پاکستان نے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی مالی معاونت طلب کر لی، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی کوشش

پاکستان نے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی مالی معاونت کی درخواست کر دی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان نے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی مالی معاونت طلب کر لی، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی کوشش

اسلام آباد: پاکستان نے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے اور معاشی استحکام کے لیے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی "بیک اسٹاپ فیسلٹی” (Backstop Facility) فراہم کرنے کی درخواست کر دی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ درخواست امریکی وزارتِ خزانہ کو ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت کے تحت پانچ سالہ مدت کے لیے بھیجی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر امریکا اس درخواست کی منظوری دیتا ہے تو پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، روپے پر دباؤ کم ہوگا اور بیرونی مالیاتی استحکام کو تقویت ملے گی۔ اس اقدام کا مقصد پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی کو مزید مضبوط بنانا بھی ہے۔

روئٹرز کے مطابق امریکا سے 10 ارب ڈالر کی مالی معاونت کی درخواست امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو ارسال کی گئی ہے، تاہم واشنگٹن میں امریکی حکام نے اس حوالے سے کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ دوسری جانب اسلام آباد میں وزارتِ خزانہ نے بھی نہ تو امریکا سے 10 ارب ڈالر کی مالی معاونت کی درخواست کی تصدیق کی ہے اور نہ ہی اس کی تردید کی ہے۔

آئی ایم ایف پروگرام اور معاشی اصلاحات

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اس وقت 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت معاشی اصلاحات پر عمل درآمد کر رہا ہے، جس کے تحت ٹیکس اصلاحات، سرکاری اخراجات میں کمی اور مالی نظم و ضبط کے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔

وزیراعظمشہباز شریف سے ایرانی وزیر داخلہ کی ملاقات
اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مؤمنی کے درمیان ملاقات، جس میں خلیجی کشیدگی اور علاقائی امن پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس سے قبل 2023 میں پاکستان 3 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے ذریعے ممکنہ ڈیفالٹ سے بچنے میں کامیاب رہا تھا، جبکہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے 1.3 ارب ڈالر کی اضافی مالی معاونت بھی حاصل کی گئی۔

دوست ممالک کی معاونت پر انحصار

روئٹرز کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اب بھی بڑی حد تک دوست ممالک کی مالی معاونت پر انحصار کرتے ہیں۔ رواں سال اپریل میں پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو تقریباً 3.5 ارب ڈالر واپس کیے، جبکہ سعودی عرب نے پاکستان کو 3 ارب ڈالر کی نئی مالی معاونت فراہم کی۔

معیشت کو درپیش چیلنجز

رپورٹ میں فچ ریٹنگز کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام پر عمل درآمد سے پاکستان کی مالی صورتحال میں بہتری آئی ہے، تاہم مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، عالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی قیمتیں اور سپلائی چین میں ممکنہ رکاوٹیں ملکی معیشت کے لیے بدستور اہم خطرات ہیں۔

امریکا کے ساتھ معاشی تعاون

روئٹرز نے مزید بتایا کہ پاکستان حالیہ برسوں میں امریکا کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ کرپٹو کرنسی، معدنیات اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھایا جا رہا ہے، جبکہ ریکوڈک منصوبے میں امریکی سرمایہ کاری بھی زیرِ غور ہے۔ امریکی ایگزم بینک پہلے ہی اس منصوبے کے لیے 1.25 ارب ڈالر کی فنانسنگ کا اعلان کر چکا ہے۔

اگر امریکی حکومت پاکستان کی 10 ارب ڈالر کی بیک اسٹاپ فیسلٹی کی درخواست منظور کرتی ہے تو اس سے نہ صرف ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا بلکہ روپے کے استحکام، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور مجموعی معاشی صورتحال پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔

 
READ MORE FAQS”

Q1: پاکستان نے امریکا سے کتنی مالی معاونت کی درخواست کی ہے؟

جواب: روئٹرز کے مطابق پاکستان نے امریکی وزارت خزانہ سے زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط بنانے کے لیے 10 ارب ڈالر کی بیک اسٹاپ فیسلٹی کی درخواست کی ہے۔

Q2: بیک اسٹاپ فیسلٹی (Backstop Facility) کیا ہوتی ہے؟

جواب: بیک اسٹاپ فیسلٹی ایک مالی حفاظتی سہولت ہوتی ہے جس کے تحت کسی ملک کو ضرورت پڑنے پر زرِ مبادلہ یا مالی استحکام برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی معاونت فراہم کی جا سکتی ہے۔

Q3: اگر امریکا سے 10 ارب ڈالر کی مالی معاونت کی درخواست منظور ہو جائے تو پاکستان کو کیا فائدہ ہوگا؟

جواب: منظوری کی صورت میں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، روپے پر دباؤ میں کمی، بیرونی ادائیگیوں میں سہولت اور معاشی استحکام بہتر ہونے کی توقع ہے۔

Q4: کیا امریکا یا پاکستان نے اس درخواست کی تصدیق کی ہے؟

جواب: تاحال نہ امریکی وزارت خزانہ اور نہ ہی پاکستانی وزارت خزانہ نے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی مالی معاونت کی درخواست کی باضابطہ تصدیق یا تردید کی ہے۔ خبر روئٹرز کی رپورٹ پر مبنی ہے۔

Q5: پاکستان اس وقت کس آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ہے؟

جواب: پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت معاشی اصلاحات پر عمل درآمد کر رہا ہے، جس میں ٹیکس اصلاحات، اخراجات میں کمی اور مالی نظم و ضبط شامل ہیں۔

Q6: اس مالی معاونت کا پاکستانی معیشت پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

جواب: اگر یہ سہولت مل جاتی ہے تو زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہو سکتے ہیں، سرمایہ کاروں کا اعتماد بہتر ہو سکتا ہے، روپے کی قدر کو سہارا مل سکتا ہے اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں کمی آ سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں