پاکستان ریلویز کا بوسیدہ انفرا اسٹرکچر: ٹرین حادثات میں خطرناک اضافہ، اصلاحات کی ضرورت

پاکستان ریلویز کا بوسیدہ انفرا اسٹرکچر اور خستہ حال ریلوے ٹریک
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان ریلویز کا بوسیدہ انفرا اسٹرکچر، ٹرین حادثات اور تاخیر نے مسافروں کو مشکلات میں ڈال دیا

پاکستان ریلویز کا بوسیدہ انفرا اسٹرکچر ایک مرتبہ پھر قومی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران مختلف مقامات پر پیش آنے والے ٹرین حادثات، ریلوے ٹریک کی خراب حالت اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات نے ریلوے کے نظام میں موجود کمزوریوں کو نمایاں کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران متعدد حادثات پیش آئے جن میں مسافر اور مال بردار ٹرینیں متاثر ہوئیں۔ ان واقعات کے بعد ریلوے نظام کی کارکردگی، مسافروں کی حفاظت اور انفرا اسٹرکچر کی مضبوطی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

پاکستان ریلویز کا ایک بڑا مسئلہ اس کا پرانا ریلوے ٹریک ہے، جس کے کئی حصے دہائیوں پرانے ہیں۔ متعدد مقامات پر ٹریک کی خستہ حالی کے باعث ٹرینوں کو مقررہ رفتار سے کم رفتار پر چلانا پڑ رہا ہے تاکہ حادثات سے بچا جا سکے۔ اس کے نتیجے میں ملک بھر میں ٹرینوں کی آمد و رفت میں کئی کئی گھنٹوں کی تاخیر معمول بنتی جا رہی ہے۔

ریلوے ذرائع کے مطابق تقریباً دو ہزار کلومیٹر کے ریلوے نیٹ ورک میں سے ایک بڑی لمبائی پر انجینئرنگ پابندیاں نافذ ہیں، جہاں ٹرینوں کی رفتار نمایاں طور پر محدود کر دی گئی ہے۔ بعض حصوں میں مسافر ٹرینیں صرف 30 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں جبکہ دیگر علاقوں میں بھی رفتار مقررہ حد سے کم رکھی جاتی ہے۔

سیلابی بارشوں نے بھی ریلوے انفرا اسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ کئی پل اور ریلوے ٹریک متاثر ہونے سے بعض روٹس پر ٹرین سروس عارضی طور پر معطل کرنا پڑی۔ اس صورتحال کے باعث ہزاروں مسافروں کو متبادل سفری ذرائع اختیار کرنا پڑے جبکہ ریلوے کو بھی مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

کاروباری طبقہ بھی اس صورتحال سے متاثر ہوا ہے کیونکہ مال بردار ٹرینوں کی تاخیر سے سامان کی بروقت ترسیل متاثر ہوتی ہے، جس کے معاشی اثرات مختلف صنعتوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

ریلوے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقل بنیادوں پر بہتری کے لیے صرف مرمت کافی نہیں بلکہ ریلوے ٹریک، سگنلنگ سسٹم، پلوں، اسٹیشنز اور آپریشنل نظام کی جدید خطوط پر مکمل اپ گریڈیشن ناگزیر ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کے مطابق پاکستان ریلویز نے مالی کارکردگی میں بہتری دکھائی ہے اور ریلوے کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کراچی تا سکھر ریلوے انفرا اسٹرکچر کی بہتری سمیت مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام شروع کیا جا رہا ہے جبکہ ریلوے اسٹیشنز کی اپ گریڈیشن بھی جاری ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے، جدید کوچز متعارف کرانے اور ریلوے نظام کو بتدریج جدید بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔

READ MORE FAQS
  1. پاکستان ریلویز میں حادثات کیوں بڑھ رہے ہیں؟

ریلوے ٹریک کی خستہ حالی، کمزور انفرا اسٹرکچر، انجینئرنگ پابندیاں اور بعض مقامات پر سیلابی نقصانات اہم عوامل میں شامل ہیں۔

  1. کون سا ریلوے ٹریک زیادہ متاثر ہے؟

رپورٹس کے مطابق کراچی تا سکھر سیکشن خستہ حالی کا زیادہ شکار ہے اور یہاں متعدد انجینئرنگ پابندیاں نافذ ہیں۔

  1. ٹرینوں کی رفتار کیوں کم رکھی جا رہی ہے؟

حادثات کے خطرے کو کم کرنے کے لیے خراب ٹریک پر رفتار محدود رکھی جاتی ہے۔

  1. کیا سیلاب نے ریلوے نظام کو متاثر کیا ہے؟

جی ہاں، حالیہ سیلاب سے بعض پل اور ریلوے ٹریک متاثر ہوئے جس سے کئی روٹس پر ٹرین سروس عارضی طور پر معطل ہوئی۔