وزیراعظم کا دورہ امریکہ: آئی ایم ایف، یورپی یونین اور شام کے صدر سے اہم ملاقاتیں، سرمایہ کاری کی دعوت

وزیراعظم کا دورہ امریکہ — شہباز شریف نیویارک میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کرتے ہوئے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

وزیراعظم کا دورہ امریکہ — معاشی اصلاحات، سرمایہ کاری اور عالمی روابط پر اہم ملاقاتیں

وزیراعظم کا دورہ امریکہ پاکستان کی خارجہ اور معاشی حکمتِ عملی کے اعتبار سے ایک اہم موقع ثابت ہوا، جس کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نیویارک میں متعدد عالمی رہنماؤں، اداروں کے سربراہان، کاروباری شخصیات اور نوجوانوں سے ملاقاتیں کیں۔ یہ دورہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ہوا، جو ہر سال عالمی رہنماؤں کے لیے دوطرفہ اور کثیرالجہتی روابط بڑھانے کا اہم پلیٹ فارم ثابت ہوتا ہے۔

کاروباری شخصیات اور نوجوانوں سے ملاقاتیں

نیویارک میں مقیم پاکستانی نژاد کاروباری شخصیات، جن کا تعلق انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، آٹو موبائل، توانائی اور تعمیرات جیسے شعبوں سے ہے، سے وزیراعظم نے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے ان افراد کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کاروباری شخصیات کو ملک کا سفیر قرار دیا، جو دنیا بھر میں اپنی محنت اور کامیابیوں کے ذریعے پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایف بی آر میں کی گئی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان اقدامات کا مقصد کاروباری برادری کو درپیش مسائل کا حل تلاش کرنا ہے، جبکہ زرعی شعبے میں جدت اور ترقی کے لیے بھی ترجیحی بنیادوں پر کام جاری ہے۔

اسی سلسلے میں امریکہ میں مقیم پاکستانی نوجوانوں کے ایک وفد سے بھی ملاقات ہوئی، جس میں صحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سماجی کاروبار اور مختلف یوتھ تنظیموں سے وابستہ پروفیشنلز شامل تھے۔ وزیراعظم نے نوجوانوں کو پاکستان کی ترقی میں فعال کردار ادا کرنے کی دعوت دی اور کہا کہ بیرونِ ملک مقیم باصلاحیت پاکستانی نوجوان پوری قوم کے لیے فخر کا باعث ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور جدید ہنر کی تعلیم کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ پنجاب میں شروع کیا گیا لیپ ٹاپ اسکیم، وظائف اور دانش اسکولز کا پروگرام بطور وزیراعظم بھی جاری رکھا جا رہا ہے، جبکہ معاشی طور پر کمزور طلبہ کے لیے عالمی معیار کی دانش یونیورسٹی کے قیام پر بھی کام جاری ہے۔

آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر سے ملاقات

وزیراعظم کا دورہ امریکہ کا ایک اہم پہلو آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات رہی۔ اس ملاقات میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری اصلاحاتی پروگرام، آئندہ جائزے، معاشی استحکام اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم نے آئی ایم ایف کی مسلسل معاونت کو سراہتے ہوئے حکومت کے اقتصادی اصلاحات کے ایجنڈے پر عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے مالیاتی نظم و ضبط، بیرونی مالیاتی ذخائر میں بہتری، سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی، قومی ٹیرف نظام میں اصلاحات، محصولات میں اضافے اور نجکاری کے عمل میں پیش رفت کو حکومتی معاشی پالیسی کے اہم ستون قرار دیا۔

کرسٹالینا جارجیوا نے پاکستان کی کارکردگی اور معاشی استحکام کے لیے حکومتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں ٹھوس نتائج سامنے آ رہے ہیں، جو پاکستان کے معاشی سفر کے لیے حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔

یورپی یونین کی قیادت سے ملاقات

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے یورپی کونسل کے صدر انتونیو لوئس سانتوس دا کوستا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلا گرتروڈ وان ڈیر لیین سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات، تجارت، معاشی تعاون اور علاقائی و عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔

وزیراعظم نے پاکستان اور یورپی یونین کے مابین وسیع البنیاد شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے اور اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان پر مکمل عملدرآمد کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے جی ایس پی پلس اسکیم کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سہولت پاکستان کی معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور یورپی منڈیوں کے ساتھ تجارت کے فروغ کے لیے نہایت اہم ہے۔

ملاقات میں مذاکرات، سفارت کاری، بین الاقوامی قانون اور تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت پر بھی اتفاق کیا گیا، جبکہ وزیراعظم نے یورپی کونسل اور یورپی کمیشن کے صدور کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔

شام کے صدر سے ملاقات

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے شام کے صدر احمد الشرع سے بھی ملاقات کی۔ وزیراعظم نے شام کے ساتھ پاکستان کے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے شام کی خودمختاری، اتحاد، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔

دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے فروغ، اعلیٰ سطحی روابط، ادارہ جاتی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے شام کی تعمیرِ نو اور معاشی بحالی میں پاکستان کے عملی تعاون کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔

اسی گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورتحال پر بھی بات چیت کی، جبکہ وزیراعظم نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور مسئلہ فلسطین کے منصفانہ و پائیدار حل کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔

 

دورے میں شریک اعلیٰ حکام

وزیراعظم کے دورہ امریکہ کے دوران ہونے والی ملاقاتوں میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، مشیر برائے نجکاری محمد علی، معاون خصوصی طارق فاطمی، رانا مشہود احمد خان، معاون خصوصی بلال بن ثاقب، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار، امریکہ میں پاکستانی سفیر رضوان احمد شیخ سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

دورے کی مجموعی اہمیت

وزیراعظم کا دورہ امریکہ پاکستان کی سفارتی اور معاشی حکمتِ عملی کے کئی پہلوؤں کو ایک ساتھ آگے بڑھانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ایک طرف آئی ایم ایف اور یورپی یونین جیسے عالمی اداروں کے ساتھ معاشی تعاون مضبوط کیا گیا، تو دوسری طرف بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کاروباری برادری اور نوجوانوں کو ملکی ترقی میں شریک کرنے کی کوششیں بھی جاری رہیں۔ شام کے صدر سے ملاقات نے پاکستان کی خطے میں سفارتی سرگرمی اور برادرانہ تعلقات کو بھی اجاگر کیا۔

مجموعی طور پر یہ دورہ حکومت کی جانب سے معاشی استحکام، سرمایہ کاری کے فروغ اور عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے۔

Read more fAQs

س: وزیراعظم کا دورہ امریکہ کس موقع پر ہوا؟
ج: یہ دورہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر نیویارک میں ہوا۔

س: وزیراعظم نے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر سے کیا گفتگو کی؟
ج: ملاقات میں پاکستان کے جاری اصلاحاتی پروگرام، آئندہ جائزے، معاشی استحکام اور تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا، اور کرسٹالینا جارجیوا نے حکومتی کوششوں کو سراہا۔

س: یورپی یونین کی قیادت سے ملاقات میں کیا زیرِ بحث آیا؟
ج: تجارت، معاشی تعاون، جی ایس پی پلس کی اہمیت اور اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان پر عملدرآمد جیسے موضوعات زیرِ بحث آئے۔

س: شام کے صدر سے ملاقات کا مقصد کیا تھا؟
ج: دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری اور شام کی تعمیرِ نو میں پاکستان کے تعاون پر گفتگو کے علاوہ شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے حمایت کا اظہار کیا گیا۔

س: نوجوانوں سے ملاقات میں کیا پیغام دیا گیا؟
ج: وزیراعظم نے نوجوانوں کو پاکستان کی ترقی میں فعال کردار ادا کرنے کی دعوت دی اور آئی ٹی و مصنوعی ذہانت کی تعلیم کے فروغ سے متعلق حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا۔

س: دورے میں کن اعلیٰ حکام نے شرکت کی؟
ج: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سمیت دیگر اعلیٰ سفارتی و حکومتی حکام دورے میں شریک رہے۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:34 AM
طلوع آفتاب05:57 AM
ظہر12:00 PM
عصر03:27 PM
مغرب06:03 PM
عشاء07:26 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6