زیادہ نمک صحت کے لیے کتنا خطرناک؟ روزانہ محفوظ مقدار جان لیں

روزانہ نمک کی مقدار اور صحت پر اثرات
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

روزانہ کتنا نمک کھانا چاہیے؟ ماہرین نے صحت کے بڑے خطرات سے آگاہ کر دیا

روزانہ نمک کی مقدار صحت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، لیکن ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ نمک کا استعمال متعدد خطرناک بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ نمک کھانوں کا ذائقہ بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تاہم اس کی زیادتی جسم پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق نمک میں تقریباً 40 فیصد سوڈیم اور 60 فیصد کلورائیڈ شامل ہوتا ہے۔ اگرچہ جسم کو اعصابی نظام، عضلات کے افعال اور پانی و منرلز کے توازن کے لیے سوڈیم کی محدود مقدار درکار ہوتی ہے، لیکن اس کی زیادتی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔

عالمی طبی ماہرین کے مطابق ایک صحت مند بالغ فرد کو روزانہ 5 گرام یا تقریباً ایک چائے کے چمچ سے زیادہ نمک استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اس مقدار سے زیادہ نمک کھانے سے مختلف طبی پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

زیادہ نمک استعمال کرنے کے بعد سب سے عام مسئلہ جسم میں پانی جمع ہونا ہے۔ اس کی وجہ سے پیٹ پھول سکتا ہے اور انسان خود کو بھاری محسوس کر سکتا ہے۔ جسم اضافی سوڈیم کے اثرات کو متوازن کرنے کے لیے زیادہ پانی ذخیرہ کرتا ہے جس کے نتیجے میں سوجن پیدا ہو سکتی ہے۔

بلڈ پریشر میں اضافہ بھی زیادہ نمک کے استعمال کا ایک اہم اثر ہے۔ جب جسم میں سوڈیم کی مقدار بڑھتی ہے تو گردوں پر اضافی دباؤ پڑتا ہے اور بلڈ پریشر بلند ہونے لگتا ہے۔ مسلسل بلند بلڈ پریشر دل کی بیماریوں، فالج اور ہارٹ اٹیک کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہاتھوں، پیروں اور چہرے پر اچانک سوجن بھی نمک کی زیادتی کی علامت ہو سکتی ہے۔ جسم میں اضافی پانی جمع ہونے سے یہ علامات ظاہر ہوتی ہیں، خاص طور پر ان افراد میں جو مسلسل زیادہ نمک والی غذا استعمال کرتے ہیں۔

زیادہ نمک کھانے کے بعد شدید پیاس لگنا بھی ایک عام علامت ہے۔ جسم خلیات سے پانی کھینچ کر سوڈیم کی مقدار کو متوازن کرنے کی کوشش کرتا ہے، جس کے نتیجے میں انسان کو زیادہ پانی پینے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ بار بار باتھ روم جانا، جسمانی وزن میں عارضی اضافہ، نیند کا متاثر ہونا اور غیر معمولی کمزوری بھی نمک کے زیادہ استعمال سے جڑی علامات میں شامل ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق نمک کی مقدار کم کرنے کے لیے پراسیسڈ فوڈ، چپس، فاسٹ فوڈ، پیک شدہ اسنیکس اور زیادہ نمک والی اشیاء کے استعمال میں احتیاط ضروری ہے۔ تازہ پھل، سبزیاں اور متوازن غذا صحت مند زندگی کے لیے بہتر انتخاب سمجھے جاتے ہیں۔

روزانہ نمک کی مقدار کو متوازن رکھنا نہ صرف دل اور گردوں کی صحت کے لیے مفید ہے بلکہ مجموعی جسمانی صحت اور طویل عمر کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]