معروف برطانوی ماہر تعلیم جیسن آرڈے کی یاد میں لندن میں ہزاروں افراد کا اجتماع، ٹرافلگر اسکوائر میں بھرپور خراجِ عقیدت

لندن کے ٹرافلگر اسکوائر میں جیسن آرڈے کی یاد میں منعقدہ تقریب میں شرکاء
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

معروف برطانوی ماہر تعلیم جیسن آرڈے کی یاد میں لندن میں ہزاروں افراد کا اجتماع، ٹرافلگر اسکوائر میں بھرپور خراجِ عقیدت

لندن: برطانیہ کے دارالحکومت لندن کے معروف ٹرافلگر اسکوائر میں سابق کیمبرج یونیورسٹی پروفیسر جیسن آرڈے کی یاد میں ایک بڑی تعزیتی تقریب منعقد ہوئی، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کرکے ان کی زندگی، علمی خدمات اور سماجی کردار کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

تقریب کا اہتمام اسٹینڈ اپ ٹو ریززم کی جانب سے کیا گیا تھا۔ منتظمین کے مطابق تقریب میں تقریباً 30 ہزار افراد شریک ہوئے۔ شرکا نے ہاتھوں میں پھول اور مختلف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جبکہ کئی افراد نے جیسن آرڈے کی یاد میں انہیں خراج پیش کرتے ہوئے ’’Rest in Power‘‘ کے پیغامات بھی درج کیے۔

تقریب کے دوران شرکا نے جیسن آرڈے کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جبکہ مقررین نے ان کی زندگی، تدریسی خدمات اور سماجی جدوجہد پر روشنی ڈالی۔

جیسن آرڈے کو علمی اور سماجی خدمات پر یاد کیا گیا

تقریب میں برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ، دوستوں، ساتھیوں، سماجی کارکنوں اور ان کے سابق رہنماؤں نے شرکت کی۔ مقررین نے جیسن آرڈے کو ایک ایسے استاد اور سماجی رہنما کے طور پر یاد کیا جنہوں نے تعلیمی اداروں میں پسماندہ اور کم نمائندگی رکھنے والے طبقات کے طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے نمایاں کام کیا۔

میونخ ایئرپورٹ پرویتنام ایئرلائنز کا پر بوئنگ طیارہ 787-9
میونخ ایئرپورٹ پر ٹیک آف کے دوران ویتنام ایئرلائنز کے بوئنگ 787-9 کو رن وے سے باہر جانے کے واقعے کا سامنا ہوا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقامی رکن پارلیمنٹ بیل ریبیرو ایڈی نے کہا کہ لوگوں کی بڑی تعداد میں شرکت اس بات کا اظہار ہے کہ جیسن آرڈے نے اپنی زندگی میں کتنے لوگوں کو متاثر کیا۔

انہوں نے جیسن آرڈے کے خاندان کی نجی زندگی کا احترام کرنے کی اپیل بھی کی اور کہا کہ خاندان نے ایک بیٹا اور بھائی کھویا ہے، اس لیے انہیں غم منانے کے لیے وقت، سکون اور نجی جگہ فراہم کی جانی چاہیے۔

خاندان نے محبت اور حمایت پر اظہار تشکر کیا

تقریب کے اختتام پر جیسن آرڈے کے خاندان کی جانب سے جاری بیان بھی پڑھ کر سنایا گیا۔ خاندان نے ان کی وفات کے بعد ملنے والی محبت، حمایت اور تعزیتی پیغامات پر اظہار تشکر کیا۔

خاندان نے اس موقع پر لوگوں سے زندگی میں بھی مہربانی اور انسانیت کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔

میڈیا اور عوامی دباؤ پر بھی سوالات اٹھ گئے

تقریب میں بعض مقررین نے جیسن آرڈے کے خلاف ہونے والی میڈیا کوریج اور عوامی دباؤ پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

برطانوی رکن پارلیمنٹ ڈیان ایبٹ نے دعویٰ کیا کہ جیسن آرڈے کے بارے میں چند ہفتوں کے دوران بڑی تعداد میں مضامین شائع ہوئے اور ان کے مطابق ان پر ہونے والی تنقید میں ان کے استعفے کے بعد بھی کمی نہیں آئی۔

دیگر مقررین نے بھی اس معاملے میں میڈیا کے کردار، ادارہ جاتی ذمہ داری اور ایک کمزور فرد کے لیے مناسب نگہداشت کی ضرورت پر سوالات اٹھائے۔

