اورماڑہ کے قریب لاپتا کارگو طیارے کی تلاش، پاک بحریہ اور میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی متحرک
کارگو طیارہ حادثہ کے بعد پاکستان نیوی اور پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے اورماڑہ کے قریب وسیع پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری رکھا ہوا ہے۔ حکام کے مطابق حادثے کے بعد فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی تھیں اور اب بھی مختلف بحری اور فضائی وسائل متاثرہ علاقے میں سرگرم ہیں۔
سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں پاکستان نیوی کے متعدد جنگی اور امدادی بحری جہاز حصہ لے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سی کنگ ہیلی کاپٹر، ڈیفینڈر طیارے اور نیول اے ٹی آر طیارہ بھی فضائی نگرانی اور تلاش کے عمل میں شریک ہیں۔ پاک بحریہ کے ماہر غوطہ خور مختلف مقامات پر زیرِ آب سرچ آپریشن بھی انجام دے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق تلاش کے دائرہ کار کو مزید 15 سے 20 ناٹیکل میل تک بڑھا دیا گیا ہے تاکہ طیارے کے ملبے یا عملے سے متعلق مزید شواہد حاصل کیے جا سکیں۔ تاہم طیارے میں سوار پانچ رکنی کاک پٹ عملے کا اب تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
حکام نے سمندر میں موجود ماہی گیر کشتیوں اور دیگر بحری جہازوں سے بھی رابطے قائم کر رکھے ہیں تاکہ کسی ممکنہ مشاہدے یا ثبوت کی بنیاد پر تلاش کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثے کا ممکنہ مقام تقریباً 3 ہزار میٹر گہرے سمندر میں واقع ہے، جس کے باعث ریکوری اور تلاش کا مرحلہ انتہائی پیچیدہ بن گیا ہے۔ خراب موسم، بلند سمندری لہروں اور رات کے اوقات کے باوجود پاک بحریہ کی ٹیمیں مسلسل آپریشن میں مصروف ہیں۔
ماہرین کے مطابق سمندر میں ملنے والا ملبہ ضروری نہیں کہ طیارے کے اصل حادثاتی مقام کی نشاندہی کرے، کیونکہ سمندری لہریں، ہوائیں اور پانی کے بہاؤ ملبے کو دور تک منتقل کر سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے طیارے کے درست مقام کے تعین کے لیے مزید تفصیلی اور جدید سرچ آپریشن کی ضرورت ہے۔
بحری ذرائع کا کہنا ہے کہ گہرے سمندر میں لاپتا طیاروں کی تلاش دنیا کے مشکل ترین آپریشنز میں شمار ہوتی ہے، جس کی مثال مشہور Malaysia Airlines Flight MH370 کی طویل تلاش ہے، جہاں برسوں کی بین الاقوامی کوششوں کے باوجود مکمل ملبہ برآمد نہیں ہو سکا۔
READ MORE FAQS
- کارگو طیارہ کہاں لاپتا ہوا؟
کارگو طیارہ اورماڑہ کے قریب بحیرہ عرب میں لاپتا ہوا۔
- سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں کون سے ادارے شامل ہیں؟
پاکستان نیوی اور پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی مشترکہ طور پر آپریشن کر رہی ہیں۔
- طیارے میں کتنے افراد سوار تھے؟
طیارے میں پانچ رکنی عملہ سوار تھا۔
- تلاش کے لیے کون سے وسائل استعمال ہو رہے ہیں؟
بحری جہاز، سی کنگ ہیلی کاپٹر، ڈیفینڈر طیارے، نیول اے ٹی آر اور غوطہ خور ٹیمیں آپریشن میں حصہ لے رہی ہیں۔








