مون سون بارشوں نے تباہی مچا دی، خیبر، پنجاب، کشمیر اور سندھ میں سیلاب، متعدد گاڑیاں بہہ گئیں، جانی و مالی نقصان
اسلام آباد: ملک بھر میں جاری شدید مون سون بارشوں نے مختلف علاقوں میں تباہی مچا دی ہے، جہاں سیلابی ریلوں، دریاؤں میں پانی کی بلند سطح اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہو گئے ہیں۔ خیبرپختونخوا، پنجاب، آزاد کشمیر اور سندھ کے مختلف علاقوں سے جانی و مالی نقصانات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جبکہ محکمہ موسمیات اور این ڈی ایم اے نے آئندہ چند روز مزید شدید بارشوں اور فلیش فلڈنگ کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔
خیبر ضلع میں موسلادھار بارش کے بعد مختلف ندی نالوں میں اچانک آنے والے سیلابی ریلوں نے دو گاڑیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ریسکیو ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے گاڑیوں میں سوار خواتین اور بچوں کو بحفاظت نکال لیا، تاہم دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ریسکیو حکام کے مطابق خاتون کی لاش جمرود کے علاقے جبہ خوڑ جبکہ ایک بچے کی لاش پڑانگ سنگ سے برآمد ہوئی۔
پولیس کے مطابق خوگہ خیل کے علاقے زکریا مسجد کے قریب بھی ایک گاڑی سیلابی ریلے میں بہہ گئی، تاہم خوش قسمتی سے اس میں سوار تمام افراد کو محفوظ طریقے سے بچا لیا گیا۔

ادھر پنجاب میں دریائے چناب میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ ہیڈ قادر آباد کے مقام پر پانی کی آمد ایک لاکھ 38 ہزار کیوسک جبکہ اخراج ایک لاکھ 15 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے اور متعلقہ ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
لیہ میں دریائے سندھ کے شدید کٹاؤ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، جہاں موضع سمرانشیب میں دو سرکاری اسکول دریا برد ہو گئے۔ حکام کے مطابق دریا کے کٹاؤ سے سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی، تقریباً 300 مکانات، پانچ سے زائد بستیاں، تین مساجد، بجلی کے کھمبے اور دیگر سرکاری املاک بھی متاثر ہوئی ہیں۔
ادھر حسن ابدال کے نواحی علاقے کوہلیہ میں سیلابی ریلے نے مقامی افراد کی چندے سے تعمیر کردہ پل کو ایک بار پھر بہا دیا، جس کے بعد پنجاب اور خیبرپختونخوا کے سرحدی درجنوں دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔ مقامی آبادی کو آمدورفت، تعلیم، صحت اور روزمرہ ضروریات کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث ندی نالوں میں شدید طغیانی آ گئی، جس سے متعدد مکانات اور دکانیں زیر آب آ گئیں۔ مینگل نالے کے قریب کئی گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں سیلابی ریلے میں بہہ گئیں جبکہ متعدد مویشی بھی پانی کی نذر ہو گئے۔ مرکزی شاہراہ نیلم پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔
دوسری جانب محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ 25 جولائی تک ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کا امکان ہے، جبکہ 23 جولائی تک دریاؤں، ندی نالوں اور نشیبی علاقوں میں سیلاب اور اربن فلڈنگ کا خطرہ برقرار رہے گا۔
این ڈی ایم اے کے مطابق گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں فلیش فلڈ، ہل ٹورنٹس اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ دریائے چناب، جہلم، کابل اور ان کے معاون دریاؤں میں پانی کی سطح مزید بلند ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ شہریوں سے غیر ضروری سفر سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
#Cloudburst induced flood in Katha Piran village of #NeelumValley today. Immediately no casualty has been reported though there have been many material losses. pic.twitter.com/LJUfQVbS5l
— Tariq Naqash (@TariqNaqash) July 19, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: پاکستان میں بارشوں کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟
جواب: محکمہ موسمیات کے مطابق 25 جولائی تک مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے گرج چمک کے ساتھ بارشوں کا امکان ہے۔
سوال 2: کن علاقوں میں سیلاب کا زیادہ خطرہ ہے؟
جواب: خیبرپختونخوا، پنجاب، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور دریاؤں سے ملحقہ علاقوں میں فلیش فلڈ اور طغیانی کا خدشہ ہے۔
سوال 3: این ڈی ایم اے نے شہریوں کو کیا ہدایات دی ہیں؟
جواب: غیر ضروری سفر سے گریز، نشیبی علاقوں سے احتیاط، ندی نالوں اور سیلابی گزرگاہوں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سوال 4: اربن فلڈنگ کا خدشہ کن شہروں میں ہے؟
جواب: پنجاب کے متعدد شہروں سمیت راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور دیگر نشیبی شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔






