افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے طالبان حکومت کے خلاف مسلح کارروائیوں کے پہلے مرحلے کا اعلان کر دیا
افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے افغان طالبان حکومت کے خلاف مسلح کارروائیوں کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے افغانستان کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال میں ایک نئی پیش رفت سامنے لے آئی ہے۔ گروپ کے چیئرمین اور سابق افغان جنرل سمیع سادات نے ویڈیو پیغام میں اعلان کیا کہ طالبان کے خلاف جنگی کارروائیوں کے پہلے مرحلے کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی ہے۔
جنرل سمیع سادات نے اپنے بیان میں کہا کہ ابتدائی مرحلے میں طالبان کے ارکان، عسکری اڈوں اور قیادت کو ہدف بنایا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ کارروائیاں افغانستان میں ایک نئی مزاحمتی تحریک کا حصہ ہیں، جس کا مقصد طالبان حکومت کو چیلنج کرنا اور ملک میں آئینی نظام کی بحالی کی کوشش کرنا ہے۔
انہوں نے افغان فوج کی وردی میں جاری کیے گئے اپنے پیغام میں کہا کہ ان کی جدوجہد صرف طالبان تک محدود نہیں بلکہ القاعدہ، داعش (اسلامک اسٹیٹ)، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر شدت پسند تنظیموں کے خلاف بھی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کو انتہا پسندی اور دہشت گردی سے پاک کرنا ان کی تحریک کا بنیادی ہدف ہے۔
سمیع سادات نے کہا کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے تقریباً پانچ سال بعد یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ مذاکرات کے ذریعے کسی پائیدار سیاسی حل تک پہنچنے کی امیدیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ ان کے مطابق اب افغانستان میں سیاسی تبدیلی کے لیے ایک مختلف حکمت عملی اختیار کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے افغانستان کے اندر موجود شہریوں کے ساتھ ساتھ بیرون ملک مقیم افغان باشندوں سے بھی اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر اس تحریک کا حصہ بنیں۔ ان کے مطابق قومی اتحاد ہی افغانستان کو موجودہ بحران سے نکالنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے سربراہ نے کہا کہ ان کی تنظیم 2004 کے افغان آئین، بین الاقوامی انسانی قانون اور لویہ جرگہ کے اصولوں کے مطابق ایک آزاد، آئینی اور نمائندہ افغانستان کی بحالی کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مستقبل کا سیاسی نظام عوامی رائے اور آئینی اصولوں کے مطابق تشکیل دیا جانا چاہیے۔
اپنے خطاب میں جنرل سمیع سادات نے امریکا، نیٹو اور عالمی برادری سے سیاسی اور مادی تعاون کی اپیل بھی کی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان کی تنظیم افغانستان میں غیر ملکی فوجیوں کی واپسی یا غیر ملکی فوجی اڈوں کے قیام کی حامی نہیں ہے، بلکہ صرف سیاسی، سفارتی اور ضروری معاونت چاہتی ہے۔
افغانستان کی موجودہ صورتحال پہلے ہی مختلف سیاسی، معاشی اور انسانی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے میں کسی نئی مسلح مزاحمتی تحریک کے اعلان سے سکیورٹی صورتحال پر مزید اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس وقت یہ واضح نہیں کہ افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کی عسکری صلاحیت، زمینی موجودگی یا کارروائیوں کی وسعت کس حد تک ہے۔
دوسری جانب، طالبان حکومت کی جانب سے اس اعلان پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ آئندہ دنوں میں طالبان کا مؤقف، زمینی صورتحال اور ممکنہ پیش رفت اس معاملے کی سمت کا تعین کرے گی۔
READ MORE FAQS
1. افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کیا ہے؟
یہ ایک مزاحمتی گروہ ہے جس نے طالبان حکومت کے خلاف مسلح کارروائیوں کا اعلان کیا ہے۔
2. افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کی قیادت کون کر رہا ہے؟
اس گروپ کے چیئرمین سابق افغان جنرل سمیع سادات ہیں۔
3. جنرل سمیع سادات نے کیا اعلان کیا؟
انہوں نے طالبان حکومت کے خلاف مسلح کارروائیوں کے پہلے مرحلے کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے طالبان کے اڈوں، ارکان اور قیادت کو نشانہ بنانے کا کہا۔
4. افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کا مقصد کیا ہے؟
تنظیم کے مطابق اس کا مقصد 2004 کے آئین، بین الاقوامی انسانی قانون اور لویہ جرگہ کے اصولوں کے تحت ایک آزاد اور آئینی افغانستان کی بحالی ہے۔








