اٹلی میں غیر ملکی طلبہ کی تعداد محدود کرنے اور برقع و نقاب پر پابندی کی تیاری
روم، 22 ستمبر 2026: اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے اسکولوں میں غیر ملکی طلبہ کی تعداد محدود کرنے اور برقع و نقاب سمیت چہرہ ڈھانپنے والے لباس پر پابندی عائد کرنے کے لیے قانون سازی کا اعلان کردیا ہے۔
جارجیا میلونی نے یہ اعلان روم میں اپنی جماعت برادرز آف اٹلی کی نوجوان تنظیم Gioventù Nazionale کے زیر اہتمام منعقدہ Fenix تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔ ان کے مطابق حکومت اسکولوں میں ہر کلاس کے اندر غیر ملکی طلبہ کی تعداد کے لیے قانونی حد مقرر کرنے کی تجویز پیش کرے گی۔

میلونی نے تقریباً 30 فیصد کی حد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اطالوی کلاس رومز میں ایسے حالات نہیں ہونے چاہئیں جہاں اطالوی بچے خود کو اقلیت سمجھنے لگیں۔ تاہم مجوزہ قانون کی حتمی تفصیلات اور اس حد کے عملی اطلاق کا طریقہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
اطالوی وزارت تعلیم کے اعداد و شمار کا حوالہ دینے والے ISMU ETS فاؤنڈیشن کے مطابق اٹلی کے اسکولوں میں غیر اطالوی شہریت رکھنے والے طلبہ کا تناسب تقریباً 11.6 فیصد ہے۔
برقع اور نقاب پر پابندی کی تجویز
میلونی نے اسکولوں میں برقع اور نقاب سمیت چہرہ مکمل طور پر ڈھانپنے والے لباس پر پابندی کی بھی تجویز دی ہے۔ ان کے مطابق اسکول میں چہرہ واضح ہونا چاہیے اور انہوں نے برقع و نقاب پر پابندی کے اقدام کو خواتین اور مردوں کے درمیان مساوات سے جوڑا۔
برقع و نقاب پر پابندی کی تجویز عام اسلامی حجاب کے بجائے ان لباسوں کو ہدف بناتی ہے جو چہرہ بھی ڈھانپتے ہیں۔
غیر ملکی طلبہ کے والدین کے لیے بھی تجویز
مجوزہ پیکیج میں ایسے غیر ملکی طلبہ کے والدین کے لیے اطالوی زبان سیکھنے کی شرط بھی شامل کیے جانے کی بات سامنے آئی ہے جن کے بچوں کو اسکول میں انضمام کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا ہو۔ اٹلی کے وزیر تعلیم جوزیپے والدی تارا نے بھی کہا ہے کہ زبان پر عبور تعلیمی کامیابی اور معاشرے میں انضمام کے لیے اہم ہے۔
حکومت کب قانون پیش کرے گی؟

اٹلی کی خبر رساں ایجنسی ANSA کے مطابق حکومت ان اقدامات کو حکومتی بل کی صورت میں پیش کرنے پر کام کر رہی ہے اور انہیں آئندہ کابینہ اجلاس میں لانے کی تیاری ہے۔ اس کے بعد قانون سازی کے لیے پارلیمانی منظوری درکار ہوگی۔
اٹلی میں نئی تجاویز پر بحث
برقع و نقاب پر پابندی کی تجاویز کے بعد اٹلی میں اسکولوں کے کردار، انضمام اور تارکین وطن کے بچوں کی تعلیم سے متعلق بحث بھی شروع ہوگئی ہے۔
صدر سرجیو ماتاریلا نے 21 ستمبر کو اسکولوں کو سماجی انضمام کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کو معاشرے میں تقسیم اور الگ تھلگ علاقوں کے قیام کو روکنے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ اسکول سب کے لیے کھلے ہیں۔
یورپ کے بعض دیگر ممالک میں بھی عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے والے لباس پر پابندیاں موجود ہیں، تاہم اٹلی میں کلاس رومز میں غیر ملکی طلبہ کی تعداد کے لیے قانونی حد مقرر کرنے کی تجویز ایک الگ نوعیت کا اقدام ہے۔
اہم بات: میلونی کے اعلان کردہ اقدامات فی الحال تجاویز ہیں، حتمی قانون نہیں۔ ان کی اصل شکل پارلیمانی عمل کے دوران تبدیل بھی ہوسکتی ہے۔
🚨🇮🇹 Meloni announces a BURQA BAN in schools, plus a LIMIT on the number of foreign students per class!!
"The proposed measure will introduce an obligation for the parents of foreign students with serious school-integration problems to learn Italian, and it will introduce a BAN…
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) September 20, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: جارجیا میلونی نے اٹلی کے اسکولوں کے لیے کیا اعلان کیا؟
جواب: میلونی نے غیر ملکی طلبہ کی تعداد کے لیے فی کلاس قانونی حد مقرر کرنے اور اسکولوں میں برقع و نقاب جیسے چہرہ ڈھانپنے والے لباس پر پابندی کی قانون سازی کی تجویز دی ہے۔
سوال 2: اٹلی میں غیر ملکی طلبہ کی مجوزہ حد کتنی ہوگی؟
جواب: میلونی نے تقریباً 30 فیصد کی حد کا ذکر کیا، تاہم حتمی قانونی تفصیلات اور اطلاق کا طریقہ ابھی طے ہونا باقی ہے۔
سوال 3: کیا اٹلی میں حجاب پر بھی پابندی کی تجویز ہے؟
جواب: موجودہ اعلان میں خاص طور پر برقع اور نقاب جیسے چہرہ ڈھانپنے والے لباس کا ذکر کیا گیا ہے۔ عام حجاب، جس میں چہرہ کھلا رہتا ہے، اس تجویز میں شامل نہیں بتایا گیا۔
سوال 4: کیا یہ پابندیاں فوری طور پر نافذ ہوگئی ہیں؟
جواب: نہیں۔ حکومت کو مجوزہ قانون پہلے کابینہ کے سامنے پیش کرنا ہوگا اور قانون بننے کے لیے پارلیمانی منظوری بھی درکار ہوگی۔






