ایران کا ورلڈ کپ سفر دل توڑ دینے والے انجام پر ختم، آخری لمحوں کے ڈرامے نے ناک آؤٹ مرحلے کا خواب چکنا چور کر دیا، ایرانی کپتان مہدی طارمی کی فیفا پر تنقید
سیئٹل: ایران کی قومی فٹبال ٹیم کا فیفا ورلڈ کپ 2026 کا سفر انتہائی ڈرامائی اور افسوسناک انداز میں اختتام پذیر ہوگیا، جہاں ٹیم گروپ مرحلے میں ناقابل شکست رہنے کے باوجود گول فرق کی بنیاد پر ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنانے سے محروم رہ گئی۔
ایران نے اپنے گروپ کے تینوں میچ برابر کھیلے۔ نیوزی لینڈ اور بیلجیئم کے خلاف ڈرا کے بعد مصر کے خلاف آخری میچ میں فتح ایران کو پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچا سکتی تھی۔
میچ کے دوران ایران ابتدا میں خسارے میں چلا گیا، تاہم رامین رضائیان نے شاندار گول کرکے مقابلہ برابر کردیا۔ اس سے قبل کپتان مہدی طارمی پنالٹی پر گول کرنے میں ناکام رہے۔
میچ کے اختتامی لمحات میں شجاع خلیل زادہ نے گیند جال میں پہنچا کر ایران کو برتری دلائی، جس پر کھلاڑیوں اور شائقین نے بھرپور جشن منایا۔ تاہم ویڈیو اسسٹنٹ ریفری کے جائزے کے بعد معمولی آف سائیڈ کی بنیاد پر گول مسترد کردیا گیا، جس کے بعد مقابلہ 1-1 سے ختم ہوگیا۔

اس نتیجے کے بعد ایران کی نظریں دیگر گروپس کے نتائج پر مرکوز ہوگئیں۔ الجزائر اور آسٹریا کے درمیان میچ میں الجزائر نے اضافی وقت میں برتری حاصل کی، جس سے ایران کی ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی کی امیدیں روشن ہوگئیں، لیکن چند لمحوں بعد آسٹریا نے 96ویں منٹ میں گول کرکے مقابلہ برابر کردیا۔
اس ڈرا کے نتیجے میں ایران گول فرق کی بنیاد پر آخری 32 ٹیموں میں جگہ بنانے سے محروم رہا، جبکہ دیگر ٹیموں نے اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کرلیا۔
ٹورنامنٹ کے بعد ایران کے ہیڈ کوچ امیر قلعہ نویی نے کہا کہ ان کی ٹیم نے غیر معمولی حالات میں بھی بہترین کھیل پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کو تیاری، سفر اور دیگر انتظامی معاملات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس سے کھلاڑیوں کی تیاری متاثر ہوئی۔
انہوں نے فیفا سے مطالبہ کیا کہ آئندہ ورلڈ کپ میں تمام ٹیموں کے ساتھ یکساں سلوک کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی ٹیم کو غیر ضروری انتظامی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
مصر کے خلاف 1-1 سے برابر ہونے والے میچ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مہدی طارمی نے کہا کہ ایرانی لاجسٹک عملے اور میڈیا نمائندوں کو اب تک ویزے جاری نہیں کیے گئے، جس کے باعث ٹیم کو مسلسل مشکلات کا سامنا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر میچ کے بعد دوسرے ملک واپس جانا کسی بھی عالمی معیار کے ٹورنامنٹ کے شایانِ شان نہیں۔
انہوں نے کہا، “ہم میکسیکو کے عوام سے محبت کرتے ہیں، ہمارا مسئلہ صرف سفری انتظامات اور لاجسٹک مسائل ہیں۔ اگر ہمیں ٹورنامنٹ سے باہر کرنا ہے تو کر دیں، لیکن یہ انصاف نہیں۔”
ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے بعد ایرانی کھلاڑیوں نے سیئٹل کے ڈریسنگ روم میں وائٹ بورڈ پر ایک جذباتی پیغام بھی تحریر کیا، جس میں کہا گیا:
“ہم ایران سے آئے ہیں، اس سرزمین سے جہاں ہزاروں برس سے شرافت کو فتح پر ترجیح دی جاتی ہے۔ ہمارے لیے فٹبال صرف نتائج حاصل کرنے کی دوڑ نہیں بلکہ کردار اور وقار کا امتحان بھی ہے۔ شاید پوائنٹس حاصل کیے جا سکتے ہیں، لیکن احترام صرف انصاف اور باوقار کھیل سے ہی ملتا ہے۔”

پیغام میں سیئٹل شہر کی مہمان نوازی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے دنیا بھر میں موجود ایرانی شائقین کے جذبے کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور آخر میں لکھا گیا: “ایران ہمیشہ سربلند رہے گا۔”
رپورٹس کے مطابق ایران کی ٹیم نے ٹورنامنٹ سے قبل بھی متعدد انتظامی اور سفری مشکلات کا سامنا کیا۔ ٹیم نے بعض تربیتی کیمپ ایران کے بجائے ترکی اور میکسیکو میں منعقد کیے، جبکہ کچھ معاون عملے کو ویزے نہ ملنے کے باعث ٹیم کو مکمل سپورٹ میسر نہ آ سکی۔
اگرچہ ایران اگلے مرحلے تک رسائی حاصل نہ کر سکا، تاہم ٹیم کی بھرپور جدوجہد، ناقابل شکست کارکردگی اور آخری لمحوں تک مقابلہ کرنے کے جذبے کو دنیا بھر کے فٹبال شائقین نے سراہا۔
I want PROFESSIONALS to look at Iran's second goal form these TWO angles, and tell me HOW this is offsides
I even slowed down both clips so you can see it in slow motion from the viewer angle and from the TOP.
I am asking to learn, because this one hurt a lot pic.twitter.com/bwwbs6LaCb
— Ryan Rozbiani (@RyanRozbiani) June 27, 2026






