ہولی فیملی ہسپتال میں 5 سالہ بچے کے کٹے ہاتھ کی کامیاب ری پلانٹیشن

5 سالہ بچے کے کٹے ہاتھ کی ری پلانٹیشن، ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

5 سالہ بچے کے کٹے ہاتھ کی ری پلانٹیشن کامیاب، ہولی فیملی ہسپتال میں پیچیدہ سرجری

5 سالہ بچے کے کٹے ہاتھ کی ری پلانٹیشن راولپنڈی کے ہولی فیملی ہسپتال میں کامیابی سے مکمل کرلی گئی، جہاں ماہر ڈاکٹروں نے پیچیدہ مائیکرو ویسکیولر سرجری کے ذریعے بچے کا ہاتھ دوبارہ جوڑ دیا۔

ذرائع کے مطابق جہلم سے تعلق رکھنے والے 5 سالہ بچے کا ہاتھ ٹوکے کے وار سے جسم سے مکمل طور پر الگ ہوگیا تھا۔ بچے کو فوری طبی امداد کے لیے 28 اگست کو ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی منتقل کیا گیا۔

ہسپتال پہنچنے کے بعد ڈاکٹروں نے بچے کی حالت اور کٹے ہوئے ہاتھ کا فوری جائزہ لیا اور پیچیدہ سرجری کا فیصلہ کیا۔ طبی ٹیم نے انتہائی باریک اور حساس مائیکرو ویسکیولر تکنیک استعمال کرتے ہوئے ہاتھ کو دوبارہ جسم کے ساتھ جوڑنے کا عمل شروع کیا۔

سرجری کے دوران خون کی شریانوں اور رگوں سمیت ہاتھ کی دیگر اہم ساختوں کو انتہائی احتیاط سے بحال کیا گیا۔ کامیاب آپریشن کے بعد بچے کے ہاتھ میں خون کی روانی دوبارہ بحال ہوگئی۔

ری پلانٹیشن سرجری ایک پیچیدہ طبی عمل ہے جس میں جسم سے مکمل طور پر الگ ہونے والے عضو کو دوبارہ جوڑنے کے لیے خون کی باریک شریانوں، رگوں اور دیگر اہم ساختوں کو بحال کیا جاتا ہے۔ ایسے آپریشن میں وقت، طبی ٹیم کی مہارت اور جدید مائیکرو سرجیکل تکنیک انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ہولی فیملی ہسپتال میں ہونے والی اس کامیاب سرجری کو طبی شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے، خصوصاً اس لیے کہ مریض کی عمر صرف 5 سال ہے اور اس کا ہاتھ مکمل طور پر جسم سے الگ ہوگیا تھا۔

ڈاکٹروں کی جانب سے باریک خون کی شریانوں اور رگوں کو دوبارہ جوڑنے کے بعد ہاتھ میں خون کی سپلائی بحال ہونا سرجری کی کامیابی کی اہم علامت ہے۔

بچے کو 28 اگست کو ہسپتال لایا گیا تھا، جس کے بعد طبی ماہرین نے فوری طور پر صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے ضروری کارروائی کی۔ کامیاب ری پلانٹیشن کے ذریعے بچے کے کٹے ہوئے ہاتھ کو دوبارہ جسم کے ساتھ منسلک کردیا گیا۔

یہ کامیاب آپریشن ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی میں پیچیدہ مائیکرو سرجری کی صلاحیتوں کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

تاہم ری پلانٹیشن کے بعد مریض کی مسلسل طبی نگرانی اہم ہوتی ہے تاکہ دوبارہ جوڑے گئے عضو میں خون کی روانی اور دیگر طبی عوامل کا جائزہ لیا جاسکے۔ بچے کی آئندہ بحالی اور ہاتھ کے مکمل فعال ہونے کا انحصار مزید طبی نگہداشت اور بحالی کے مراحل پر ہوگا۔

READ MORE FAQS

سوال: 5 سالہ بچے کی سرجری کہاں ہوئی؟
جواب: سرجری راولپنڈی کے ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی۔

سوال: بچے کا ہاتھ کیسے کٹا؟
جواب: فراہم کردہ معلومات کے مطابق ٹوکے کے وار سے بچے کا ہاتھ جسم سے مکمل طور پر الگ ہوگیا تھا۔

سوال: بچے کو ہسپتال کب لایا گیا؟
جواب: بچے کو 28 اگست کو ہولی فیملی ہسپتال لایا گیا۔

سوال: ڈاکٹروں نے کون سی سرجری کی؟
جواب: ڈاکٹروں نے مائیکرو ویسکیولر ری پلانٹیشن سرجری کی۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:13 AM
طلوع آفتاب05:40 AM
ظہر12:09 PM
عصر03:46 PM
مغرب06:37 PM
عشاء08:04 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6