قومی اقتصادی کونسل نے مالی سال 2026-27 کے 3669 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دے دی، چار نکاتی قومی ایجنڈے بھی متفقہ طور پر منظور
قومی اقتصادی کونسل (NEC) نے مالی سال 2026-27 کے لیے 3669 ارب روپے کے قومی ترقیاتی بجٹ اور چار نکاتی قومی ایجنڈے کی متفقہ طور پر منظوری دے دی۔ یہ فیصلہ وزیراعظم Shehbaz Sharif کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کیا گیا، جس میں وفاقی وزراء، صوبائی وزرائے اعلیٰ اور کونسل کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون اور یکجہتی کو ملکی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی ترجیحات کے حصول کے لیے مشترکہ کوششوں کو مزید مؤثر بنانا ہوگا۔ انہوں نے معاشی استحکام کے لیے حکومتی معاشی ٹیم کی کارکردگی کو بھی سراہا۔
شرکاء نے خلیجی خطے میں حالیہ کشیدگی کے باوجود پاکستانی معیشت کو مستحکم رکھنے اور سفارتی سطح پر امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں پر وزیراعظم کو خراج تحسین پیش کیا۔

آبادی، صحت اور تعلیم قومی ترجیحات
اجلاس میں بڑھتی ہوئی آبادی کو ملک کو درپیش بڑے چیلنجز میں سے ایک قرار دیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ صحت کے نظام کو بہتر بنانا، بچوں میں غذائی کمی اور نشوونما کے مسائل کا خاتمہ، اسکول سے باہر بچوں کو تعلیم فراہم کرنا اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید فنی اور پیشہ ورانہ مہارتوں سے آراستہ کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بہتر روزگار کے مواقع میسر آ سکیں۔ ان کے مطابق برآمدات پر مبنی معیشت ہی پائیدار اقتصادی ترقی کی بنیاد ہے۔
ترقیاتی بجٹ کی تفصیلات
قومی اقتصادی کونسل نے مالی سال 2026-27 کے لیے مجموعی قومی ترقیاتی بجٹ 3669 ارب روپے مقرر کیا۔ اس میں:
وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے لیے 1000 ارب روپے
صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرامز کے لیے 2218 ارب روپے
سرکاری اداروں (SOEs) کے ترقیاتی پروگراموں کے لیے 451 ارب روپے
مختص کرنے کی منظوری دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ مالی سال 2025-26 میں وفاقی PSDP پر 820 ارب روپے، صوبائی ترقیاتی پروگراموں پر 2938 ارب روپے اور سرکاری اداروں کے پروگراموں پر 355 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔
معاشی شرح نمو کے اہداف
قومی اقتصادی کونسل نے مالی سال 2025-26 کے لیے مجموعی قومی پیداوار (GDP) کی شرح نمو 3.7 فیصد جبکہ مالی سال 2026-27 کے لیے 4 فیصد شرح نمو کے ہدف کی منظوری بھی دی۔
اعلامیے کے مطابق تمام وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وزارت منصوبہ بندی کے ساتھ مل کر سالانہ منصوبہ 2026-27 کے اہداف کے حصول کے لیے کام کریں۔
ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی

اجلاس کو اپریل 2025 سے مارچ 2026 تک مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی (CDWP) اور اقتصادی رابطہ کمیٹی برائے قومی ترقی (ECNEC) کی کارکردگی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق:
CDWP نے 316 ارب روپے مالیت کی 116 ترقیاتی اسکیموں کی منظوری دی۔
ECNEC نے 5.117 کھرب روپے لاگت کی 72 ترقیاتی سکیموں کی منظوری دی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے لیے نئی پالیسی مرتب کی جا چکی ہے جس میں مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے منصوبوں کی جانچ اور نگرانی کا پائلٹ پروگرام بھی شامل ہے۔
“اڑان پاکستان” کے 11 مشنز کی منظوری
قومی اقتصادی کونسل نے “اڑان پاکستان” پروگرام کے تحت قومی اقتصادی ترقی کے 11 اہم مشنز کی بھی منظوری دی۔ وزارت منصوبہ بندی و ترقی کو ہدایت کی گئی کہ وہ وفاقی وزارتوں اور صوبائی حکومتوں کے تعاون سے ان مشنز کے لیے جامع روڈ میپ تیار کرے۔
اجلاس کے اختتام پر وزیراعظم نے تمام نکات کی اتفاق رائے سے منظوری پر شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ قومی معاملات پر اتحاد اور اتفاق رائے ہی پاکستان کے روشن اور مستحکم مستقبل کی ضمانت ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اجلاس
اجلاس کو مالی سال 2025-26 کے لیے معیشت کی کارکردگی کے حوالےسے نظر ثانی شدہ اشاریے پیش کیے گئے۔ قومی اقتصادی کونسل نے وفاقی پی ایس ڈی پی کے لیے ایک ہزار ارب، صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 2218 ارب… pic.twitter.com/STgSoHMZNE
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) June 10, 2026
READ MORE FAQS”
سوال: قومی اقتصادی کونسل نے کتنے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی؟
جواب: مالی سال 2026-27 کے لیے 3669 ارب روپے کے قومی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی گئی۔
سوال: وفاقی PSDP کے لیے کتنی رقم مختص کی گئی؟
جواب: وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 1000 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
سوال: اگلے مالی سال کے لیے شرح نمو کا ہدف کیا ہے؟
جواب: مالی سال 2026-27 کے لیے 4 فیصد شرح نمو کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
سوال: اڑان پاکستان پروگرام کیا ہے؟
جواب: یہ قومی اقتصادی ترقی کے لیے ایک حکومتی پروگرام ہے جس کے تحت 11 اہم اقتصادی مشنز کی منظوری دی گئی ہے۔
سوال: اجلاس کی صدارت کس نے کی؟
جواب: اجلاس کی صدارت وزیراعظم شہباز شریف نے کی۔






