اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کا مقدمہ، ایم پی اے ثاقب چدھڑ کے خلاف کیس درج

اداکارہ مومنہ اقبال اور ایم پی اے ثاقب چدھڑ سے متعلق ہراسانی کیس کی فائل فوٹو
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کا مقدمہ، ایم پی اے ثاقب چدھڑ کے خلاف کیس درج، مقدمے میں ثاقب چدھڑ کی عبوری ضمانت منظور

لاہور: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے اداکارہ مومنہ اقبال کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے، بلیک میل کرنے اور دھمکیاں دینے کے الزام میں رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مقدمہ پیکا ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ہے، جس میں ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ سمیرا خان اور دیگر افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر میں کیا الزامات لگائے گئے؟

ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزمان نے اداکارہ مومنہ اقبال کو مختلف طریقوں سے ہراساں کیا، غیر قانونی نگرانی (سرویلنس) کی اور انہیں اور ان کے اہل خانہ کو دھمکیاں دیں۔

شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مومنہ اقبال کو جب ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی پہلی شادی کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے شادی سے انکار کر دیا، جس کے بعد مبینہ طور پر انہیں دباؤ میں لانے اور بلیک میل کرنے کی کوشش کی گئی۔

ایف آئی آر کے مطابق اداکارہ کو نجی ویڈیوز بھیج کر بلیک میل کیا گیا اور مختلف ذرائع سے دھمکیاں دی گئیں۔

سارہ چوہدری طلاق اور نجی زندگی پر گفتگو کرتے ہوئے
سارہ چوہدری نے پوڈکاسٹ میں اپنی طلاق اور زندگی کے اہم فیصلوں پر کھل کر بات کی۔

رشتہ ختم کروانے کا بھی الزام

مقدمے میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ نے سال 2023 میں اداکارہ مومنہ اقبال کے خلاف مبینہ طور پر جھوٹے الزامات لگا کر ان کا ایک رشتہ ختم کروایا۔

شکایت کے مطابق بعد ازاں مومنہ اقبال اور ان کے شوہر کو بھی دھمکی آمیز پیغامات موصول ہوئے، جس کے باعث معاملہ سائبر کرائم حکام کے پاس لے جایا گیا۔

عدالت نے عبوری ضمانت منظور کر لی

دوسری جانب لاہور سیشن کورٹ نے مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کے مقدمے میں ثاقب چدھڑ کی عبوری ضمانت منظور کر لی ہے۔

عدالت نے پولیس اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ 24 جون تک ثاقب چدھڑ کو گرفتار نہ کیا جائے۔ کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ پر ہوگی جبکہ تفتیشی ادارے مقدمے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

تحقیقات جاری

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے مقدمے کی تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام شواہد، ڈیجیٹل ریکارڈ اور متعلقہ بیانات کی روشنی میں قانونی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔

یہ مقدمہ سوشل میڈیا، سائبر ہراسگی اور آن لائن بلیک میلنگ سے متعلق قوانین کے نفاذ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے، جس پر شوبز حلقوں اور عوامی سطح پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

 
READ MORE FAQS”

سوال: مومنہ اقبال کیس میں مقدمہ کس کے خلاف درج ہوا؟

جواب: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔

سوال: مقدمہ کس قانون کے تحت درج کیا گیا؟

جواب: مقدمہ پیکا (PECA) ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ہے۔

سوال: ایف آئی آر میں کیا الزامات لگائے گئے ہیں؟

جواب: ایف آئی آر کے مطابق بلیک میلنگ، دھمکیاں، غیر قانونی نگرانی اور نجی ویڈیوز کے ذریعے دباؤ ڈالنے کے الزامات شامل ہیں۔

سوال: عدالت نے کیا فیصلہ دیا؟

جواب: لاہور سیشن کورٹ نے ثاقب چدھڑ کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے 24 جون تک گرفتاری سے روک دیا ہے۔

سوال: مومنہ اقبال نے شادی سے انکار کیوں کیا؟

جواب: ایف آئی آر کے مطابق مومنہ اقبال کو ثاقب چدھڑ کی پہلی شادی کا علم ہونے پر انہوں نے شادی سے انکار کر دیا تھا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]