اسرائیل جانے والی فلائی دبئی پرواز کا مبینہ ہائی جیکر کون ہے؟ حمام الحمامی سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آگئیں

حمام الحمامی کون ہے؟ فلائی دبئی پرواز کا مبینہ ہائی جیکر

اسرائیل جانے والی فلائی دبئی پرواز کا مبینہ ہائی جیکر کون ہے؟ حمام الحمامی سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آگئیں

ویب ڈیسک: دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں پیش آنے والے سنگین واقعے کے بعد مبینہ طور پر حملہ کرنے والے معاون پائلٹ کی شناخت حمام الحمامی (Hamam al-Hammami) کے نام سے ہوئی ہے۔

29 سالہ حمام الحمامی عمانی شہری ہے اور اسے 30 ستمبر کو فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 میں پیش آنے والے واقعے کے بعد سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔ بعد ازاں اسے متحدہ عرب امارات منتقل کیا گیا جہاں واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے حکام نے واقعے کو مبینہ دہشت گرد کارروائی کے طور پر دیکھا ہے، تاہم حملے کے محرکات اور اس کے ممکنہ روابط کے بارے میں تحقیقات ابھی جاری ہیں۔

حمام الحمامی کون ہے؟

فلائی دبئی کی دبئی سے اسرائیل جانے والی پرواز کی تبوک ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ
دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز نے کاک پٹ واقعے کے بعد سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کی۔

رپورٹس کے مطابق حمام الحمامی 29 سالہ عمانی شہری ہے جو متحدہ عرب امارات میں پیدا ہوا۔ اس کے والد عمانی جبکہ والدہ شامی نژاد ہیں۔ اس نے اپنی زندگی کا ایک حصہ متحدہ عرب امارات میں گزارا جبکہ اس کے شام میں قیام سے متعلق بھی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔

برطانیہ سے ایوی ایشن مینجمنٹ کی تعلیم

حمام الحمامی نے برطانیہ کی Buckinghamshire New University سے ایوی ایشن مینجمنٹ میں ڈگری حاصل کی۔ یونیورسٹی کے مطابق اس نے تین سالہ فاصلاتی تعلیمی پروگرام مکمل کیا اور 2023 میں گریجویشن کی، تاہم وہاں اسے پائلٹ کی عملی تربیت نہیں دی گئی تھی۔

عمان ایئر میں ملازمت اور مبینہ سکیورٹی خدشات

حمام الحمامی کے نام سے منسوب ایک لنکڈ اِن پروفائل کے مطابق اس نے تقریباً سات سال عمان ایئر میں کام کیا اور فروری 2025 میں وہاں سے علیحدہ ہوا۔

امریکی اور دیگر بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق 2024 میں عمان ایئر میں اس کی پائلٹ ٹریننگ کے دوران مبینہ انتہاپسندانہ مواد سامنے آنے کے بعد اسے فلائنگ ڈیوٹی سے ہٹا کر انتظامی ذمہ داری دی گئی تھی۔

تاہم عمان ایئر یا عمانی حکومت کی جانب سے ان دعوؤں کی مکمل تفصیلات باضابطہ طور پر جاری نہیں کی گئیں۔

رائل ایئر ماروک میں بھی ملازمت کا معاملہ

رپورٹس کے مطابق حمام الحمامی نے 2025 میں مراکش کی قومی ایئرلائن Royal Air Maroc کے ساتھ بھی تربیتی مرحلہ مکمل کیا۔

تاہم ایئرلائن نے تصدیق کی کہ اس نے تقریباً تین ماہ کی نظریاتی تربیت حاصل کی تھی، مگر تربیت کے اختتام پر اس کی ملازمت کی درخواست منظور نہیں کی گئی۔ اس کے بعد وہ فلائی دبئی سے منسلک ہوا۔

مسجد الحرام خودکش بمبار کی گرفتاری سے متعلق غلط اطلاعات کی تردید
مسجد الحرام سے خودکش بمبار کی گرفتاری کی اطلاعات کی حرمین شریفین حکام نے تردید کردی۔

فلائی دبئی کی پرواز میں کیا ہوا؟

30 ستمبر کو فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 دبئی سے تل ابیب جا رہی تھی جب دورانِ پرواز کاک پٹ میں سنگین واقعہ پیش آیا۔

