غلط معلومات پر سینیٹ قائمہ کمیٹی کا سخت ردعمل، چیف آپریشنز ایف بی آر اجلاس سے باہر

چیف آپریشنز ایف بی آر اجلاس سے نکال دیا گیا
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

چیف آپریشنز ایف بی آر اجلاس سے نکال دیے گئے، غلط معلومات پر سینیٹ کمیٹی برہم

چیف آپریشنز ایف بی آر اجلاس سے نکال دیا گیا جب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں غلط معلومات فراہم کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا گیا۔

اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس کی صدارت سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے بطور کنوینر کی۔ اجلاس کے دوران کمیٹی نے ایف بی آر حکام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے چیف آپریشنز ایف بی آر کو اجلاس سے باہر جانے کی ہدایت کر دی۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ ایسے افسران اہم عہدوں پر تعینات ہیں جو غلط معلومات فراہم کرتے ہیں، جس سے اداروں کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند افسران نے پورے نظام کو نقصان پہنچایا ہے اور جب وہ ایف بی آر حکام کو طلب کرتے ہیں تو انہیں نوٹسز بھیجے جاتے ہیں۔

اجلاس میں ذیلی کمیٹی نے انمول پنکی کیس کا بھی جائزہ لیا اور ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ کیس کی مکمل، شفاف اور جامع تحقیقات کی جائیں تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پارلیمانی کمیٹیوں کے سامنے درست اور مصدقہ معلومات پیش کرنا سرکاری اداروں کی ذمہ داری ہے، جبکہ غلط یا گمراہ کن معلومات ناقابل قبول ہیں۔

READ MORE FAQS

سوال 1: چیف آپریشنز ایف بی آر کو اجلاس سے کیوں نکالا گیا؟
غلط معلومات فراہم کرنے پر سینیٹ قائمہ کمیٹی نے انہیں اجلاس سے باہر جانے کی ہدایت کی۔

سوال 2: اجلاس کی صدارت کس نے کی؟
ذیلی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے بطور کنوینر کی۔

سوال 3: انمول پنکی کیس میں کیا فیصلہ ہوا؟
کمیٹی نے ایف آئی اے کو کیس کی مکمل اور شفاف تحقیقات کرنے کی ہدایت دی۔

سوال 4: سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کیا کہا؟
انہوں نے کہا کہ بعض افسران غلط معلومات فراہم کر رہے ہیں، جس سے اداروں کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔

متعلقہ خبریں