جرمنی کے لیپزگ ہالے ایئرپورٹ پر دھماکا خیز مواد سے لیس ڈرون ملا، پروازیں متاثر
جرمن ایئرپورٹ پر دھماکا خیز ڈرون برآمد ہونے کے بعد جرمنی میں فضائی سلامتی کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لیپزگ ہالے ایئرپورٹ کے کارگو زون میں رن وے کے قریب دھماکا خیز مواد سے لیس ایک ڈرون دریافت کیا گیا، جس کے بعد فوری طور پر سیکیورٹی ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا۔
حکام کے مطابق ڈرون ایک محدود رسائی والے کارگو علاقے میں پایا گیا، جہاں بم ڈسپوزل یونٹ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسے محفوظ طریقے سے ناکارہ بنا دیا۔ احتیاطی اقدامات کے تحت کچھ پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی گئیں جبکہ بعض طیاروں کا رخ دیگر ہوائی اڈوں کی جانب موڑ دیا گیا۔
جرمن وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنٹ نے اس واقعے کو "خطرے کی نئی سطح” قرار دیتے ہوئے کہا کہ تفتیشی ادارے اس امکان کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ کسی ممکنہ ہائبرڈ حملے کا حصہ تھا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ تحقیقات مکمل ہونے تک کسی تنظیم یا ملک کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔
رپورٹس کے مطابق اسی دوران ایک ڈی ایچ ایل کارگو طیارہ راستہ تبدیل کیے جانے کے بعد ایک نامعلوم فضائی شے سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں طیارے کو معمولی نقصان پہنچا۔ حکام اس واقعے اور دھماکا خیز ڈرون کے درمیان ممکنہ تعلق کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔
سیکیورٹی اداروں نے ایئرپورٹ پر نگرانی مزید سخت کر دی ہے جبکہ تمام شواہد اکٹھے کرکے واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ عوام کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور فضائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
READ MORE FAQS
- جرمن ایئرپورٹ پر کیا برآمد ہوا؟
لیپزگ ہالے ایئرپورٹ کے کارگو ایریا میں دھماکا خیز مواد سے لیس ایک ڈرون برآمد ہوا۔
- کیا پروازیں متاثر ہوئیں؟
جی ہاں، حفاظتی اقدامات کے تحت بعض پروازیں عارضی طور پر معطل یا دیگر ہوائی اڈوں کی جانب منتقل کی گئیں۔
- کیا کسی گروہ کو ذمہ دار قرار دیا گیا؟
نہیں، جرمن حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور ابھی تک کسی گروہ یا ملک کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔
- ڈی ایچ ایل کارگو طیارے کے ساتھ کیا ہوا؟
رپورٹس کے مطابق ایک ڈی ایچ ایل کارگو طیارہ نامعلوم فضائی شے سے ٹکرایا، جس سے اسے معمولی نقصان پہنچا۔