ابتدائی طور پر فلائی دبئی نے صرف اتنا بتایا تھا کہ پرواز کے کاک پٹ میں ایک واقعہ پیش آیا، جس کے بعد عملے نے طیارے کو محفوظ طریقے سے سعودی عرب منتقل کیا۔ کمپنی نے کہا تھا کہ واقعے کی وجوہات اور محرکات باضابطہ تحقیقات کا موضوع ہیں۔

بعد کی رپورٹس کے مطابق معاون پائلٹ نے کپتان پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں طیارے کی بلندی میں اچانک شدید کمی آئی۔ زخمی کپتان کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوا، جس کے بعد دیگر عملے، آف ڈیوٹی پائلٹس اور ایک مسافر نے مبینہ طور پر معاون پائلٹ کو قابو کیا۔

طیارے نے سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کی، جہاں دونوں پائلٹس کو طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا اور مشتبہ معاون پائلٹ کو حراست میں لے لیا گیا۔

کیا طیارہ اسرائیل میں گرانے کا ارادہ تھا؟

تفتیشی ذرائع سے منسوب رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ الحمامی نے طیارے کو اسرائیل میں گرانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔

تاہم اس دعوے سمیت حملے کے حتمی مقصد اور ممکنہ دہشت گرد روابط کی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ اس لیے اس ارادے کو فی الحال ایک تفتیشی دعوے کے طور پر ہی بیان کیا جا رہا ہے۔

مبینہ انتہاپسندانہ مواد بھی تحقیقات کا حصہ

بدیان سیکٹر میں پاکستانی شہریوں کی ہلاکت پر پاکستان کا بھارتی ناظم الامور سے احتجاج
بدیان سیکٹر میں دو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کے معاملے پر پاکستان نے بھارت سے احتجاج کیا۔

تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق حمام الحمامی سے منسوب حذف شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور دیگر آن لائن سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ بعض رپورٹس میں القاعدہ سے وابستہ شخصیات کی تصاویر اور دیگر مبینہ انتہاپسندانہ مواد کا ذکر کیا گیا ہے۔

حکام یہ بھی جانچ رہے ہیں کہ آیا یہ سرگرمیاں واقعی اسی شخص سے متعلق تھیں اور کیا ان کا 30 ستمبر کے واقعے سے براہِ راست کوئی تعلق تھا۔

تحقیقات کہاں تک پہنچیں؟

حمام الحمامی کو سعودی عرب میں ابتدائی طور پر حراست میں لینے کے بعد متحدہ عرب امارات منتقل کیا گیا، جہاں واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ سعودی، اماراتی اور اسرائیلی حکام سمیت مختلف ادارے واقعے کے محرکات اور سکیورٹی پس منظر کا جائزہ لے رہے ہیں۔

واقعے کے بعد فلائی دبئی نے بھی تحقیقات میں متعلقہ حکام کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، جبکہ کمپنی نے ابتدائی مرحلے میں قیاس آرائیوں سے گریز کرنے پر زور دیا تھا۔

اس واقعے نے پائلٹس کی بھرتی، سکیورٹی کلیئرنس اور ایئرلائنز کے بیک گراؤنڈ چیک کے طریقہ کار سے متعلق بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

 
READ MORE FAQS”

Q1: حمام الحمامی کون ہے؟
حمام الحمامی 29 سالہ معاون پائلٹ ہے جس کی شناخت فلائی دبئی کی دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز میں پیش آنے والے واقعے کے بعد سامنے آئی ہے۔

Q2: فلائی دبئی کی پرواز میں کیا ہوا تھا؟
30 ستمبر کو پرواز کے دوران کاک پٹ میں ایک سنگین واقعہ پیش آیا، جس کے بعد طیارے نے سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کی۔

Q3: حمام الحمامی کو کہاں گرفتار کیا گیا؟
حمام الحمامی کو طیارے کی تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کے بعد سعودی عرب میں حراست میں لیا گیا، جس کے بعد اسے متحدہ عرب امارات منتقل کیا گیا۔

Q4: کیا حمام الحمامی نے طیارہ اسرائیل میں گرانے کا منصوبہ بنایا تھا؟
تفتیشی ذرائع سے منسوب رپورٹس میں ایسا دعویٰ سامنے آیا ہے، تاہم اس مقصد کی مکمل سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی اور تحقیقات جاری ہیں۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:41 AM
طلوع آفتاب06:04 AM
ظہر11:57 AM
عصر03:17 PM
مغرب05:49 PM
عشاء07:12 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6