امریکا ایران کشیدگی کے اثرات، کراچی سمیت ملک بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی قلت کا خدشہ

پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قلت
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

امریکا ایران کشیدگی کے اثرات، کراچی سمیت ملک بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی قلت کا خدشہ، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے مختلف پیٹرول پمپس کو فراہم کی جانے والی پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی محدود کر دی

کراچی: امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات پاکستان میں بھی سامنے آنے لگے ہیں، جہاں کراچی سمیت ملک بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی ممکنہ قلت کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

پیٹرولیم ڈیلرز کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے مختلف پیٹرول پمپس کو فراہم کی جانے والی پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی محدود کر دی ہے، جس کے باعث کئی علاقوں میں طلب کے مقابلے میں سپلائی کم ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے شہر فجیرہ میں نئی بندرگاہ
متحدہ عرب امارات آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کے لیے فجیرہ میں نئی بندرگاہ تعمیر کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

صدر پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن سندھ، امیر خان نے کہا ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی پر ایلوکیشن نافذ کر دی ہے، جس کے تحت تمام پیٹرول پمپس کو محدود مقدار میں سپلائی دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب وائس چیئرمین پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن، طارق حسن نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سپلائی میں کمی کے باعث ملک بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی پمپس کو معمول کے مطابق مصنوعات فراہم نہیں کی جا رہیں، جس سے مارکیٹ میں بے یقینی بڑھ رہی ہے۔

تاہم آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ذرائع نے پیٹرول اور ڈیزل کی قلت کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تمام پیٹرول پمپس کو ان کی گزشتہ ماہ کی اوسط فروخت کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق کسی بھی ڈیلر کی اضافی طلب پوری نہیں کی جا رہی تاکہ سپلائی کا نظام متوازن رکھا جا سکے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ جب بھی عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو بعض ڈیلرز ممکنہ قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر زیادہ اسٹاک حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ قیمتوں میں کمی کے امکانات ہوں تو خریداری محدود کر دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے بعض اوقات مصنوعی قلت کا تاثر پیدا ہو جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں بلند رہیں اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو پاکستان میں نہ صرف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں بلکہ سپلائی چین پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات ٹرانسپورٹ، صنعت اور مہنگائی پر بھی مرتب ہونے کا امکان ہے۔

حکومتی سطح پر تاحال پیٹرول اور ڈیزل کی قلت سے متعلق کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: پاکستان میں پیٹرول کی قلت کا خدشہ کیوں پیدا ہوا؟

جواب: پیٹرولیم ڈیلرز کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے سپلائی محدود کر دی ہے، جس سے مختلف شہروں میں قلت کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔

سوال 2: کیا کراچی بھی اس صورتحال سے متاثر ہو سکتا ہے؟

جواب: جی ہاں، ڈیلرز کے مطابق کراچی سمیت ملک بھر میں سپلائی متاثر ہونے کے باعث قلت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سوال 3: آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مؤقف کیا ہے؟

جواب: کمپنیوں کے مطابق پیٹرول پمپس کو گزشتہ ماہ کی اوسط فروخت کے مطابق معمول کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات فراہم کی جا رہی ہیں اور کسی حقیقی قلت کی صورتحال نہیں۔

سوال 4: کیا عالمی تیل کی قیمتوں کا اس صورتحال سے تعلق ہے؟

جواب: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی نے مارکیٹ میں بے یقینی پیدا کی ہے، جس کے اثرات پاکستان کی پیٹرولیم مارکیٹ پر بھی پڑ رہے ہیں۔