حرمین شریفین پاکستان کی ریڈ لائن، شہباز شریف کی اقوام متحدہ کی تقریر کا کلپ ٹرمپ نے بھی Truth Social پر شیئر کردیا
نیویارک، 26 ستمبر 2026: وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حرمین شریفین پاکستان کے لیے ریڈ لائن ہیں اور ان کی حرمت و سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل
یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی مذمت کی۔
وزیراعظم کے خطاب کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شہباز شریف کی تقریر کا ایک 87 سیکنڈ کا کلپ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر شیئر کیا۔ شیئر کی گئی ویڈیو کے ساتھ ٹرمپ نے کوئی الگ تبصرہ نہیں لکھا۔
ٹرمپ نے شہباز شریف کی تقریر کا کلپ شیئر کردیا
ٹرمپ کی جانب سے شیئر کیے گئے کلپ میں شہباز شریف نے 2025 کی پاکستان بھارت کشیدگی کا ذکر کیا اور امریکی صدر کی مبینہ “بروقت مداخلت” کو سراہا۔
شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس وقت دو ایٹمی طاقتیں بڑے تصادم کے قریب تھیں اور ٹرمپ کی مداخلت نے مزید کشیدگی اور جانی نقصان کو روکنے میں کردار ادا کیا۔
شہباز شریف کی تقریر کے کلپ میں وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کا بھی ذکر کیا اور پاکستان کی مسلح افواج کے کردار کو سراہا۔

بھارت کی جانب سے اس معاملے پر مختلف مؤقف اختیار کیا جاتا رہا ہے۔ نئی دہلی کا کہنا ہے کہ مئی 2025 کی جنگ بندی براہ راست پاک بھارت فوجی رابطے کے بعد ہوئی اور اس میں کسی تیسرے فریق کا کردار نہیں تھا۔
حرمین شریفین پاکستان کی ریڈ لائن ہیں: شہباز شریف
اقوام متحدہ سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کے خلاف حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش نے دنیا بھر کے مسلمانوں میں تشویش پیدا کی۔
شہباز شریف کی تقریر نے واضح کیا کہ حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ بھی مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی مبینہ ڈرون کوشش کی مذمت اور سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور حرمین شریفین کی سلامتی کے لیے حمایت کا اعادہ کرچکی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں سفارت کاری پر زور
شہباز شریف نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے خطے کے ساتھ عالمی معیشت کو بھی متاثر کیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم سمندری راستوں کی سلامتی اور آزادانہ آمدورفت انتہائی اہم ہے۔
وزیراعظم کے مطابق پاکستان نے کشیدگی کے دوران سفارتی کوششیں کیں اور اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے کردار ادا کیا۔
انہوں نے سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، چین اور دیگر ممالک کی امن کوششوں کو بھی سراہا اور کہا کہ موجودہ حالات میں میزائلوں اور ڈرونز کے شور کے درمیان سفارت کاری کی آواز مزید بلند ہونی چاہیے۔
پاک بھارت کشیدگی اور ٹرمپ کا کردار
وزیراعظم نے گزشتہ سال پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی فوجی کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اپنے دفاع کا حق استعمال کیا۔

انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے میں ان کی بروقت مداخلت اہم تھی۔
ٹرمپ نے بھی اقوام متحدہ سے اپنے خطاب میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع سمیت مختلف عالمی تنازعات میں اپنے کردار کا ذکر کیا تھا۔
کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کا مؤقف
شہباز شریف کی تقریر میں جموں و کشمیر کے تنازع کو بھی اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کی جانب دیکھ رہے ہیں اور مسئلے کا منصفانہ حل خطے میں دیرپا امن کے لیے ضروری ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔
سندھ طاس معاہدے پر بھی واضح مؤقف
وزیراعظم نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے کہا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا فیصلہ پاکستان کے نزدیک قانونی بنیاد نہیں رکھتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے، کم کرنے یا اس کا رخ موڑنے کی کوشش کو اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ سندھ طاس کا پانی پاکستان سمیت پورے خطے کے لیے اہم ہے۔
غزہ کی صورتحال پر تشویش
وزیراعظم نے غزہ کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور فلسطینی عوام کے حقِ زندگی اور آزادی کا ذکر کیا۔

انہوں نے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی مخالفت کرتے ہوئے غزہ اور مغربی کنارے میں جاری صورتحال پر عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائی۔
دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا ذکر
شہباز شریف نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک نے اس جنگ میں بھاری انسانی اور معاشی نقصان اٹھایا ہے۔
انہوں نے افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی مبینہ دہشت گرد کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے افغان حکام سے اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا۔
سی پیک اور علاقائی روابط
وزیراعظم نے چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات، سی پیک اور خلیجی و وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعاون کو علاقائی رابطوں اور معاشی ترقی کے لیے اہم قرار دیا۔
انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کی قیادت میں عالمی ترقی، سلامتی، سولرائزیشن اور گورننس سے متعلق اقدامات کو بھی سراہا۔
شہباز شریف کی تقریر میں عالمی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ موجودہ کشیدہ ماحول میں عالمی برادری کو امن کی کوششیں تیز کرنا ہوں گی۔
New media post from Donald J. Trump
( TS: Sep 25 2026, 6:43 PM ET ) pic.twitter.com/kkuZz895uN
— Commentary Donald J. Trump Truth Social Posts On X (@TrumpTruthOnX) September 25, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: شہباز شریف نے اقوام متحدہ سے خطاب میں حرمین شریفین کے بارے میں کیا کہا؟
جواب: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حرمین شریفین پاکستان کے لیے ریڈ لائن ہیں اور ان کی حرمت و سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سوال 2: کیا ٹرمپ نے شہباز شریف کی اقوام متحدہ کی تقریر شیئر کی؟
جواب: جی ہاں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شہباز شریف کی اقوام متحدہ کی تقریر کا 87 سیکنڈ کا کلپ اپنے Truth Social اکاؤنٹ پر شیئر کیا۔
سوال 3: ٹرمپ نے شہباز شریف کی تقریر کا کون سا حصہ شیئر کیا؟
جواب: شیئر کیے گئے کلپ میں شہباز شریف نے 2025 کی پاکستان بھارت کشیدگی کے دوران ٹرمپ کی بروقت مداخلت کا ذکر کرتے ہوئے اسے جنوبی ایشیا میں مزید جانی نقصان روکنے سے جوڑا۔
سوال 4: کیا بھارت نے ٹرمپ کے کردار سے متعلق مؤقف تسلیم کیا ہے؟
جواب: نہیں۔ بھارتی حکام نے 2025 کی جنگ بندی میں امریکی ثالثی کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی کارروائی روکنے کا معاملہ پاکستان اور بھارت کے فوجی حکام کے درمیان براہ راست رابطے کے بعد طے ہوا۔



