آزاد کشمیر انتخابات: قائم مقام صدر لطیف اکبر پر حملے کی اطلاعات، وزیراعظم اور بلاول کی مذمت، پیپلز پارٹی کے سنگین الزامات

آزاد کشمیر کے قائم مقام صدر چوہدری لطیف اکبر پر حملے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

آزاد کشمیر انتخابات: قائم مقام صدر لطیف اکبر پر حملے کی اطلاعات، وزیراعظم اور بلاول کی مذمت، پیپلز پارٹی کے سنگین الزامات

مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے قائم مقام صدر چوہدری لطیف اکبر پر مبینہ حملے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد سیاسی صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے لطیف اکبر پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے بیان میں کہا کہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں جمہوری روایات کو نقصان پہنچا رہی ہے اور ووٹرز سے لے کر ریاست کے قائم مقام صدر تک پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

بلاول بھٹو کو جوائنٹ کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کا جواب موصول
بلاول بھٹو نے جوائنٹ کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے جواب موصول ہونے کی تصدیق کی۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے مظفرآباد ڈویژن میں مبینہ دھونس، دھاندلی اور جبر کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور جمہوری اقدار، رواداری اور اصولی سیاست کے تحت انتخابی عمل میں حصہ لیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آزاد کشمیر کے سینئر سیاست دان اور قائم مقام صدر چوہدری لطیف اکبر پر حملہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ لطیف اکبر پر حملے میں ملوث عناصر کو فوری گرفتار کرکے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے بھی لطیف اکبر پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کی اور واقعے کی مکمل تحقیقات کی ہدایت دی۔

ادھر مظفرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قمر زمان کائرہ نے الزام عائد کیا کہ آزاد کشمیر انتخابات کے پہلے مرحلے پر تحفظات کے باوجود پارٹی نے دوسرے مرحلے میں بھی حصہ لیا، تاہم ایک مرتبہ پھر انتخابی عمل کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ قائم مقام صدر چوہدری لطیف اکبر پر قاتلانہ حملہ کیا گیا جبکہ پارٹی کے ایک اور کارکن کی شہادت کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ انتخابات کے آغاز سے ہی امن و امان کی صورتحال تشویشناک رہی اور مرحلہ وار انتخابات پر بھی پیپلز پارٹی کو تحفظات تھے، تاہم اس کے باوجود جمہوری عمل میں حصہ لیا گیا۔

آزاد کشمیر الیکشن کا دوسرے مرحلا
آزاد کشمیر انتخابات کے دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں پر پولنگ جاری ہے۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ متعدد پولنگ اسٹیشنوں پر انتخابی عمل تاخیر کا شکار رہا، بعض مقامات پر پولنگ عملہ مقررہ وقت سے کئی گھنٹے بعد پہنچا جبکہ کچھ علاقوں میں انتخابی سامان بھی بروقت فراہم نہیں کیا گیا۔

پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ اگر انتخابات کا انعقاد ہی متنازع ہو جائے تو نئی حکومت کی ساکھ متاثر ہوگی۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ آزاد کشمیر کے عوام سے ان کا انتخابی حق چھیننے کی کوشش کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ ان الزامات پر متعلقہ انتخابی حکام یا دیگر فریقین کی جانب سے باضابطہ ردعمل سامنے آنے کی صورت میں خبر کو مزید اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔



 
READ MORE FAQS”

سوال 1: چوہدری لطیف اکبر کون ہیں؟

جواب: چوہدری لطیف اکبر آزاد جموں و کشمیر کے قائم مقام صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما ہیں۔

سوال 2: واقعے پر کس نے مذمت کی؟

جواب: وزیراعظم شہباز شریف، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

سوال 3: پیپلز پارٹی نے کیا مؤقف اختیار کیا؟

جواب: پیپلز پارٹی نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے آزاد کشمیر انتخابات میں مبینہ دھاندلی، انتخابی بے ضابطگیوں اور اپنے کارکن پر حملے کے الزامات عائد کیے۔

سوال 4: کیا حملے کی سرکاری تحقیقات شروع ہو گئی ہیں؟

جواب: حکومتی سطح پر واقعے کی تحقیقات اور رپورٹ طلب کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

متعلقہ خبریں