آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں وفاقی وزارتوں میں اربوں کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف، وزارت داخلہ سب سے زیادہ اعتراضات کی زد میں
اسلام آباد: آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی 399 صفحات پر مشتمل تازہ آڈٹ رپورٹ میں وفاقی وزارتوں، محکموں اور سرکاری اداروں میں مالی بے ضابطگیوں، قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں، سرکاری واجبات کی عدم وصولی اور انتظامی خامیوں کے متعدد انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ آڈٹ اعتراضات وزارت داخلہ و انسدادِ منشیات پر سامنے آئے، جہاں مجموعی طور پر 65 آڈٹ پیراز درج کیے گئے۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں مختلف وزارتوں اور اداروں کے مالی معاملات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے، جس میں قومی خزانے کو ممکنہ نقصان پہنچانے والے متعدد معاملات کی نشاندہی کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے وضاحت اور ذمہ داروں کے تعین کی سفارش کی گئی ہے۔
وزارت داخلہ سرفہرست

آڈٹ رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ اور انسدادِ منشیات سب سے زیادہ اعتراضات کا سامنا کرنے والی وزارت رہی۔ اس کے بعد ہائر ایجوکیشن کمیشن (31)، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (18)، وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق (17)، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی (16)، قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن (12)، پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (12)، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (12)، وزارت قومی صحت (11) اور تعلیم ڈویژن (10) شامل ہیں۔
اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن، وزارت مواصلات، وزارت دفاع، اقتصادی امور ڈویژن، اطلاعات، بین الصوبائی رابطہ، بحری امور، قومی احتساب بیورو، نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی، منصوبہ بندی اور مذہبی امور ڈویژن کے خلاف بھی مختلف نوعیت کے آڈٹ اعتراضات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
بکتر بند گاڑیوں اور سیکیورٹی کمپنیوں سے کروڑوں روپے وصول نہ کیے جا سکے
رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ بکتر بند گاڑیوں کے لیے جاری کیے گئے این او سی کی سالانہ تجدید فیس اور جرمانوں کی مد میں 2 کروڑ 20 لاکھ روپے وصول کرنے میں ناکام رہی۔
اسی طرح نجی سیکیورٹی کمپنیوں سے سالانہ تجدید فیس کی مد میں 2 کروڑ 70 لاکھ روپے بھی وصول نہیں کیے گئے، جسے آڈیٹرز نے قومی خزانے کے لیے نقصان قرار دیا۔
اسلحہ لائسنسوں کی فیس خزانے میں جمع نہ کرانے کا انکشاف
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں ایک اہم انکشاف یہ بھی کیا گیا کہ 3,421 اسلحہ لائسنسوں سے حاصل ہونے والی تقریباً 5 کروڑ 60 لاکھ روپے کی رقم سرکاری خزانے میں جمع ہی نہیں کرائی گئی۔
آڈیٹر جنرل نے اس معاملے کو سنگین قرار دیتے ہوئے اسلحہ لائسنسوں کے مالی ریکارڈ، وصولیوں اور جمع شدہ رقوم کی مکمل جانچ کی سفارش کی ہے۔
کمپیوٹرائزڈ اسلحہ لائسنسوں پر بھی سوالات
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں دستی اسلحہ لائسنسوں کو کمپیوٹرائزڈ نظام میں تبدیل کرنے کے عمل پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ آڈیٹرز کے مطابق اس عمل میں شفافیت کا فقدان دکھائی دیتا ہے، جبکہ ممنوعہ بور ہتھیاروں کے ریکارڈ میں بھی نمایاں تضادات موجود ہیں۔

ڈرائیونگ لائسنس فیس میں منظوری کے بغیر تبدیلی
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد چیف کمشنر آفس نے وزارت خزانہ کی منظوری کے بغیر ڈرائیونگ لائسنس کی فیس اور متعلقہ قواعد میں تبدیلیاں کیں، جسے مالیاتی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
اسی طرح اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کنسولیڈیٹڈ فنڈ قائم نہ کرنے اور چیف کمشنر کی تقرری کے طریقہ کار پر بھی اعتراضات سامنے آئے ہیں۔
وزارت داخلہ کا مؤقف ہے کہ چیف کمشنر کی تعیناتی مقررہ قانونی طریقہ کار کے مطابق کی گئی تھی۔
یونیسیف کے 4 کروڑ روپے کے گرانٹ ریکارڈ پر اعتراض
رپورٹ کے مطابق چیف کمشنر آفس کو بچوں سے مشقت سے متعلق سروے کے لیے یونیسیف کی جانب سے 4 کروڑ روپے کی گرانٹ فراہم کی گئی، تاہم آڈٹ کے دوران فنڈز کی وصولی، بینک اکاؤنٹس، اخراجات اور استعمال سے متعلق مطلوبہ ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔
متعلقہ انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ فنڈز یونیسیف کی پالیسی کے مطابق پنجاب بیورو آف شماریات کے ذریعے استعمال کیے گئے، لیکن آڈیٹرز کا کہنا ہے کہ اس دعوے کی تصدیق کے لیے کوئی دستاویزی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔
منسوخ شدہ وینڈرز کو 29 کروڑ روپے کے اسٹامپ پیپر جاری
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ اسلام آباد لینڈ ریونیو ڈیپارٹمنٹ نے ایسے وینڈرز کو 29 کروڑ روپے مالیت کے اسٹامپ پیپر جاری کیے جن کی رجسٹریشن پہلے ہی منسوخ کی جا چکی تھی۔
اس معاملے کو بھی قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مزید تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے۔

