوں۔ ان کے مطابق یہ پابندی قبضے کے جاری رہنے تک برقرار رہے گی۔

آبادکاری میں مدد دینے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی

برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع میں مدد دینے والی مخصوص کمپنیوں اور افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

ایڈ ملی بینڈ کے مطابق تعمیرات، انفراسٹرکچر، مالی معاونت اور رئیل اسٹیٹ سمیت ایسی سرگرمیوں میں ملوث عناصر جو غیر قانونی آبادکاری کو آگے بڑھاتے ہیں، برطانوی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ حکومت نے یہ بھی کہا کہ پرتشدد کارروائیوں کی حمایت یا ترغیب دینے والے مزید انتہا پسند آبادکاروں پر پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

دو ریاستی حل کی بھرپور حمایت

برطانوی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ برطانیہ اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے دو ریاستی حل کی حمایت جاری رکھے گا۔

برطانیہ سمیت 12 ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں بھی کہا ہے کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی حکومت کے اقدامات، آبادکاری میں توسیع اور E1 منصوبے جیسے اقدامات دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان ممالک نے غیر قانونی بستیوں سے تجارت پر پابندیوں سمیت مزید اقدامات کی حمایت یا ان پر غور کرنے کا اعلان کیا ہے۔

غزہ کے معاملے پر بھی سخت مؤقف

ایڈ ملی بینڈ نے اپنے خطاب میں غزہ کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے معاملے میں بین الاقوامی قانون کی پاسداری ضروری ہے۔

نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد ہائیڈرو پاور ٹنل سے 9 روز بعد دو افراد کو زندہ نکالنے کا ریسکیو آپریشن
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد ترشولی 3 اے ہائیڈرو پاور منصوبے کی سرنگ سے دو افراد کو 9 روز بعد زندہ نکال لیا گیا۔

انہوں نے جنگی جرائم کے الزامات کی تحقیقات اور احتساب کے لیے قانونی عمل کی حمایت کا اعادہ کیا جبکہ فلسطینی عوام کی انسانی امداد جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

برطانوی حکومت نے اس معاملے پر عالمی عدالت انصاف (ICJ) کے فیصلوں اور بین الاقوامی قانونی عمل کی حمایت کا مؤقف بھی دہرایا ہے۔

اسرائیل کا ردعمل اور خطے پر ممکنہ اثرات

برطانیہ کے تازہ اقدامات اسرائیل کے ساتھ اس کے تعلقات میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں۔ لندن کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کا مقصد اسرائیل کے وجود یا اس کے شہریوں کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ غیر قانونی آبادکاری اور ان سرگرمیوں کو روکنا ہے جو فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو متاثر کرتی ہیں۔

برطانوی حکومت کا مؤقف ہے کہ مغربی کنارے میں آبادکاری کی مسلسل توسیع سے ایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے درکار جغرافیائی تسلسل متاثر ہو رہا ہے۔

برطانیہ نے اس اقدام کے ذریعے واضح کیا ہے کہ وہ اسرائیلی آبادکاری کے معاملے پر پہلے کے مقابلے میں زیادہ سخت پالیسی اختیار کرنے جا رہا ہے، جبکہ ساتھ ہی اسرائیل کے وجود کے حق اور فلسطینی ریاست کے قیام دونوں کی حمایت کا مؤقف برقرار رکھا گیا ہے۔

رئیس الاخبار کے لیے خلاصہ: برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا کی درآمد پر پابندی اور آبادکاری میں معاونت کرنے والی کمپنیوں و افراد کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے اسرائیلی قبضے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے دو ریاستی حل کے تحفظ کو اقدام کا بنیادی مقصد قرار دیا۔

 
READ MORE FAQS”

برطانیہ نے اسرائیلی بستیوں کے خلاف کیا اقدام کیا؟

برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے متعلق بعض اشیا کی درآمد اور آبادکاری میں معاونت کرنے والے عناصر کے خلاف پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ نے کیا کہا؟

ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ اسرائیلی آبادکاری کی توسیع دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

کیا کمپنیوں کے خلاف بھی کارروائی ہوگی؟

جی ہاں، برطانیہ نے آبادکاری کے لیے تعمیرات، انفراسٹرکچر، مالی معاونت اور دیگر خدمات فراہم کرنے والے مخصوص عناصر کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

برطانیہ اسرائیل فلسطین تنازع کا کیا حل چاہتا ہے؟

برطانیہ اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:22 AM
طلوع آفتاب05:47 AM
ظہر12:05 PM
عصر03:39 PM
مغرب06:24 PM
عشاء07:49 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6