عمران خان کی گرفتاری کے تین سال مکمل، پی ٹی آئی کے ملک گیر احتجاج، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی اسلام آباد مارچ کی وارننگ

پی ٹی آئی کارکن عمران خان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کے دوران نعرے لگاتے ہوئے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

عمران خان کی گرفتاری کے تین سال مکمل، پی ٹی آئی کے ملک گیر احتجاج، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی اسلام آباد مارچ کی وارننگ

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بانی چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے تین سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے، ریلیاں اور جلسے منعقد کیے، جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے خبردار کیا کہ اگر عمران خان اور بشریٰ بی بی کے مقدمات میرٹ پر نہ سنے گئے اور ملاقاتوں پر پابندیاں ختم نہ کی گئیں تو 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کیا جائے گا۔

پشاور میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ عمران خان کی رہائی اور انصاف کی فراہمی پی ٹی آئی کا بنیادی مطالبہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر عدلیہ مکمل طور پر آزاد ہوتی تو عمران خان کو "30 منٹ میں رہا کر دیا جاتا”۔

راولپنڈی ڈولفن فورس تشدد کیس کی سی سی ٹی وی ویڈیو
راولپنڈی کے صادق آباد میں شہری پر مبینہ تشدد کی سی سی ٹی وی ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد تحقیقات کا مطالبہ۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل میں ڈاکٹروں، اہل خانہ، وکلا اور سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کی اجازت دی جائے، جو ان کے بقول گزشتہ کئی ماہ سے محدود ہے۔

لاہور میں گرفتاریاں اور پولیس کارروائی

لاہور میں پی ٹی آئی نے سول سیکریٹریٹ اور ایوانِ عدل کے قریب عمران خان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا، جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی دیکھنے میں آئی۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق پولیس نے ایک رکن قومی اسمبلی، چار ارکان صوبائی اسمبلی اور متعدد کارکنوں کو گرفتار کیا، جبکہ مظاہرین اور بعض صحافیوں پر لاٹھی چارج بھی کیا گیا۔

پی ٹی آئی رہنماؤں نے گرفتاریوں اور پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کارکنوں نے سخت حالات کے باوجود احتجاج میں بھرپور شرکت کی۔

کراچی میں آنسو گیس اور گرفتاریاں

کراچی میں کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج روکنے کے لیے پولیس نے اطراف کی سڑکیں کنٹینرز لگا کر بند کر دیں۔ بعد ازاں زینب مارکیٹ کے قریب جمع ہونے والے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔

اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئیبیرسٹر گوہر نے کہا موجودہ سسٹم عوام کا اعتماد کھو چکا ہے
بیرسٹر گوہر نے کہا موجودہ سسٹم عوام کا اعتماد کھو چکا ہے اور ری سیٹ ناگزیر ہو گیا ہے۔

پی ٹی آئی کے مطابق کراچی میں 10 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کیا گیا، جبکہ پنو عاقل اور کندھ کوٹ میں بھی متعدد کارکنوں کی گرفتاریوں کا دعویٰ کیا گیا۔

اسلام آباد، حیدرآباد اور دیگر شہروں میں بھی احتجاج

اسلام آباد میں پی ٹی آئی نے کرنل شیر خان شہید روڈ (سابقہ آئی جے پی روڈ) پر احتجاجی مظاہرہ کیا، جبکہ فیصل آباد، ملتان، راولپنڈی، قصور، جھنگ، اوکاڑہ، بہاولنگر، رحیم یار خان، حیدرآباد اور لاڑکانہ سمیت مختلف شہروں میں بھی ریلیاں اور مظاہرے منعقد کیے گئے۔

حیدرآباد میں احتجاج پرامن رہا اور کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ لاڑکانہ میں پی ٹی آئی کے ساتھ دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے بھی احتجاج میں شرکت کی۔

پی ٹی آئی رہنماؤں نے احتجاجی مظاہروں کے دوران عمران خان اور دیگر سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی، شفاف انتخابات اور سیاسی کارکنوں کے خلاف کارروائیاں بند کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے ان دعوؤں پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: پی ٹی آئی نے ملک گیر احتجاج کیوں کیا؟

جواب: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کے تین سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں منعقد کی گئیں۔

سوال 2: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کیا اعلان کیا؟

جواب: انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان اور بشریٰ بی بی کے مقدمات میرٹ پر نہ سنے گئے تو 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کیا جائے گا۔

سوال 3: لاہور میں احتجاج کے دوران کیا ہوا؟

جواب: پی ٹی آئی کے مطابق ایک رکن قومی اسمبلی، چار ارکان صوبائی اسمبلی اور متعدد کارکنوں کو گرفتار کیا گیا، جبکہ پولیس نے لاٹھی چارج بھی کیا۔

سوال 4: کراچی میں پولیس نے کیا کارروائی کی؟

جواب: کراچی میں پولیس نے احتجاج روکنے کے لیے کنٹینرز لگائے، آنسو گیس شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا، جبکہ پی ٹی آئی کے مطابق 10 سے زائد کارکن گرفتار کیے گئے۔

سوال 5: پی ٹی آئی کے اہم مطالبات کیا تھے؟

جواب: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے مقدمات کی میرٹ پر سماعت، ملاقاتوں پر عائد پابندیوں کا خاتمہ، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور شفاف انتخابات کا انعقاد۔

متعلقہ خبریں