دیگر بے ضابطگیاں بھی سامنے آگئیں
رپورٹ میں اراضی ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن، انتقال فیس، ٹریفک چالان کی وصولیوں، فرنٹیئر کور (ایف سی) پاکستان رینجرز، گلگت بلتستان اسکاؤٹس، نیشنل پولیس فاؤنڈیشن اور اسلام آباد پولیس میں بعض تقرریوں سے متعلق بھی مختلف انتظامی اور مالی اعتراضات درج کیے گئے ہیں۔
اینٹی نارکوٹکس فورس کے ہیلی کاپٹروں پر 1.2 ارب روپے خرچ
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کی جانب سے دو ہیلی کاپٹروں کی اوورہالنگ پر 1.2 ارب روپے خرچ کرنے کے معاملے پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ اخراجات کھلی اور مسابقتی بولی کے بغیر کیے گئے، جس سے شفافیت پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
آڈیٹرز نے سفارش کی ہے کہ اس پورے معاملے کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ خریداری اور اخراجات کے عمل میں کسی قسم کی بے ضابطگی ہوئی یا نہیں اور اگر ہوئی تو اس کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔
رپورٹ میں احتساب اور شفافیت پر زور
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں مجموعی طور پر مالی نظم و ضبط کو بہتر بنانے، سرکاری واجبات کی بروقت وصولی، خریداری کے شفاف نظام، ریکارڈ کی مکمل دستیابی اور قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر ان بے ضابطگیوں کا بروقت تدارک نہ کیا گیا تو نہ صرف قومی خزانے کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے بلکہ سرکاری اداروں میں مالی شفافیت اور احتساب کے نظام پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
مالی سال 2025- 2026 کی آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ
مختلف وفاقی وزارتوں میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف
آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے 23 وزارتوں، محکموں کی رپورٹ جاری کر دی ہے
رپورٹ میں 1900 کے بیرونی قرضے، ارکان اسمبلی کی 75 ارب کی اسکیمیں شامل ہیں، رپورٹ
اراکین… pic.twitter.com/szbWdrMEiM
— Shakir Mehmood Awan (@ShakirAwan88) June 26, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں سب سے زیادہ اعتراضات کس وزارت پر آئے؟
جواب: رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ و انسدادِ منشیات پر سب سے زیادہ، یعنی 65 آڈٹ اعتراضات درج کیے گئے۔
سوال 2: اسلحہ لائسنسوں سے متعلق کیا بے ضابطگی سامنے آئی؟
جواب: 3,421 اسلحہ لائسنسوں سے حاصل ہونے والی تقریباً 5 کروڑ 60 لاکھ روپے کی رقم سرکاری خزانے میں جمع نہ کرانے کی نشاندہی کی گئی۔
سوال 3: اینٹی نارکوٹکس فورس کے بارے میں کیا اعتراض اٹھایا گیا؟
جواب: دو ہیلی کاپٹروں کی اوورہالنگ پر تقریباً 1.2 ارب روپے کھلی مسابقتی بولی کے بغیر خرچ کرنے پر اعتراض کیا گیا۔
سوال 4: یونیسف گرانٹ سے متعلق کیا مسئلہ سامنے آیا؟
جواب: بچوں سے مشقت کے سروے کے لیے ملنے والی 4 کروڑ روپے کی گرانٹ کے اخراجات اور استعمال کا مکمل ریکارڈ آڈٹ کے دوران پیش نہیں کیا جا سکا۔
سوال 5: آڈیٹر جنرل نے کیا سفارش کی؟
جواب: رپورٹ میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات، ذمہ داروں کے تعین، مالی شفافیت بڑھانے اور قواعد کے مطابق اخراجات و وصولیوں کو یقینی بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔






