لاہور گھریلو ملازمہ تشدد کیس: 11 سالہ بچی پر مبینہ تشدد، مرکزی ملزم گرفتار

لاہور گھریلو ملازمہ تشدد کیس میں متاثرہ کمسن گھریلو ملازمہ کے معاملے پر پولیس کارروائی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

لاہور میں 11 سالہ گھریلو ملازمہ پر مبینہ تشدد، پولیس نے مرکزی ملزم گرفتار کر لیا

لاہور گھریلو ملازمہ تشدد کیس نے ایک بار پھر بچوں کے تحفظ، گھریلو ملازمین کے حقوق اور کم عمر بچوں سے مشقت جیسے اہم سماجی مسائل کو اجاگر کر دیا ہے۔ اچھرہ کے علاقے میں 11 سالہ گھریلو ملازمہ پر مبینہ تشدد کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ واقعے کے دیگر پہلوؤں کی بھی تحقیقات جاری ہیں۔

پولیس کے مطابق متاثرہ بچی، جس کی شناخت عروج فاطمہ کے نام سے ہوئی ہے، شاہ جمال کے علاقے میں ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرتی تھی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس پر مبینہ طور پر چوری کا الزام لگایا گیا، جس کے بعد اس کے ساتھ تشدد کیا گیا۔

ویڈیو سامنے آنے کے بعد کارروائی

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں ایک شخص کمسن بچی کو پلاسٹک کے پائپ سے مارتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد شہریوں نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا، جس پر پولیس نے فوری کارروائی کی۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق:

  • متاثرہ بچی کی عمر تقریباً 11 سال بتائی جا رہی ہے۔
  • واقعہ لاہور کے علاقے اچھرہ میں پیش آیا۔
  • پولیس نے مرکزی ملزم قربان کو گرفتار کر لیا۔
  • مقدمہ درج کرکے کیس انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

والد اور گھر کے مالکان سے متعلق دعوے

مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ ویڈیو میں تشدد کرنے والا شخص متاثرہ بچی کا والد ہے۔ بعض اہلِ محلہ کے مطابق مبینہ طور پر گھر کے مالکان کے کہنے پر بچی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ وہ خود بھی موقع پر موجود تھے۔

تاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر ابھی تصدیق نہیں ہوئی اور پولیس کا کہنا ہے کہ تمام پہلوؤں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات جاری ہیں۔

ڈی آئی جی آپریشنز کا نوٹس

واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا کہ:

  • بچوں پر تشدد ناقابل برداشت ہے۔
  • کم عمر بچوں کے استحصال میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔
  • کسی بھی ذمہ دار شخص کے ساتھ رعایت نہیں برتی جائے گی۔

لاہور میں بچوں پر تشدد کا ایک اور افسوسناک واقعہ

اسی دوران لاہور میں گھریلو ملازمہ سے متعلق ایک اور افسوسناک واقعہ بھی سامنے آیا، جہاں نصیر آباد کے علاقے میں 12 سالہ گھریلو ملازمہ کنیز فاطمہ انتقال کر گئی۔

پولیس کے مطابق:

  • بچی کا تعلق فیصل آباد سے تھا۔
  • وہ تقریباً ایک ماہ سے ایک گھر میں ملازمہ تھی۔
  • والد نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی بیٹی پر تشدد کیا گیا۔
  • پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد موت کی اصل وجہ واضح ہوگی۔

یہ دونوں واقعات کم عمر گھریلو ملازمین کے تحفظ سے متعلق سنجیدہ سوالات کو جنم دیتے ہیں۔

قانونی اور سماجی پہلو

ماہرین کے مطابق:

  • بچوں سے مشقت کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد ضروری ہے۔
  • گھریلو ملازمین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔
  • بچوں پر تشدد کے مقدمات کی فوری اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔
  • معاشرے میں بچوں کے تحفظ کے حوالے سے آگاہی بڑھانے کی ضرورت ہے۔

لاہور گھریلو ملازمہ تشدد کیس نے کم عمر بچوں کے تحفظ اور گھریلو ملازمین کے حقوق کے حوالے سے ایک بار پھر اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ پولیس نے مرکزی ملزم کو گرفتار کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ دیگر حقائق قانونی کارروائی اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گے

READ MORE FAQS

سوال: لاہور گھریلو ملازمہ تشدد کیس کہاں پیش آیا؟

جواب: لاہور کے علاقے اچھرہ میں۔

سوال: متاثرہ بچی کی عمر کتنی ہے؟

جواب: تقریباً 11 سال۔

سوال: پولیس نے کیا کارروائی کی؟

جواب: مرکزی ملزم کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