جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کالعدم قرار، آزاد کشمیر حکومت کا بڑا فیصلہ

آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے عوامی ایکشن کمیٹی کالعدم قرار دینے کا نوٹیفکیشن
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کالعدم قرار، آزاد کشمیر حکومت کا بڑا فیصلہ، تنظیم کی سرگرمیاں ریاستی مفادات اور عوامی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کی گئی ہیں


مظفرآباد: آزاد کشمیر حکومت نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دیتے ہوئے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ محکمہ داخلہ آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تنظیم کو انسداد دہشت گردی قانون کے تحت فرسٹ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے۔


سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور اس سے وابستہ دیگر ناموں سے کام کرنے والی تنظیموں کو بھی کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ تنظیم کے خلاف امن و امان اور ریاستی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے معقول شواہد موجود ہیں۔


محکمہ داخلہ کے مطابق تنظیم پر ریاست میں انتشار پیدا کرنے، عوام میں خوف و ہراس پھیلانے، معاشرتی عدم تحفظ کو فروغ دینے اور امن عامہ کو متاثر کرنے کے الزامات ہیں۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ تنظیم کی سرگرمیاں ریاستی مفادات اور عوامی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کی گئی ہیں۔

آزاد کشمیر سکیورٹی انتظامات احتجاج
9 جون احتجاجی کال کے پیش نظر آزاد کشمیر میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔


حکومتی اعلامیے کے مطابق صدر آزاد کشمیر نے عوامی ایکشن کمیٹی کالعدم قرار دینے کی منظوری دی، جس کے بعد محکمہ داخلہ نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کالعدم قرار دینے کے ساتھ اس سے وابستہ عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔


عوامی ایکشن کمیٹی کالعدم قرار دینا ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو ہڑتال کی کال دے رکھی تھی۔ اس حوالے سے آزاد کشمیر حکومت پہلے ہی واضح کر چکی تھی کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے، تاہم قانون ہاتھ میں لینے، راستے بند کرنے اور عوامی زندگی مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔


حکومت آزاد کشمیر کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 مطالبات میں سے 35 مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود احتجاج اور ہڑتال پر اصرار عوامی مفاد کے بجائے سیاسی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔


حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی بھی گروہ یا تنظیم کی جانب سے امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ دوسری جانب اس فیصلے کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں مختلف ردعمل سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔


آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال میں اس فیصلے کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ممکنہ اثرات آئندہ دنوں میں سامنے آ سکتے ہیں۔

 
READ MORE FAQS”

سوال: جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کیوں کالعدم قرار دیا گیا؟

جواب: محکمہ داخلہ آزاد کشمیر کے مطابق تنظیم کے خلاف امن و امان، ریاستی سلامتی اور عوامی تحفظ کو نقصان پہنچانے کے شواہد موجود تھے۔

سوال: تنظیم کو کس قانون کے تحت کالعدم قرار دیا گیا؟

جواب: تنظیم کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت فرسٹ شیڈول میں شامل کرتے ہوئے کالعدم قرار دیا گیا۔

سوال: کیا تنظیم کے دیگر نام بھی نوٹیفکیشن میں شامل ہیں؟

جواب: جی ہاں، محکمہ داخلہ نے تنظیم کے متبادل نام بھی نوٹیفکیشن میں شامل کیے ہیں۔

سوال: جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے کیا اعلان کیا تھا؟

جواب: تنظیم نے 9 جون کو ہڑتال کی کال دے رکھی تھی۔

سوال: حکومت آزاد کشمیر کا احتجاج کے حوالے سے کیا مؤقف ہے؟

جواب: حکومت کا کہنا ہے کہ پُرامن احتجاج جمہوری حق ہے، تاہم راستے بند کرنے اور عوامی زندگی مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]