سپریم کورٹ سے ضمانت کے چند گھنٹے بعد ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ دوبارہ گرفتار
اسلام آباد، 18 ستمبر 2026: سپریم کورٹ کی جانب سے سزائیں معطل کرکے ضمانت پر رہائی کا حکم دیے جانے کے چند گھنٹے بعد وکیل ایمان زینب مزاری حضر اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو ایک دوسرے مقدمے میں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔
دونوں کو اسلام آباد پولیس نے اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد ایک مقدمے میں گرفتار کیا اور بعد ازاں انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) میں پیش کیا، جہاں عدالت نے پولیس کی جانب سے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے دونوں کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

اے ٹی سی جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے اپنے حکم میں قرار دیا کہ مقدمے کی ایف آئی آر میں دونوں کو غیر قانونی اجتماع کا حصہ ہونے کا الزام لگایا گیا ہے، تاہم ایف آئی آر کے مندرجات میں ان کے قبضے سے کسی ہتھیار کا ذکر نہیں۔ عدالت نے پولیس کی 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کردی۔
عدالت نے دونوں کو یکم اکتوبر 2026 کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا جبکہ تفتیشی افسر کو مقررہ مدت میں چالان پیش کرنے کی ہدایت کی۔
سپریم کورٹ نے کیا حکم دیا تھا؟
اس سے چند گھنٹے قبل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ، جس میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے سوشل میڈیا پوسٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزاؤں پر عملدرآمد معطل کرتے ہوئے دونوں کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔
عدالت نے دونوں کے لیے 2 لاکھ روپے فی کس کے ذاتی ضمانتی مچلکے مقرر کیے اور انہیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت اپیلوں کے حتمی فیصلے تک ضمانت پر رہائی دینے کا حکم دیا تھا۔
ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ دوبارہ گرفتاری کس مقدمے میں ہوئی؟
ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ دوبارہ گرفتاری اسلام آباد کے کوہسار تھانے میں درج ایک الگ مقدمے میں ہوئی۔ یہ مقدمہ 22 مارچ 2025 کو سٹی مجسٹریٹ غلام مرتضیٰ چانڈیو کی شکایت پر درج کیا گیا تھا۔

ایف آئی آر میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ پر مبینہ طور پر حکومت مخالف نعرے لگانے اور سڑکیں بلاک کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ مقدمے کے اندراج کے وقت اس میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل نہیں تھیں۔
17 سال قید کی سزا کا معاملہ
24 جنوری 2026 کو اسلام آباد کی سیشن عدالت نے سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق مقدمے میں دونوں کو مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
سپریم کورٹ نے 17 ستمبر کو اس سزا پر عملدرآمد معطل کرتے ہوئے دونوں کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ کیس میں ان کی اپیلیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت ہیں۔
ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ دوبارہ گرفتاری کے بعد اب دونوں کو ایک الگ مقدمے میں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پوسٹس کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے معطل کی گئی سزا اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت اپیلیں اپنی جگہ برقرار ہیں۔
اسلام آباد ایمان مزاری ہادی چٹھہ کی اڈیالہ جیل سے رہائی کا معاملہ
ایس ایس پی آپریشنز پولیس نفری کے ہمراہ اڈیالہ جیل پہنچ گئے
اسلام آباد پولیس کی مختلف تھانوں کے ایس ایچ اوز بھی اڈیالہ جیل کے باہر موجود زرائع
ایس ایس پی آپریشن 10 گاڑیوں میں نفری لیکر اڈیالہ جیل پہنچے… pic.twitter.com/jjKqSBxkEu
— Shakeel Qarar (@Qarar009) September 17, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو دوبارہ کیوں گرفتار کیا گیا؟
جواب: دونوں کو کوہسار تھانے میں درج ایک الگ مقدمے میں دوبارہ گرفتار کیا گیا، جس میں ان پر مبینہ طور پر حکومت مخالف نعرے لگانے اور سڑکیں بلاک کرنے کے الزامات ہیں۔
سوال 2: سپریم کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے بارے میں کیا حکم دیا تھا؟
جواب: سپریم کورٹ نے سوشل میڈیا پوسٹس کیس میں ان کی سزائیں معطل کرتے ہوئے 2 لاکھ روپے فی کس کے ضمانتی مچلکوں پر رہائی کا حکم دیا تھا۔
سوال 3: اسلام آباد اے ٹی سی نے دوبارہ گرفتاری کے بعد کیا فیصلہ دیا؟
جواب: عدالت نے پولیس کی 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے دونوں کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
سوال 4: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو دوبارہ عدالت میں کب پیش کیا جائے گا؟
جواب: اسلام آباد اے ٹی سی کے حکم کے مطابق دونوں کو یکم اکتوبر 2026 کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔






