عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع سے ملاقات، مکہ دفاعی معاہدے کے تحت تعاون جاری رکھنے پر اتفاق
ریاض، 26 ستمبر 2026: چیف آف آرمی اسٹاف اور کمانڈر ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ریاض میں ملاقات کی، جس میں پاک سعودی دفاعی تعاون، خطے کی سکیورٹی صورتحال اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت آئندہ کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سعودی وزارت دفاع کے مطابق ملاقات میں دونوں جانب سے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کے چیفس آف اسٹاف کے حالیہ اجلاس کے نتائج کا خیرمقدم کیا گیا اور اس معاہدے کے تحت ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔

مکہ دفاعی معاہدے کے تحت تعاون جاری رکھنے پر اتفاق
سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے دائرہ کار میں تعاون اور مشترکہ اقدامات جاری رکھیں گے۔
اس سے قبل سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے عسکری سربراہان نے ریاض میں اجلاس کیا تھا، جس میں تینوں ممالک نے دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون مزید بڑھانے اور دفاعی صلاحیتوں کے انضمام پر اتفاق کیا تھا۔ اجلاس میں سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔
مکہ مکرمہ اور سعودی تنصیبات پر حملوں پر گفتگو
عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع سے ملاقات میں مکہ مکرمہ اور سعودی عرب میں شہری و اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حالیہ حملوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔
سعودی وزارت دفاع کے مطابق فریقین نے ایسے حملوں اور خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع سے ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی عرب نے حالیہ دنوں میں حوثیوں کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافے کی اطلاع دی ہے۔ سعودی قیادت کے مطابق ملک کے دفاعی نظام نے متعدد حملوں کو ناکام بنایا ہے۔

سعودی اور پاکستانی حکام کی شرکت
عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع سے ملاقات میں سعودی وزیر مملکت، رکن مجلس وزرا اور قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر مساعد بن محمد العیبان، چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض بن حامد الرویلی اور وزیر دفاع کے انٹیلی جنس امور کے مشیر ہشام بن عبدالعزیز بن سیف سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا ہے؟
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان 7 اگست 2026 کو طے پایا تھا۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے دفاعی تعاون بڑھانے اور اجتماعی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
معاہدے میں یہ اصول شامل ہے کہ تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اگست کے آخر میں استنبول میں معاہدے کے تحت اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پہلے اجلاس میں اس کے عملی نفاذ اور سعودی عرب میں سیکریٹریٹ کے قیام سے متعلق اقدامات بھی طے کیے گئے تھے۔
ریاض میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور شہزادہ خالد بن سلمان کی حالیہ ملاقات کو اسی معاہدے کے تحت دفاعی تعاون کو عملی شکل دینے کے سلسلے کی ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ سعودی عرب کو درپیش موجودہ سکیورٹی صورتحال بھی گفتگو کا اہم حصہ رہی۔
HRH Khalid bin Salman bin Abdulaziz, Minister of Defence, Kingdom of Saudi Arabia met Field Marshal Syed Asim Munir, NI (M), HJ, Chief of Army Staff and Chief of Defence Forces (COAS & CDF) of Pakistan
During the meeting, there was praise for the outcomes of the meeting of… pic.twitter.com/5aqIDQqkfz
— Pakistan Armed Forces News 🇵🇰 (@PakistanFauj) September 26, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سعودی وزیر دفاع سے کہاں ملاقات کی؟
جواب: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ریاض میں ملاقات کی۔
سوال 2: عاصم منیر اور خالد بن سلمان کی ملاقات میں کیا بات ہوئی؟
جواب: ملاقات میں پاک سعودی دفاعی تعاون، علاقائی سکیورٹی صورتحال اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سوال 3: مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں کون سے ممالک شامل ہیں؟
جواب: مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ شامل ہیں۔
سوال 4: مکہ دفاعی معاہدے کا بنیادی مقصد کیا ہے؟
جواب: معاہدے کا مقصد رکن ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، مشترکہ اقدامات اور اجتماعی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔




