جنڈ 1 گیس پیداوار بحال — ملکی معیشت کیلئے بڑی خوشخبری

جنڈ 1 گیس پیداوار بحال ہونے کے بعد گیس فیلڈ کا منظر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اٹک میں جنڈ 1 کنویں سے گیس کی پیداوار بحال، سپلائی میں نمایاں بہتری متوقع

ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ نے ضلع اٹک میں واقع جنڈ-1 کنویں سے گیس کی پیداوار کامیابی کے ساتھ بحال کر دی ہے۔ یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کو توانائی کے شدید بحران کا سامنا ہے اور گیس کی قلت نے گھریلو و صنعتی صارفین دونوں کو متاثر کر رکھا ہے۔

ترجمان کے مطابق جنڈ-1 کنویں سے یومیہ 21 ملین مکعب فٹ سے زائد گیس کی پیداوار دوبارہ شروع ہو چکی ہے، جو ماضی کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ یاد رہے کہ 2019 میں اسی کنویں سے صرف 7 ملین مکعب فٹ یومیہ گیس حاصل ہو رہی تھی، جس کے بعد پیداوار میں کمی اور تکنیکی مسائل کے باعث اس کی کارکردگی متاثر ہو گئی تھی۔ اب جدید تکنیکی اقدامات اور بحالی کے عمل کے بعد اس کنویں کو دوبارہ فعال کر لیا گیا ہے، جو ایک اہم کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔

آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کی جانب سے کیے گئے ان اقدامات میں جدید انجینئرنگ تکنیکوں اور بہتر ریزروائر مینجمنٹ شامل ہیں، جن کے ذریعے نہ صرف کنویں کی کارکردگی کو بہتر بنایا گیا بلکہ اس کی پیداواری صلاحیت میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے اقدامات سے پرانے کنوؤں کی افادیت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے، جو توانائی کے شعبے میں ایک پائیدار حکمت عملی کا حصہ ہے۔

جنڈ-1 کنویں کی بحالی سے ملک کی مجموعی گیس سپلائی میں بہتری آنے کی توقع ہے، جس سے خاص طور پر سردیوں کے موسم میں گھریلو صارفین کو درپیش مسائل میں کمی آ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ صنعتی شعبہ، جو گیس کی قلت کے باعث اکثر متاثر ہوتا ہے، اس اضافی سپلائی سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، جس سے پیداوار میں استحکام اور معیشت میں بہتری کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

یہ پیش رفت اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ ملکی ادارے محدود وسائل کے باوجود اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر توانائی کے بحران سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ توانائی کے شعبے میں خود کفالت حاصل کرنا پاکستان کے لیے ایک دیرینہ ہدف رہا ہے، اور اس طرح کے منصوبے اس سمت میں اہم قدم ثابت ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کو اس وقت گیس کی شدید کمی کا سامنا ہے، جس کے باعث مختلف شہروں میں لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے۔ ایسے حالات میں کسی بھی گیس فیلڈ یا کنویں کی بحالی نہ صرف وقتی ریلیف فراہم کرتی ہے بلکہ طویل المدتی بنیادوں پر بھی نظام کو مستحکم بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اسی طرح دیگر غیر فعال یا کم پیداوار والے کنوؤں پر بھی توجہ دی جائے اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال جاری رکھا جائے تو ملک اپنی توانائی کی ضروریات کو بہتر طریقے سے پورا کر سکتا ہے۔ جنڈ-1 کنویں کی بحالی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے جو مستقبل میں مزید مثبت نتائج کی امید دلاتی ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ خبر نہ صرف توانائی کے شعبے کے لیے حوصلہ افزا ہے بلکہ ملکی معیشت کے استحکام کے لیے بھی ایک خوش آئند اشارہ ہے، کیونکہ توانائی کی دستیابی کسی بھی ملک کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]