بلوچستان حملے: بھارت ملوث، ڈی جی آئی ایس پی آر کا بڑا دعویٰ

بلوچستان حملوں پر ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری کی نیوز کانفرنس
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ڈی جی آئی ایس پی آر: بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کے پیچھے بھارت، 4 روز میں 54 دہشت گرد ہلاک

بلوچستان حملے ایک بار پھر قومی سلامتی کا اہم موضوع بن گئے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے پیچھے بھارت ہے، جسے پاکستان کا امن، استحکام اور خوشحالی قبول نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چار روز کے دوران بلوچستان میں دہشت گردی کے تین بڑے واقعات پیش آئے۔ ان کارروائیوں میں مجموعی طور پر 42 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جوابی کارروائیوں میں 54 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق زیارت میں ہونے والے حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے بھرپور آپریشن کرتے ہوئے کم از کم 15 دہشت گردوں کو ہلاک کیا، جبکہ دیگر حملہ آور اپنی لاشیں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔

انہوں نے بتایا کہ منگی ڈیم، جہاں سے کوئٹہ کے شہریوں کو پانی فراہم کیا جاتا ہے، 6 جولائی کو دہشت گردوں کے حملے کا نشانہ بھی بنا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا مقصد صرف انسانی جانوں کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ عوامی انفراسٹرکچر اور بنیادی سہولیات کو بھی متاثر کرنا تھا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں این-25 شاہراہ پر جھاو کراس اور کرارو کے درمیان انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کیا گیا، جہاں مسلح دہشت گرد مبینہ طور پر سڑک بلاک کرکے مسافروں اور مقامی افراد سے بھتہ وصول کر رہے تھے۔ بروقت کارروائی کے نتیجے میں 19 دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، تاہم اس کارروائی میں 11 سیکیورٹی اہلکار بھی وطن کے دفاع میں شہید ہوئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور عوام کی جان و مال، قومی شاہراہوں اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔

READ MORE FAQS
  1. ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچستان حملوں کے بارے میں کیا کہا؟

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کے پیچھے بھارت ہے اور پاکستان دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔

  1. گزشتہ چار روز میں کتنے دہشت گرد ہلاک ہوئے؟

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق مختلف کارروائیوں میں مجموعی طور پر 54 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

  1. کتنی جانیں ضائع ہوئیں؟

حالیہ حملوں میں مجموعی طور پر 42 افراد جان سے گئے، جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے۔

  1. این-25 پر کیا کارروائی ہوئی؟

انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے گئے آپریشن میں مبینہ طور پر بھتہ وصول کرنے والے 19 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جبکہ 11 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔

متعلقہ خبریں