پاکستان اور گوگل میں اہم معاہدہ، 1.5 لاکھ ڈیجیٹل سرٹیفکیٹس کا ہدف

پاکستان گوگل معاہدہ، وزیراعظم کے استقبالیے میں گوگل ٹیم
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان اور گوگل کا ڈیجیٹل مہارتوں اور اے آئی کے فروغ کیلئے اہم معاہدہ

پاکستان گوگل معاہدہ ملک میں ڈیجیٹل مہارتوں، مصنوعی ذہانت، آئی ٹی برآمدات اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے گوگل ٹیم کے اعزاز میں استقبالیہ دیا گیا، جس کے دوران پاکستان اور گوگل کے درمیان ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ پاکستان کی جانب سے سیکریٹری ضرار ہاشم خان جبکہ گوگل کے جنوب مشرقی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے پبلک پالیسی سربراہ ڈیوڈ ویلر نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ معاہدے کا بنیادی مقصد پاکستان میں ڈیجیٹل مہارتوں کو فروغ دینا، آئی ٹی برآمدات میں اضافہ کرنا، مصنوعی ذہانت کے استعمال کو وسعت دینا اور نوجوانوں کے لیے ٹیکنالوجی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ معاہدے کے تحت گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس پروگرام کو مزید وسعت دینے پر تعاون کیا جائے گا اور گوگل نے پاکستان میں 2026 کے دوران ایک لاکھ 50 ہزار گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے پاکستانی نوجوان مختلف ڈیجیٹل شعبوں میں عملی اور پیشہ ورانہ مہارتیں حاصل کرسکیں گے، جس سے مقامی اور عالمی سطح پر روزگار کے مواقع میں اضافے کی توقع ہے۔ پاکستان گوگل معاہدہ کے تحت پاکستانی طلبہ کے لیے جدید مصنوعی ذہانت کے ٹولز تک رسائی بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق پاکستانی طلبہ کو ایک سال تک گوگل اے آئی پلس اور جیمنی سمیت جدید اے آئی ٹولز تک مفت رسائی حاصل ہوگی، جس سے تعلیم، تحقیق، تخلیقی کام اور ٹیکنالوجی سیکھنے کے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ پاکستان اور گوگل نے اسلام آباد میں اے آئی سینٹر آف ایکسیلنس کے قیام کے لیے تعاون پر بھی اتفاق کیا ہے۔ اس مرکز کے ذریعے پاکستانی نوجوانوں اور انسانی وسائل کو عالمی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تربیت دینے کی کوشش کی جائے گی، جبکہ مصنوعی ذہانت، ڈیٹا ٹیکنالوجی اور دیگر جدید شعبوں میں تربیتی مواقع بڑھائے جائیں گے۔ مفاہمتی یادداشت میں پاکستان کی موبائل ایپلی کیشنز اور گیمنگ انڈسٹری کی عالمی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے، ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے اور ڈیجیٹل تجارت کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے بھی تعاون شامل ہے۔ حکومت اور گوگل کے درمیان سرکاری خدمات کی فراہمی اور حکومتی امور کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال پر تعاون بھی ہوگا۔ ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن کے منصوبے میں ڈیٹا اینالیٹکس کے لیے اے آئی سے استفادہ کرنے کی تجویز بھی اس تعاون کا حصہ ہے، جس سے سرکاری نظام میں ڈیٹا کے بہتر استعمال اور فیصلہ سازی کو مزید مؤثر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے استعمال کو ٹیکنالوجی اور تعلیم تک محدود رکھنے کے بجائے زراعت کے شعبے میں بھی استعمال کرنے پر توجہ دی جائے گی۔ اس کے تحت فصلوں کی نگرانی، پیداوار کی پیش گوئی اور پائیدار زرعی طریقوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد زرعی شعبے میں جدید ڈیجیٹل حل متعارف کرانا اور کسانوں و متعلقہ اداروں کو بہتر معلومات فراہم کرنا ہے۔ پاکستان کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی دلانے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے استفادہ کرنے پر بھی تعاون کیا جائے گا۔ اس حوالے سے کاروباری اداروں کو ڈیجیٹل ذرائع، آن لائن مارکیٹس اور جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے مواقع فراہم کرنے پر توجہ دی جائے گی۔ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات اور مسابقتی صلاحیت کے لیے روڈ میپ تیار کرنے کی غرض سے حکومت، گوگل اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ٹاسک فورس قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ یہ ٹاسک فورس آئی ٹی برآمدات میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ شعبے میں ترقی کے امکانات اور نئے مواقع کا جائزہ لے گی۔ پاکستان اور گوگل کے درمیان تعاون سے نوجوانوں کی ڈیجیٹل مہارتوں، اسٹارٹ اپس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں مواقع بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ اس شراکت داری کے ذریعے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرانے، انہیں عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ کے لیے تیار کرنے اور مقامی سطح پر نئے کاروباری آئیڈیاز کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔ حکومت پاکستان ڈیجیٹل معیشت کو وسعت دینے اور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے اور اس تناظر میں گوگل کے ساتھ تعاون کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومت کے وژن کے مطابق پاکستان کی آئی ٹی برآمدات اور ڈیجیٹل معیشت کو 2030 تک 30 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف ہے۔ پاکستان گوگل معاہدہ اس وسیع تر ڈیجیٹل وژن کے تحت ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس میں تعلیم، مصنوعی ذہانت، آئی ٹی برآمدات، ڈیجیٹل تجارت، سرکاری خدمات، زراعت، اسٹارٹ اپس اور چھوٹے کاروبار سمیت متعدد شعبوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اگر طے شدہ منصوبوں پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا جاتا ہے تو پاکستانی نوجوانوں کے لیے جدید ڈیجیٹل مہارتیں حاصل کرنے اور عالمی روزگار کی مارکیٹ تک رسائی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ اسی طرح آئی ٹی کمپنیوں، فری لانسرز، اسٹارٹ اپس اور چھوٹے کاروباروں کو بھی عالمی سطح پر اپنی خدمات اور مصنوعات متعارف کرانے کے لیے نئے مواقع مل سکتے ہیں۔ مجموعی طور پر پاکستان اور گوگل کے درمیان ہونے والا یہ تعاون ملک میں ڈیجیٹل تبدیلی اور جدت کے عمل کو تیز کرنے کی کوشش ہے۔ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار کے پیش نظر پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کیا جائے، آئی ٹی صنعت کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جائے اور مقامی کاروباروں کو عالمی ڈیجیٹل معیشت سے جوڑا جائے۔ پاکستان گوگل معاہدے کے تحت ہونے والے اقدامات اگر مقررہ اہداف کے مطابق آگے بڑھتے ہیں تو مستقبل میں ملک کی ڈیجیٹل معیشت، آئی ٹی برآمدات، انسانی وسائل اور ٹیکنالوجی کے شعبے پر مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

READ MORE FAQS
  1. پاکستان اور گوگل کے درمیان معاہدے کا مقصد کیا ہے؟

اس معاہدے کا مقصد ڈیجیٹل مہارتوں، مصنوعی ذہانت، آئی ٹی برآمدات، ڈیجیٹل تجارت اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔

  1. 2026 میں گوگل کتنے کیریئر سرٹیفکیٹس کا ہدف رکھتا ہے؟

گوگل نے پاکستان میں 2026 کے لیے 1 لاکھ 50 ہزار کیریئر سرٹیفکیٹس کا ہدف مقرر کیا ہے۔

  1. کیا پاکستانی طلبہ کو گوگل کے اے آئی ٹولز تک مفت رسائی ملے گی؟

فراہم کردہ معلومات کے مطابق پاکستانی طلبہ کو ایک سال تک گوگل اے آئی پلس اور جیمنی سمیت جدید اے آئی ٹولز تک مفت رسائی فراہم کی جائے گی۔

  1. اے آئی سینٹر آف ایکسیلنس کہاں قائم ہوگا؟

پاکستان اور گوگل کے درمیان اسلام آباد میں اے آئی سینٹر آف ایکسیلنس کے قیام کے لیے تعاون پر اتفاق ہوا ہے۔