انڈونیشیا زلزلہ 6.7 شدت: سولاویسی میں شدید جھٹکے، خوف و ہراس پھیل گیا

انڈونیشیا زلزلہ 6.7 شدت سولاویسی میں شدید جھٹکوں کے بعد منظر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

انڈونیشیا کے جزیرے سولاویسی میں 6.7 شدت کا زلزلہ، آفٹر شاکس کا خدشہ

انڈونیشیا زلزلہ 6.7 شدت کی خبر نے پورے خطے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ انڈونیشیا کے جزیرۂ سولاویسی میں آنے والے طاقتور زلزلے نے مقامی آبادی کو خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا جبکہ حکام نے آفٹر شاکس کے امکان کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

انڈونیشین ایجنسی برائے موسمیات، موسمی تبدیلی اور جیو فزکس کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 11 بج کر 27 منٹ پر ریکارڈ کیا گیا۔ زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 6.7 نوٹ کی گئی، جو ایک طاقتور زلزلہ تصور کیا جاتا ہے۔

زلزلے کا مرکز کہاں تھا؟

سرکاری معلومات کے مطابق زلزلے کا مرکز سولاویسی کے شہر پالو سے تقریباً 42 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع تھا۔ زلزلے کی گہرائی صرف 10 کلومیٹر تھی، جس کے باعث جھٹکے سطح زمین پر زیادہ شدت سے محسوس کیے گئے۔

ماہرین کے مطابق کم گہرائی میں آنے والے زلزلے عموماً زیادہ خطرناک سمجھے جاتے ہیں کیونکہ ان کی توانائی زمین کی سطح کے قریب خارج ہوتی ہے، جس سے آبادی والے علاقوں میں زیادہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

زلزلے کے فوراً بعد متعدد علاقوں میں لوگ گھروں، دفاتر اور تجارتی مراکز سے باہر نکل آئے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کئی شہروں میں لوگوں نے کھلے میدانوں کا رخ کیا تاکہ ممکنہ آفٹر شاکس کی صورت میں محفوظ رہ سکیں۔

اگرچہ فوری طور پر کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم شہریوں میں خوف کی فضا برقرار ہے۔ حکام مسلسل صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔

آفٹر شاکس کا خدشہ

انڈونیشین جیو فزکس ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ زلزلے کے بعد آفٹر شاکس یا بعد از زلزلہ جھٹکے محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق بڑے زلزلوں کے بعد چھوٹے یا درمیانے درجے کے جھٹکے آنا ایک معمول کی بات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکام نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر متاثرہ عمارتوں میں داخل نہ ہونے اور احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔

سونامی کا خطرہ نہیں

زلزلے کے بعد سب سے بڑا سوال سونامی کے امکان سے متعلق تھا، تاہم انڈونیشی حکام نے واضح کیا ہے کہ موجودہ زلزلے کے نتیجے میں سونامی کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

یہ اعلان ساحلی علاقوں میں رہنے والے لاکھوں افراد کے لیے باعث اطمینان ثابت ہوا کیونکہ ماضی میں انڈونیشیا کئی تباہ کن سونامیوں کا سامنا کر چکا ہے۔

انڈونیشیا اور رنگ آف فائر

انڈونیشیا دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو زلزلوں اور آتش فشانی سرگرمیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

یہ ملک بحرالکاہل کے مشہور Ring of Fire یا “رنگ آف فائر” پر واقع ہے۔ یہ ایک ایسا جغرافیائی خطہ ہے جہاں زمین کی کئی بڑی ٹیکٹونک پلیٹیں آپس میں ملتی ہیں اور مسلسل حرکت کرتی رہتی ہیں۔

اسی وجہ سے یہاں زلزلے، آتش فشانی دھماکے اور دیگر ارضیاتی سرگرمیاں معمول کا حصہ سمجھی جاتی ہیں۔

سولاویسی کی ماضی کی تباہ کاریاں

جزیرۂ سولاویسی ماضی میں بھی کئی شدید زلزلوں کا سامنا کر چکا ہے۔ 2018 میں آنے والے طاقتور زلزلے اور اس کے بعد سونامی نے ہزاروں افراد کی جانیں لے لی تھیں اور بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی۔

اسی پس منظر میں حالیہ زلزلے نے مقامی آبادی میں تشویش پیدا کر دی ہے، اگرچہ فی الحال بڑے نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

امدادی ادارے الرٹ

زلزلے کے فوراً بعد مقامی انتظامیہ، امدادی اداروں اور ہنگامی سروسز کو الرٹ کر دیا گیا۔ مختلف علاقوں میں صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان کی صورت میں فوری امدادی کارروائیاں شروع کی جا سکیں۔

حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور افواہوں پر توجہ نہ دیں۔

زلزلہ پیما ماہرین کے مطابق 6.7 شدت کا زلزلہ خاصا طاقتور ہوتا ہے اور اگر یہ گنجان آبادی والے علاقوں کے قریب آئے تو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا سکتا ہے۔

تاہم ابتدائی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس بار زلزلے کا مرکز نسبتاً ایسے مقام پر تھا جہاں آبادی کا دباؤ کم تھا، جس کے باعث ممکنہ تباہی محدود رہی۔

انڈونیشیا زلزلہ 6.7 شدت ایک اہم قدرتی واقعہ ہے جس نے ایک بار پھر انڈونیشیا کے جغرافیائی خطرات کو اجاگر کر دیا ہے۔ اگرچہ فوری طور پر کسی بڑے جانی نقصان یا سونامی کی اطلاع نہیں ملی، تاہم آفٹر شاکس کے خدشے کے باعث حکام اور شہری محتاط ہیں۔ آنے والے دنوں میں صورتحال مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔

READ MORE FAQS

سوال 1: انڈونیشیا میں زلزلے کی شدت کتنی تھی؟

جواب: زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 6.7 ریکارڈ کی گئی۔

سوال 2: زلزلے کا مرکز کہاں تھا؟

جواب: زلزلے کا مرکز پالو شہر سے 42 کلومیٹر جنوب مشرق میں 10 کلومیٹر گہرائی پر تھا۔

سوال 3: کیا سونامی کا خطرہ ہے؟

جواب: نہیں، انڈونیشین حکام کے مطابق سونامی کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

سوال 4: کیا کوئی جانی نقصان ہوا؟

جواب: فوری طور پر کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6

🕌 نماز کے اوقات

فجر03:14 AM
طلوع آفتاب04:58 AM
ظہر12:10 PM
عصر03:54 PM
مغرب07:22 PM
عشاء09:06 PM