طالبان کے اقتدار کو 5 سال، افغانستان میں خواتین اور عالمی قبولیت کا بحران برقرار

طالبان کے اقتدار کو 5 سال اور خواتین کے حقوق کی صورتحال
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

طالبان کے اقتدار کو 5 سال، افغانستان میں خواتین اور عالمی قبولیت کا بحران برقرار، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے افغانستان میں انسانی حقوق اور خصوصاً خواتین کے حقوق کی صورتحال پر مسلسل تشویش کا اظہار

کابل: افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے پانچ سال بعد بھی ملک کو عالمی سطح پر مکمل سفارتی قبولیت حاصل نہیں ہوسکی، جبکہ خواتین اور لڑکیوں کے حقوق پر عائد پابندیاں مسلسل عالمی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہیں۔

طالبان اگست 2021 میں افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آئے تھے، تاہم پانچ سال گزرنے کے باوجود عالمی برادری کی جانب سے ان کی حکومت کو بڑے پیمانے پر باضابطہ تسلیم نہیں کیا گیا۔ روس واحد ملک ہے جس نے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔

افغان طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کا کہنا ہے کہ افغانستان عالمی سطح پر مکمل طور پر تنہا نہیں ہے اور طالبان حکومت کے 40 سے زائد ممالک کے ساتھ فعال سفارتی روابط موجود ہیں۔ ان کے مطابق بعض ممالک اور عالمی اداروں کے سفارت کار کابل میں موجود ہیں اور طالبان حکام سے ملاقاتیں بھی کرتے ہیں۔

طالبان کے اقتدار کو 5 سال کے دوران عالمی شناخت کے باوجود سفارتی تنہائی

میجر جنرل جواد احمد MINURSO کے فورس کمانڈر مقرر
میجر جنرل جواد احمد کو اقوام متحدہ کے مغربی صحارا مشن MINURSO کا نیا فورس کمانڈر مقرر کردیا گیا۔

کابل میں سابق امریکی سفارتخانہ بدستور بند ہے جبکہ کئی دیگر ممالک نے بھی افغانستان میں مستقل سفارتی موجودگی قائم نہیں کی۔ تاہم یورپی یونین اور برطانیہ سمیت بعض ممالک کے نمائندے کابل کا دورہ کرتے اور طالبان حکام سے رابطے میں رہتے ہیں۔

امیر خان متقی نے عالمی پابندیوں اور سفارتی شناخت کے حوالے سے مؤقف اختیار کیا کہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جانے سے لازمی طور پر پابندیاں ختم نہیں ہوتیں اور یہ فیصلہ بڑی طاقتوں کے سیاسی فیصلوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے افغانستان میں انسانی حقوق، خصوصاً خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کی صورتحال پر مسلسل تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

طالبان کے اقتدار کو 5 سال کے دوران خواتین اور لڑکیوں کے حقوق پر سخت پابندیاں

اقوام متحدہ کی خواتین کے ادارے UN Women کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد خواتین اور لڑکیوں کے خلاف 100 سے زائد احکامات اور پابندیاں نافذ کی جاچکی ہیں، جنہوں نے تعلیم، روزگار، صحت، نقل و حرکت، عدالتی تحفظ اور عوامی زندگی میں خواتین کی شرکت کو شدید متاثر کیا ہے۔

UN Women کے مطابق افغانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لڑکیوں کے ہائی اسکول اور خواتین کی یونیورسٹی تعلیم پر منظم پابندی برقرار ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو 2030 تک افغانستان میں 25 ہزار سے زائد خواتین اساتذہ اور صحت کے شعبے سے وابستہ کارکنوں کی کمی ہوسکتی ہے۔

طالبان کے اقتدار کو 5 سال کے دوران خواتین کی نقل و حرکت بھی محدود

UN Women کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق افغانستان میں نصف سے زائد خواتین نے بتایا کہ وہ ماہانہ صرف دو مرتبہ یا اس سے بھی کم گھر سے باہر نکلتی ہیں۔

بلوچستان کے وزیرِ داخلہ میر ضیاء لانگو کے قافلے پر حملہ
مستونگ میں بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء لانگو کے قافلے پر حملے کے بعد سیکیورٹی اہلکار علاقے میں موجود ہیں۔

تقریباً تین چوتھائی خواتین نے ادارے کو بتایا کہ وہ مرد سرپرست یا محرم کے بغیر گھر سے باہر نکلتے ہوئے خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں، جبکہ متعدد خواتین بازاروں اور صحت مراکز سمیت عوامی مقامات سے گریز کرتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مسلسل نگرانی اور پابندیوں کے باعث خواتین اور لڑکیوں میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔

طالبان کے اقتدار کو 5 سال کے دوران صحت اور ذہنی صحت کا بحران

خواتین کی نقل و حرکت اور صحت کی سہولیات تک رسائی محدود ہونے کے باعث افغانستان میں خواتین کے لیے صحت کا بحران بھی سنگین ہوتا جارہا ہے۔

UN Women کے مطابق 10 میں سے 7 افغان خواتین اپنی ذہنی صحت کو خراب یا انتہائی خراب قرار دیتی ہیں۔ خواتین اور لڑکیوں میں بے چینی، مایوسی اور ذہنی دباؤ میں اضافے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

افغانستان میں پہلے ہی زچگی کے دوران خواتین کی اموات کی شرح دنیا میں بلند ترین شرحوں میں شامل ہے۔

طالبان کے اقتدار کو 5 سال کے دوران خواتین روزگار سے بھی دور

افغانستان میں خواتین کی معاشی شمولیت بھی انتہائی کم ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق صرف تقریباً 7 فیصد خواتین روزگار سے وابستہ ہیں، جبکہ مردوں میں یہ شرح 84 فیصد ہے۔

رپورٹ کے مطابق خواتین کو تعلیم اور روزگار سے مسلسل دور رکھنے کے نتیجے میں 2024 سے 2026 کے دوران افغانستان کی معیشت کو مجموعی طور پر تقریباً 920 ملین ڈالر کا نقصان ہونے کا تخمینہ ہے۔

طالبان کے اقتدار کو 5 سال کے دوران انسانی بحران میں اضافہ

پنجگور آپریشن میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی
پنجگور میں سکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی، 5 دہشتگرد ہلاک۔

افغانستان میں جاری انسانی بحران نے بھی خواتین اور لڑکیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ 2026 میں 10.7 ملین سے زائد خواتین اور لڑکیوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔

ایران اور پاکستان سے واپس آنے والے افغان شہریوں کی تعداد میں اضافے نے بھی مقامی آبادی اور محدود وسائل پر دباؤ بڑھایا ہے۔

UN Women کے مطابق ایران اور پاکستان سے واپس آنے والی افغان خواتین میں پانچ میں سے ایک سے بھی کم خواتین آمدنی حاصل کرنے کے قابل ہیں، جس کے باعث واپس آنے والے خاندانوں میں قرض اور غذائی عدم تحفظ کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔

طالبان کے اقتدار کو 5 سال کے دوران عالمی امداد میں کمی بھی بڑا چیلنج

افغان خواتین کی مدد کرنے والی تنظیمیں بھی مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ UN Women کے مطابق 2025 میں افغانستان میں سروے کی گئی تقریباً تین چوتھائی خواتین کی قیادت میں چلنے والی تنظیموں کو فنڈنگ میں کمی کا سامنا کرنا پڑا۔

ان میں سے نصف سے زائد تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو وہ اگلے ایک سال میں اپنی سرگرمیاں معطل یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہوسکتی ہیں۔

طالبان کے اقتدار کو 5 سال ہوگئے اگرچہ کچھ ممالک اور عالمی اداروں کے ساتھ سفارتی روابط حاصل ہیں، لیکن مکمل عالمی قبولیت کا مسئلہ بدستور برقرار ہے۔ دوسری جانب خواتین اور لڑکیوں پر پابندیوں، انسانی بحران اور معاشی مشکلات نے افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے عالمی سطح پر سوالات مزید گہرے کردیے ہیں۔

 
READ MORE FAQS”

طالبان کو اقتدار میں واپس آئے کتنے سال ہوگئے؟
اگست 2026 میں طالبان کے افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آنے کو پانچ سال مکمل ہوگئے ہیں۔

کیا طالبان حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے؟
روس واحد ملک ہے جس نے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے، جبکہ کئی دیگر ممالک طالبان کے ساتھ سفارتی روابط رکھتے ہیں۔

افغانستان میں خواتین کو کن پابندیوں کا سامنا ہے؟
خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم، روزگار، نقل و حرکت، عوامی زندگی اور بعض بنیادی خدمات تک رسائی میں سخت پابندیوں کا سامنا ہے۔

افغانستان میں خواتین کی تعلیم کی صورتحال کیا ہے؟
افغانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لڑکیوں کے ہائی اسکول اور خواتین کی یونیورسٹی تعلیم پر منظم پابندی برقرار ہے۔

متعلقہ خبریں