
Dengue Cases in Rawalpindi Today: نئے 22 کیس رپورٹ، مجموعی تعداد 815 تک پہنچ گئی
Dengue Cases in Rawalpindi Today کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 22 نئے کیس رپورٹ، مجموعی مریضوں کی تعداد 815 جبکہ 88 اسپتالوں میں زیر علاج۔

Dengue Cases in Rawalpindi Today کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 22 نئے کیس رپورٹ، مجموعی مریضوں کی تعداد 815 جبکہ 88 اسپتالوں میں زیر علاج۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ غزہ جنگ بندی کے قریب ہے اور پاکستان ہمیشہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ انہوں نے صدر ٹرمپ اور مسلم ممالک کے کردار کو سراہتے ہوئے امن کی بحالی کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں موٹروے پر ہیوی بائیکس پابندی کیس کی سماعت ہوئی۔ موٹروے پولیس نے مؤقف اپنایا کہ ٹریننگ اور درست لائسنس کے بغیر اجازت نہیں دی جا سکتی۔

راولپنڈی میں ڈینگی کیسز بڑھنے لگے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں 29 نئے مریض سامنے آگئے، ضلع میں اب تک 709 مریض کنفرم، انتظامیہ کی 1499 ٹیمیں سرویلنس میں مصروف۔

FBR Tax Return Date Extended – فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس ریٹرن فائلنگ کی تاریخ میں 15 دن کی توسیع کرتے ہوئے نئی آخری تاریخ 15 اکتوبر مقرر کردی۔ اب تک 40 لاکھ سے زائد افراد گوشوارے جمع کروا چکے ہیں۔

وفاقی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ حرمین شریفین کی حفاظت ہر مسلمان کا فرض ہے۔ لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بھارت سے کشمیر کے مسئلے کے حل اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کی اہمیت پر زور دیا۔

راولپنڈی میں ڈینگی کیسز میں اضافہ، محکمہ صحت کے مطابق اب تک 10,305 افراد کی سکریننگ کی جا چکی ہے جن میں سے 622 ڈینگی مریض کنفرم ہوئے ہیں، جبکہ کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے خصوصی مضمون میں کہا ہے کہ پاکستان کی اصل طاقت سیاسی و عسکری اتحاد اور قومی یکجہتی میں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اب عالمی فیصلوں میں باوقار کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ دفاعی و معاشی محاذ پر نئی کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔

بیجنگ میں 14ویں جے سی سی اجلاس کے دوران سی پیک فیز 2 کا باضابطہ آغاز ہوگا، جو پاکستان اور چین کی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔ یہ مرحلہ نوجوانوں کی صلاحیتوں اور برآمدات پر مرکوز ہوگا، جو پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے ایک اہم قدم ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغان طالبان نہ پاکستان کے بھائی ہیں نہ دوست۔ افغانستان کی سرزمین سے دہشت گرد حملے پاکستان کے لیے ناقابلِ قبول ہیں، اور اگر رویہ نہ بدلا تو سخت اقدامات ہوں گے۔