40 میں سے 8 کیسز آرکیٹیکٹس اور سپانسرز نے ضروری دستاویزات اور تقاضے مکمل نہ ہونے پر قبل از اجلاس ازخود واپس لے لیے
کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)کی ڈیزائن ویٹنگ کمیٹی (ڈی وی سی)کے گزشتہ چار اجلاسوں میں کمرشل بلڈنگ پلانز کی منظوری کے عمل کا جائزہ لیا گیا، جس کے دوران 40 کیسز میں سے 23 کیسز کی منظوری دے دی گئی۔سی ڈی اے حکام کے مطابق کمرشل بلڈنگ پلانز کے 40 کیسز میں سے 8 کیسز آرکیٹیکٹس اور سپانسرز کی جانب سے ضروری دستاویزات اور تقاضے مکمل نہ ہونے کے باعث قبل از اجلاس ازخود واپس لے لیے گئے، جبکہ باقی 32 کیسز ڈیزائن ویٹنگ کمیٹی کے سامنے پیش کیے گئے۔ ان میں سے 23 کیسز کی منظوری دی گئی۔کلائنٹس اور آرکیٹیکٹس کی غیرحاضری کے باعث 5 کیسز کمیٹی کے سامنے پیش نہ ہو سکے، جبکہ دیگر کیسز بنیادی پارکنگ، ضروری پیرامیٹرز اور ڈیزائن درست اور مکمل انداز میں پیش نہ کیے جانے کی وجہ سے ملتوی کیے گئے۔ ان کیسز کو تمام ضروری تقاضے مکمل کرنے کے بعد آئندہ اجلاسوں میں دوبارہ پیش کیا جائے گا۔اس حوالے سے ڈیزائن ویٹنگ کمیٹی کی جانب سے آرکیٹیکٹس کو ایک ایڈوائزری بھی جاری کی گئی تھی۔ کمیٹی کے اجلاس 4 جون، 16 جون، 30 جولائی اور 20 اگست 2026 کو منعقد ہوئے۔وزیراعظم، وزیر داخلہ اور چیئرمین سی ڈی اے کی ہدایات کے مطابق بلڈنگ پلانز کی منظوریوں کے عمل کو اسلام آباد میں سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروباری عمل کو آسان بنانے کے عزم کے تحت مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ شہریوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے بلڈنگ پلان کی منظوری کے عمل کو مزید سادہ اور سہل بنایا جا رہا ہے۔سی ڈی اے نے فیصلہ کیا ہے کہ ڈیزائن ویٹنگ کمیٹی کی جانب سے حتمی منظوری کا لیٹر جاری کرتے وقت آرکیٹیکٹس، کنسلٹنٹس اور مالک کا نام درج کیا جائے گا۔ اسی طرح تعمیرات کے دوران بھی سائٹ پر آرکیٹیکٹس، کنسلٹنٹس اور مالک کا نام نمایاں طور پر آویزاں کیا جائے گا۔سی ڈی اے کے مطابق اس اقدام کا مقصد تعمیراتی ڈیزائن میں کسی بھی تبدیلی یا خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جہاں منظوری کے عمل کو آسان بنایا جا رہا ہے، وہیں آرکیٹیکٹس، کنسلٹنٹس اور مالکان پر نئی ذمہ داریاں بھی عائد کی جا رہی ہیں۔سی ڈی اے نے تمام ملتوی اور موخر ہونے والے کیسز کو مکمل دستاویزات کے ساتھ آئندہ اجلاسوں میں دوبارہ پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اتھارٹی کا مقصد تعمیراتی شعبے میں تمام ریگولیٹری طریقہ کار کو بغیر غیرضروری تاخیر کے آسان بنانا اور تمام زیرالتوا کیسز کو ڈیزائن ویٹنگ کمیٹی کے ذریعے جلد از جلد حل کرنا ہے۔سی ڈی اے کے مطابق کمرشل بلڈنگ پلانز کی منظوریوں سے دارالحکومت میں سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں گے اور شہر کی مجموعی تعمیر و ترقی میں بھی مدد ملے گی۔ اگر کسی شہری کا کیس ڈیزائن ویٹنگ کمیٹی میں پیش نہیں ہو رہا تو وہ ممبر پلاننگ یا چیئرمین سی ڈی اے کے دفتر میں اپنی شکایت درج کروا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے سی ڈی اے کا آن لائن پورٹل بھی موجود ہے، جہاں موصول ہونے والے کیسز کو ڈیزائن ویٹنگ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔موجودہ بائی لاز میں موجود پیچیدگیوں کے باعث ملتوی ہونے والے کیسز کے حل کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے، جو متعلقہ تمام فارمیشنز کے افسران پر مشتمل ہو گی۔ یہ کمیٹی موجودہ بائی لاز، پارکنگ، کمرشل قوانین اور دیگر متعلقہ امور کا تفصیلی جائزہ لے کر اپنی سفارشات تیار کرے گی۔سی ڈی اے نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ ڈیزائن ویٹنگ کمیٹی، پوزیشن سرٹیفکیٹس، اراضی یا دیگر متعلقہ مسائل کے حل کے لیے سی ڈی اے کے دفتر آ کر اپنی شکایات درج کروا سکتے ہیں۔ موصول ہونے والی شکایات کے بروقت ازالے کو یقینی بنایا جائے گا، جبکہ شہری سی ڈی اے کے پورٹل پر اپنی قیمتی آرا اور تجاویز بھی پیش کر سکتے ہیں۔
READ MORE FAQS
سی ڈی اے کی ڈی وی سی نے کتنے کمرشل بلڈنگ پلانز منظور کیے؟
ڈیزائن ویٹنگ کمیٹی نے پیش کیے گئے کیسز میں سے 23 کمرشل بلڈنگ پلانز منظور کیے۔
مجموعی طور پر کتنے کیسز کا جائزہ لیا گیا؟
گزشتہ چار اجلاسوں میں مجموعی طور پر 40 کیسز کا جائزہ لیا گیا۔
کتنے کیسز اجلاس سے پہلے واپس لیے گئے؟
8 کیسز ضروری دستاویزات اور تقاضے مکمل نہ ہونے کے باعث آرکیٹیکٹس اور اسپانسرز نے اجلاس سے قبل واپس لے لیے۔
کتنے کیسز ڈی وی سی کے سامنے پیش ہوئے؟
40 میں سے 8 کیسز واپس لیے جانے کے بعد 32 کیسز ڈیزائن ویٹنگ کمیٹی کے سامنے پیش کیے گئے۔








