مومنہ اقبال ہراسگی کیس میں اہم پیشرفت، عدالت نے حتمی دلائل طلب کر لیے
مومنہ اقبال ہراسگی کیس
مومنہ اقبال ہراسگی کیس میں ایک اہم عدالتی پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں این سی سی آئی اے (NCCIA) نے اپنی تفتیش کے دوران پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے ایم پی اے ثاقب چدھڑ کو تفتیش میں قصوروار قرار دے دیا ہے۔ دوسری جانب لاہور کی سیشن کورٹ نے کیس کی آئندہ سماعت پر فریقین کے وکلاء کو حتمی دلائل پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ملزمان کی عبوری ضمانت میں 3 ستمبر تک توسیع کر دی۔
یہ مقدمہ اداکارہ مومنہ اقبال کی درخواست پر درج کیا گیا تھا، جس میں انہوں نے ہراساں کیے جانے اور مبینہ دھمکیوں کا الزام عائد کیا تھا۔ کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج نصرت صدیقی نے کی۔
سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ایم پی اے ثاقب چدھڑ کے حوالے سے تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر انہیں تفتیش میں قصوروار قرار دیا گیا ہے۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ شریک ملزمہ سمیرا نے حال ہی میں اپنا موبائل فون این سی سی آئی اے کے حوالے کیا، جسے فرانزک تجزیے کے لیے بھجوا دیا گیا ہے تاکہ ڈیجیٹل شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔
اداکارہ مومنہ اقبال کے وکیل عدنان احسان نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان کو عبوری ضمانت پر رہائی حاصل ہونے کی وجہ سے درخواست گزار کو خدشات لاحق ہیں، اس لیے ان کی ضمانت خارج کی جائے تاکہ انصاف کے عمل پر کسی قسم کا اثر نہ پڑے۔

دوسری جانب ملزمان کے وکیل نے عدالت سے مؤقف اختیار کیا کہ قانونی کارروائی ابھی جاری ہے اور تمام الزامات کا فیصلہ عدالت میں دستیاب شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے عبوری ضمانت برقرار رکھنے کی استدعا کی۔
عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد فوری فیصلہ محفوظ کرنے کے بجائے آئندہ سماعت پر حتمی دلائل طلب کر لیے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے ایم پی اے ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ سمیرا کی عبوری ضمانت میں 3 ستمبر تک توسیع کر دی۔
اس مقدمے میں ڈیجیٹل فرانزک رپورٹ کو بھی اہمیت حاصل ہے کیونکہ موبائل فون سے حاصل ہونے والے شواہد کیس کی آئندہ سمت کا تعین کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ فرانزک رپورٹ موصول ہونے کے بعد عدالت کے سامنے مزید حقائق پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق تفتیشی ادارے کی رائے اہم ضرور ہوتی ہے، تاہم یہ حتمی عدالتی فیصلہ نہیں ہوتی۔ عدالت دستیاب شواہد، گواہوں کے بیانات اور فرانزک رپورٹس سمیت تمام قانونی مواد کا جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ صادر کرے گی۔
یہ بھی واضح رہے کہ کسی بھی ملزم کو عدالت کی جانب سے جرم ثابت ہونے تک قانون کی نظر میں بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس لیے تفتیشی رپورٹ کو حتمی عدالتی فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
اداکارہ مومنہ اقبال کی درخواست پر این سی سی آئی اے نے ہراسگی اور مبینہ دھمکیوں کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے، جبکہ کیس کی مزید سماعت مقررہ تاریخ پر ہوگی جہاں وکلاء اپنے حتمی دلائل پیش کریں گے اور عدالت آئندہ قانونی کارروائی کا تعین کرے گی۔
اس مقدمے پر شوبز حلقوں، قانونی ماہرین اور عوام کی بھی گہری نظر ہے کیونکہ یہ معاملہ سائبر ہراسگی، ڈیجیٹل شواہد اور قانونی انصاف جیسے اہم پہلوؤں سے جڑا ہوا ہے۔ آئندہ سماعت میں فرانزک رپورٹ اور حتمی دلائل کیس کی پیش رفت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔






