اسلام آباد میں بڑی انتظامی اصلاحات کی تیاری، منتخب علاقائی حکومت اور 27 رکنی اسمبلی کی تجویز

اسلام آباد میں منتخب علاقائی حکومت اور اسمارٹ سٹی منصوبے سے متعلق مجوزہ اصلاحات
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بڑی انتظامی اصلاحات کی تیاری، منتخب علاقائی حکومت اور 27 رکنی اسمبلی کی تجویز، جس کا سربراہ وزیر اعلیٰ یا میئرہو سکتا

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے نظامِ حکمرانی میں بنیادی تبدیلیوں کے لیے ایک جامع اصلاحاتی منصوبہ تیار کر لیا ہے، جس کے تحت منتخب علاقائی حکومت، 27 رکنی اسمبلی اور جدید اسمارٹ سٹی ماڈل متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق “آئی سی ٹی گورننس ماڈل” کے عنوان سے تیار کی گئی 138 صفحات پر مشتمل رپورٹ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی نے مرتب کی ہے۔ رپورٹ وزیر اعظم شہباز شریف کو پیش کی جا چکی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ایک منصوبہ بند وفاقی دارالحکومت سے بڑھ کر 24 لاکھ سے زائد آبادی والے بڑے شہری مرکز میں تبدیل ہو چکا ہے، تاہم اس کی ضروریات کے مطابق ادارہ جاتی ترقی نہیں ہو سکی۔ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک نئے اور مربوط نظامِ حکمرانی کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

منتخب علاقائی حکومت کا قیام

اصلاحاتی منصوبے کے تحت اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری حکومت (ICTG) قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جسے انتظامی اور مالی خودمختاری حاصل ہوگی جبکہ وفاقی دارالحکومت کی آئینی حیثیت برقرار رہے گی۔

مجوزہ نظام کے مطابق 27 ارکان پر مشتمل اسمبلی تشکیل دی جائے گی، جس میں 21 ارکان براہ راست منتخب ہوں گے، 5 نشستیں خواتین اور ایک نشست اقلیتوں کے لیے مختص ہوگی۔

اسلام آباد کے نیو بلیو ایریا میں داخلہ فیس کے خلاف عدالت میں درخواست
نیو بلیو ایریا میں داخلے پر فیس وصولی کا معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گیا۔

اسمبلی اپنے سربراہ کا انتخاب کرے گی، جسے وزیر اعلیٰ یا میئر کا عہدہ دیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے حتمی فیصلہ وفاقی حکومت کرے گی۔

اختیارات کی منتقلی کی تجویز

رپورٹ کے مطابق امن و امان اور ماسٹر پلاننگ کے علاوہ بیشتر انتظامی اختیارات اسلام آباد کی منتخب حکومت کو منتقل کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ سی ڈی اے اور مختلف وفاقی اداروں کے تحت موجود متعدد انتظامی ذمہ داریاں بھی نئی حکومت کے سپرد کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ اختیارات کی تقسیم اور ادارہ جاتی تضادات کا خاتمہ کیا جا سکے۔

نیا قانونی فریم ورک

اصلاحاتی پیکیج میں “اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری گورنمنٹ ایکٹ” متعارف کرانے کی سفارش بھی شامل ہے، جس کے ذریعے موجودہ بلدیاتی اور ترقیاتی قوانین کو یکجا کرکے ایک جامع قانونی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے گا۔

اس نئے فریم ورک کے تحت محکموں کی ساخت، انتظامی اختیارات، مالی امور اور حکومتی قواعد و ضوابط واضح طور پر متعین کیے جائیں گے۔

اسمارٹ سٹی ماڈل کی جانب پیشرفت

منصوبے کا اہم حصہ اسلام آباد کو ایک جدید “اسمارٹ سٹی” میں تبدیل کرنا ہے۔ اس ماڈل کے تحت ڈیجیٹل گورننس، ماحول دوست ترقی، سیاحت کے فروغ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کو “نیچر کیپیٹل” کے طور پر فروغ دینے، سیاحت میں اضافے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور مقامی آمدنی بڑھانے کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔

خصوصی اداروں کے قیام کی تجویز

مہاجرین کی نشستوں کا ریفرنس آزاد کشمیر سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر
آزاد کشمیر سپریم کورٹ مہاجرین کی نشستوں سے متعلق آئینی ریفرنس کی سماعت کرے گی۔

شہری سہولیات کی بہتری کے لیے صحت، تعلیم، سماجی بہبود، سیاحت و ثقافت، ماحولیات اور ڈیجیٹل گورننس سمیت چھ خصوصی ادارے قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ یہ ادارے پیشہ ورانہ بنیادوں پر چلائے جائیں گے اور ان کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا۔

ڈیجیٹل گورننس اور شفافیت

رپورٹ میں زمین و جائیداد کے ریکارڈ، ٹیکس وصولی، لائسنسنگ، شناختی تصدیق، شکایات کے ازالے اور دیگر سرکاری خدمات کے لیے ایک متحدہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ شفافیت، رفتار اور کارکردگی میں اضافہ کیا جا سکے۔

پانچ سالہ مرحلہ وار منصوبہ

اصلاحات کے نفاذ کے لیے پانچ سالہ مرحلہ وار حکمت عملی تجویز کی گئی ہے۔ پہلے مرحلے میں قانونی اور ادارہ جاتی تبدیلیاں کی جائیں گی، اس کے بعد اختیارات کی منتقلی، نئے اداروں کا قیام، ڈیجیٹل انضمام اور کارکردگی کے استحکام پر کام ہوگا۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ منظور ہو جاتا ہے تو اسلام آباد کے نظامِ حکمرانی میں تاریخی تبدیلی آئے گی اور وفاقی دارالحکومت جدید، مؤثر اور ڈیجیٹل طرز حکمرانی کی ایک مثال بن سکتا ہے۔

READ MORE FAQS”

سوال: اسلام آباد کیلئے مجوزہ نئی اصلاحات کیا ہیں؟

جواب: اصلاحات میں منتخب علاقائی حکومت، 27 رکنی اسمبلی، اختیارات کی منتقلی اور جدید اسمارٹ سٹی ماڈل شامل ہیں۔

سوال: اسلام آباد اسمبلی میں کتنے ارکان ہوں گے؟

جواب: مجوزہ اسمبلی 27 ارکان پر مشتمل ہوگی جن میں 21 براہ راست منتخب، 5 خواتین اور ایک اقلیتوں کی مخصوص نشست ہوگی۔

سوال: کون سے اختیارات وفاق کے پاس رہیں گے؟

جواب: امن و امان اور ماسٹر پلاننگ کے اختیارات وفاقی حکومت کے پاس رہیں گے۔

سوال: اسمارٹ سٹی ماڈل کا مقصد کیا ہے؟

جواب: اسلام آباد کو جدید، ماحول دوست، ڈیجیٹل اور شہری ضروریات کے مطابق ترقی یافتہ دارالحکومت بنانا۔

سوال: اصلاحات پر عملدرآمد کتنے عرصے میں ہوگا؟

جواب: رپورٹ کے مطابق اصلاحات کو پانچ سالہ مرحلہ وار منصوبے کے تحت نافذ کیا جائے گا۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]