میو ہسپتال میں منکی پاکس کے مزید کیسز، 18 سالہ نوجوان متاثر
لاہور میں منکی پاکس کے ایک اور کیس کی تصدیق نے شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ محکمہ صحت نے صورتحال پر کڑی نظر رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق 18 سالہ نوجوان ریحان میں منکی پاکس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد شہر میں کنفرم کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ مریض کو فوری طور پر میو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں اسے آئسولیشن وارڈ میں رکھا گیا ہے تاکہ وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق اس وقت آئسولیشن وارڈ میں مجموعی طور پر 7 مریض زیر علاج ہیں، جن میں سے 4 میں منکی پاکس کی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 3 مریضوں کے ٹیسٹ کے نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ منکی پاکس ایک وائرل بیماری ہے جو قریبی جسمانی رابطے، متاثرہ شخص کے جسمانی سیال، جلد کے زخموں یا آلودہ اشیاء کے ذریعے منتقل ہو سکتی ہے۔ اس بیماری کی علامات میں بخار، جسم میں درد، لمف نوڈز کی سوجن اور جلد پر دانے یا چھالے شامل ہیں۔
محکمہ صحت کے حکام نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے، جن میں غیر ضروری جسمانی رابطے سے گریز، ہاتھوں کی باقاعدگی سے صفائی، اور کسی بھی مشتبہ علامات کی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کرنا شامل ہے۔ خاص طور پر ایسے افراد جو حال ہی میں بیرون ملک سفر کر کے آئے ہوں یا کسی متاثرہ شخص کے قریبی رابطے میں رہے ہوں، انہیں اپنی صحت پر خصوصی توجہ دینے کی تاکید کی گئی ہے۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اگرچہ منکی پاکس عام طور پر خطرناک نہیں ہوتا، تاہم کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد، بچوں اور بزرگوں کے لیے یہ پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔ اسی لیے بروقت تشخیص اور علاج نہایت ضروری ہے۔
حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ہسپتالوں میں ضروری سہولیات موجود ہیں اور صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔
موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ عوام احتیاط، ذمہ داری اور آگاہی کا مظاہرہ کریں تاکہ اس بیماری کے پھیلاؤ کو محدود رکھا جا سکے اور شہر کو کسی بڑے خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔

