امریکی سینیٹ میں کرپٹو قانون سازی ناکام، بٹ کوائن کی قیمت میں بھی بڑی کمی

امریکی سینیٹ میں CLARITY Act کی کرپٹو قانون سازی ناکام
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

امریکی سینیٹ میں کرپٹو قانون سازی ناکام، بٹ کوائن کی قیمت میں بھی بڑی کمی

واشنگٹن، 16 ستمبر 2026: امریکا میں کرپٹو کرنسی کے لیے جامع وفاقی ریگولیٹری فریم ورک بنانے کی کوشش کو بڑا دھچکا لگا ہے، جہاں امریکی سینیٹ میں Digital Asset Market Clarity Act کو بحث کے لیے آگے بڑھانے کی مطلوبہ حمایت حاصل نہ ہوسکی۔

بل کو سینیٹ میں آگے بڑھانے کے لیے درکار 60 ووٹ حاصل نہیں ہوسکے، جس کے بعد قانون سازی کا عمل رک گیا۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ ارکان کے درمیان اخلاقیات، بینکاری اور ڈیجیٹل اثاثوں کی نگرانی کے طریقہ کار پر اختلافات دور نہ ہوسکے۔

600 سے زائد صفحات پر مشتمل قانون سازی

بٹ کوائن، سولانا اور XRP کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی نمائشی تصویر
کرپٹو مارکیٹ میں مندی کے باعث بٹ کوائن، سولانا اور XRP دباؤ کا شکار ہیں۔

CLARITY Act 600 سے زائد صفحات پر مشتمل کرپٹو قانون سازی تھی، جس کا مقصد امریکا میں ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے ایک جامع وفاقی نظام قائم کرنا تھا۔

مجوزہ قانون کے تحت کرپٹو مارکیٹ کی نگرانی کا اختیار بڑی حد تک Securities and Exchange Commission (SEC) اور Commodity Futures Trading Commission (CFTC) کے درمیان تقسیم کیا جانا تھا۔

اس کرپٹو قانون سازی کا مقصد مختلف ادوار میں وفاقی اداروں کی جانب سے اختیار کیے گئے مختلف ریگولیٹری طریقہ کار کی جگہ ایک زیادہ واضح قانونی فریم ورک فراہم کرنا تھا۔

ٹرمپ کے کرپٹو کاروباری مفادات بھی تنازع کا مرکز

بل پر اتفاق نہ ہونے کی بڑی وجوہات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے خاندان کے کرپٹو کاروباری مفادات سے متعلق اخلاقی تحفظات بھی شامل تھے۔

میساچوسٹس سے ڈیموکریٹ سینیٹر الزبتھ وارن نے بل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس میں امریکی خاندانوں، قومی سلامتی اور معیشت کے لیے بڑے خطرات موجود ہیں۔

ڈیموکریٹس نے مؤقف اختیار کیا کہ مجوزہ اخلاقی حفاظتی اقدامات میں اب بھی ایسی خامیاں موجود ہیں جو صدر اور دیگر حکام کے ذاتی کرپٹو مفادات سے متعلق ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ کو مکمل طور پر نہیں روکتیں۔

ریپبلکنز کا مؤقف

GPT-6 Astra نے ARC-AGI-3 بینچ مارک میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا
GPT-6 Astra نے ARC-AGI-3 میں انسانی معیار کے مقابلے میں زیادہ مؤثر کارکردگی دکھائی۔

دوسری جانب ریپبلکن سینیٹر سنتھیا لومیِس، جو قانون سازی کی اہم معماروں میں شامل ہیں، نے بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ آخری مسودے میں ڈیموکریٹس کی جانب سے تجویز کردہ 120 سے زائد تبدیلیاں شامل کی گئی تھیں۔

ان کے مطابق بل کو مسترد کرنے کا مطلب سیاست دانوں کی ذاتی سرمایہ کاری سے متعلق حقیقی اخلاقی اصلاحات کی مخالفت اور امریکی ڈیجیٹل اثاثہ مارکیٹ میں صارفین کے تحفظ کے امکانات کو محدود کرنا ہوگا۔

کمیونٹی بینکوں کو بھی اعتراضات

کرپٹو قانون سازی کے ایک اور حصے پر امریکی کمیونٹی بینکوں نے سخت تحفظات کا اظہار کیا۔

