پاکستان میں دہشتگردی: وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت پر دہشتگردی کی سرپرستی کا الزام عائد کیا

پاکستان میں دہشتگردی پر وزیراعظم شہباز شریف کا خطاب
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان میں دہشتگردی پر وزیراعظم شہباز شریف کا بڑا بیان، بھارت پر سنگین الزامات، افغان سرزمین کے استعمال کا دعویٰ

‫پاکستان میں دہشتگردی کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک میں دہشتگردی دوبارہ ایک منظم سازش کے تحت لائی گئی ہے اور حکومت اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے تمام قومی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں میں بے مثال قربانیاں دی ہیں اور ہزاروں شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔‬
‫‬
‫بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے خلاف سرگرم عناصر کو بیرونی معاونت حاصل ہے۔ ان کے مطابق بھارت دہشتگرد عناصر کو وسائل فراہم کر رہا ہے جبکہ افغان سرزمین کو دہشتگردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے زور دیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کا خواہاں ہے۔‬
‫‬
‫وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے افغان حکام سے متعدد مواقع پر مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی دہشتگرد تنظیم کے لیے استعمال نہ ہونے دیں اور ایسے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات اور خطے میں امن کا خواہاں ہے۔‬
‫‬
‫انہوں نے یاد دلایا کہ 2017 اور 2018 کے دوران دہشتگردی پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں حالات دوبارہ خراب ہوئے۔ ان کے مطابق اس صورتحال کا مقابلہ قومی اتحاد، موثر حکمت عملی اور عوامی تعاون سے ہی ممکن ہے۔‬
‫‬
‫وزیراعظم نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ان کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو بھی سراہا اور یقین دلایا کہ صوبے کی ترقی اور امن کے لیے وفاق ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔‬
‫‬
‫خطاب کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے شب و روز خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے قومی سلامتی کے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔‬
‫‬
‫وزیراعظم نے معاشی ترقی پر بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اب اقتصادی استحکام اور ترقی کی نئی راہ پر گامزن کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق شفاف گورننس، احتساب اور مؤثر اصلاحات کے ذریعے قومی وسائل کا بہتر استعمال ممکن بنایا جا سکتا ہے۔‬
‫‬
‫انہوں نے ایف بی آر میں اصلاحات، ٹیکس نظام کی بہتری اور بدعنوانی کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی وسائل کا ضیاع ملک کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے۔ اگر محصولات میں شفافیت آئے تو حکومت ترقیاتی منصوبوں پر زیادہ سرمایہ کاری کر سکتی ہے۔‬
‫‬
‫وزیراعظم نے بلوچستان کی ترقی کو قومی ترقی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت صوبے میں بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت بلوچستان کو وسائل کی فراہمی قومی یکجہتی کی علامت ہے۔‬
‫‬
‫آخر میں وزیراعظم نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف کامیابی صرف عسکری کارروائیوں سے نہیں بلکہ قومی اتحاد، معاشی استحکام، بہتر طرز حکمرانی اور عوامی اعتماد سے بھی ممکن ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ملک میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے ریاستی اداروں کا ساتھ دیں۔‬

READ MORE FAQS.

‫1. وزیراعظم شہباز شریف نے دہشتگردی کے بارے میں کیا کہا؟‬
‫‬
‫انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی دوبارہ ایک سازش کے تحت لائی گئی ہے۔‬
‫‬
‫2. وزیراعظم نے کس ملک پر دہشتگردوں کی معاونت کا الزام لگایا؟‬
‫‬
‫انہوں نے بھارت پر دہشتگردوں کو وسائل فراہم کرنے کا الزام عائد کیا۔‬
‫‬
‫3. افغان سرزمین کے بارے میں کیا مؤقف اختیار کیا گیا؟‬
‫‬
‫وزیراعظم نے کہا کہ افغان سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے کا دعویٰ کیا اور افغان حکام سے کارروائی کا مطالبہ کیا۔‬

متعلقہ خبریں