تاہم جیسن آرڈے کی زندگی اور ان کی وفات سے متعلق مختلف دعووں اور الزامات کے پس منظر میں مکمل حقائق کا تعین متعلقہ تحقیقات اور شواہد کی روشنی میں ہی کیا جا سکتا ہے۔

موسیقی اور دعاؤں کے ذریعے خراج عقیدت

تقریب کے دوران معروف برطانوی گلوکارہ بیورلی نائٹ نے اپنا گیت Keep This Fire Burning پیش کیا، جبکہ 2014 میں دی وائس کے فاتح جیرمین جیک مین نے جیسن آرڈے کے خاندان کی درخواست پر کولڈ پلے کے گیت Fix You کا نغمہ پیش کیا۔

یونان ہیلی کاپٹر حادثہ، سیفنوس جزیرے میں تباہ شدہ ہیلی کاپٹر
یونان کے جزیرے سیفنوس میں ٹیک آف کے فوراً بعد ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوگیا۔

شرکا نے پھول اور دیگر یادگاری اشیا بھی نلسن کالم کے قریب رکھیں، جہاں جیسن آرڈے کی یاد میں ایک عارضی یادگاری مقام قائم کیا گیا۔

طلبہ اور نوجوانوں کے لیے خدمات کا ذکر

جیسن آرڈے کے قریبی دوستوں اور ساتھیوں نے ان کے تعلیمی کردار کو بھی اجاگر کیا۔ مقررین کے مطابق انہوں نے مختلف رہنمائی اور مینٹورشپ پروگرامز قائم کرنے میں کردار ادا کیا اور مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے طلبہ اور ماہرین تعلیم کے لیے ذہنی صحت کی معاونت سمیت متعدد اقدامات کی حمایت کی۔

ان کے ساتھیوں کا کہنا تھا کہ جیسن آرڈے نے نوجوانوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ اعلیٰ تعلیم اور علمی دنیا میں ان کے لیے بھی جگہ موجود ہے۔

تقریب میں شریک ونڈرش مہم کے کارکن پیٹرک ورنن نے بھی جیسن آرڈے کی علمی خدمات، انسانی ہمدردی، عزم اور ان لوگوں کو متاثر کرنے والے کردار کو یاد کیا جن کے ساتھ انہوں نے کام کیا۔

جیسن آرڈے کی زندگی پر بحث جاری

جیسن آرڈے، جن کی عمر 41 سال بتائی گئی، جمعہ کو جنوبی لندن میں اپنے گھر پر ہنگامی خدمات کی آمد کے بعد مردہ قرار دیے گئے تھے۔ ان کی وفات سے قبل وہ کیمبرج یونیورسٹی میں سماجیاتِ تعلیم کے پروفیسر کے عہدے سے مستعفی ہو چکے تھے۔

ان کے کیریئر اور علمی کام سے متعلق بعض الزامات اور دعووں پر بھی حالیہ عرصے میں بحث ہوئی، جن میں مبینہ سرقہ علمی کے الزامات بھی شامل تھے۔ جیسن آرڈے نے ان الزامات کو مسترد کیا تھا۔

لندن کے ٹرافلگر اسکوائر میں ہونے والی بڑی تعزیتی تقریب نے ظاہر کیا کہ ان کی وفات نے ان کے ساتھیوں، طلبہ، سماجی کارکنوں اور برطانوی عوام کے ایک بڑے حلقے کو متاثر کیا ہے۔ شرکا نے ان کی علمی خدمات اور معاشرے کے کم نمائندگی رکھنے والے طبقات کے لیے ان کے کام کو یاد کرتے ہوئے ان کے خاندان سے اظہار یکجہتی کیا۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: جیسن آرڈے کون تھے؟
جیسن آرڈے ایک معروف برطانوی ماہر تعلیم اور سماجیات کے پروفیسر تھے جو کیمبرج یونیورسٹی سے وابستہ رہے۔

سوال 2: جیسن آرڈے کی یاد میں تقریب کہاں منعقد ہوئی؟
جیسن آرڈے کی یاد میں تقریب لندن کے معروف ٹرافلگر اسکوائر میں منعقد ہوئی۔

سوال 3: تقریب میں کتنے افراد نے شرکت کی؟
منتظمین کے مطابق تقریب میں تقریباً 30 ہزار افراد نے شرکت کی۔

سوال 4: تقریب میں جیسن آرڈے کو کیسے یاد کیا گیا؟
شرکا نے ان کی علمی خدمات، طلبہ اور پسماندہ طبقات کے لیے کام اور ان کے سماجی کردار کو خراج عقیدت پیش کیا۔

متعلقہ خبریں