بینکوں نے خاص طور پر stablecoin holdings پر rewards سے متعلق دفعات کی مخالفت کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایسی سہولیات روایتی بینکوں سے صارفین کے ڈپازٹس کو کرپٹو پلیٹ فارمز کی جانب منتقل کرسکتی ہیں، جس سے کسانوں اور چھوٹے کاروباروں کے لیے قرضوں کی دستیابی متاثر ہوسکتی ہے۔

کئی ریپبلکن سینیٹرز نے بھی ان دفعات پر تشویش ظاہر کی، جس سے بل کے لیے مطلوبہ حمایت حاصل کرنا مزید مشکل ہوگیا۔

وائٹ ہاؤس کی حمایت کے باوجود قانون سازی ناکام

PTA نے ONIC کی نئی SIM اور eSIM ایکٹیویشن روک دی
PTA نے ONIC کے موجودہ ماڈل کو MVNO فریم ورک کے تحت قرار دیتے ہوئے نئی سیلز اور ایکٹیویشنز روکنے کا حکم دے دیا۔

امریکی وائٹ ہاؤس نے CLARITY Act کی حمایت کی تھی اور کرپٹو کو عالمی ٹیکنالوجی کی دوڑ کا حصہ قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ امریکا کو ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے میں عالمی مسابقت میں پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔

کرپٹو صنعت نے بھی قانون سازی کے لیے بھرپور لابنگ کی، تاہم کئی ماہ تک جاری مذاکرات کے باوجود ریپبلکن اور ڈیموکریٹس کسی ایسے سمجھوتے تک نہیں پہنچ سکے جو سینیٹ میں مطلوبہ ووٹ حاصل کرسکتا۔

کرپٹو قانون سازی اب کب آگے بڑھے گی؟

رپورٹ کے مطابق 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات قریب آنے اور کانگریس کے موجودہ کیلنڈر میں محدود وقت باقی ہونے کے باعث کرپٹو قانون سازی کے رواں کانگریس میں آگے بڑھنے کے امکانات محدود ہوگئے ہیں۔

اگر موجودہ عمل آگے نہ بڑھ سکا تو معاملہ نئی کانگریس کے قیام تک مؤخر ہوسکتا ہے۔

بٹ کوائن کی قیمت میں تقریباً 5 فیصد کمی

امریکی سینیٹ میں کرپٹو قانون سازی کی ناکامی کے بعد کرپٹو مارکیٹ میں بھی دباؤ دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی بٹ کوائن کی قیمت منگل کو تقریباً 5 فیصد گر کر 75,039 ڈالر تک پہنچ گئی۔

CLARITY Act کی ناکامی امریکا میں ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے جامع وفاقی قانون بنانے کی کوششوں میں ایک اہم رکاوٹ ہے، تاہم اس کے بعد قانون سازی کی آئندہ سمت کا انحصار کانگریس میں سیاسی مذاکرات اور نئی قانون سازی کی کوششوں پر ہوگا۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: امریکی سینیٹ میں کرپٹو بل کیوں ناکام ہوا؟
جواب: ریپبلکن اور ڈیموکریٹ سینیٹرز کے درمیان اخلاقیات، بینکاری اور کرپٹو مارکیٹ کی ریگولیشن سمیت مختلف معاملات پر اختلافات دور نہ ہوسکے، جس کے باعث بل کو آگے بڑھانے کے لیے مطلوبہ 60 ووٹ حاصل نہیں ہوئے۔

سوال 2: CLARITY Act کیا تھا؟
جواب: Digital Asset Market Clarity Act ایک مجوزہ امریکی قانون تھا جس کا مقصد ڈیجیٹل اثاثوں اور کرپٹو مارکیٹ کے لیے زیادہ جامع وفاقی ریگولیٹری فریم ورک قائم کرنا تھا۔

سوال 3: CLARITY Act کے تحت کرپٹو مارکیٹ کی نگرانی کس کے پاس ہونی تھی؟
جواب: مجوزہ قانون کے تحت نگرانی کا اختیار بڑی حد تک Securities and Exchange Commission (SEC) اور Commodity Futures Trading Commission (CFTC) کے درمیان تقسیم کیا جانا تھا۔

سوال 4: کرپٹو بل کی ناکامی کے بعد بٹ کوائن کی قیمت کیا رہی؟
جواب: فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق منگل کو بٹ کوائن کی قیمت تقریباً 5 فیصد کم ہوکر 75,039 ڈالر تک آگئی۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:28 AM
طلوع آفتاب05:52 AM
ظہر12:03 PM
عصر03:34 PM
مغرب06:14 PM
عشاء07:38 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6