پاکستانی تاجر کی چین سے تازہ زرعی پیداوار مشرقِ وسطیٰ برآمد کرنے کی سرگرمیاں، تجارتی روابط مضبوط

پاکستانی تاجر کی چین سے تازہ زرعی پیداوار مشرقِ وسطیٰ برآمد کرنے کی سرگرمیاں، تجارتی روابط مضبوط
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستانی تاجر کی چین سے تازہ زرعی پیداوار مشرقِ وسطیٰ برآمد کرنے کی سرگرمیاں، تجارتی روابط مضبوط

گوئی یانگ (شِنہوا) : پاکستانی تاجر محمد وقار چین کے جنوب مغربی صوبے گوئی ژو سے تازہ زرعی پیداوار مشرقِ وسطیٰ منتقل کرنے اور براہِ راست تجارتی روابط کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ دسمبر 2025 کے اختتام پر محمد وقار نے اسی سال گوئی ژو کا تیسرا دورہ کیا جس کا مقصد خشک ادرک اور نیول سنگترے دبئی درآمد کرنا تھا۔

محمد وقار گزشتہ پانچ برس سے دبئی میں پھل اور سبزیوں کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ ان کے دورے کے دوران گوئی یانگ جامع بانڈڈ زون میں واقع گوئی ژو وان ہوئی انٹرنیشنل ٹریڈ کمپنی لمیٹڈ کی فیکٹری میں ادرک اور لہسن کے کنٹینرز دبئی روانگی کے لیے تیار کیے گئے۔ یہ مصنوعات زمینی اور بحری مشترکہ راستے کے ذریعے تقریباً 20 دن میں دبئی کی بندرگاہ پہنچیں گی۔

پاکستانی تاجر وقار نے بتایا کہ فروری 2025 میں انہوں نے پہلی مرتبہ گوئی ژو کا دورہ کیا تھا، جہاں ایک ماہ سے زائد عرصے کے سروے کے بعد وہ مقامی زرعی مصنوعات کے معیار سے متاثر ہوئے اور تعاون کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق گوئی ژو کی زرعی پیداوار مشرق وسطیٰ کی منڈی کے لیے نہایت موزوں ہے کیونکہ یہ ذخیرہ اور طویل ترسیل کے دوران بھی اپنی تازگی برقرار رکھتی ہے۔

سنکیانگ کی اہم ریلوے پورٹ سے چین–یورپ مال بردار ٹرینوں کی ریکارڈ آمد و رفت
سنکیانگ کی الاشانکو پورٹ سے چین–یورپ مال بردار ٹرینوں کی آمد و رفت

نومبر 2025 میں شنگ یی اور پان ژو شہروں کو ملانے والی نئی ہائی اسپیڈ ریلوے لائن کے افتتاح کے بعد گوئی ژو وہ پہلا صوبہ بن گیا جہاں تمام صوبائی دارالحکومت ہائی اسپیڈ ریل نیٹ ورک سے منسلک ہو چکے ہیں۔ اس وقت صوبے کا ریلوے نیٹ ورک 4,354 کلومیٹر پر محیط ہے، جس میں 1,906 کلومیٹر ہائی اسپیڈ ریلوے شامل ہے۔

پاکستانی تاجر وقار کے مطابق ماضی میں وہ دبئی میں موجود چینی کمپنیوں سے مصنوعات خرید کر دوبارہ فروخت کرتے تھے، تاہم چین کے مغربی علاقوں میں لاجسٹکس اور تجارتی سہولت کاری میں نمایاں بہتری کے بعد انہوں نے سپلائی چین کو براہِ راست ماخذ سے منسلک کرنے کا فیصلہ کیا۔

ہر دورے کے دوران محمد وقار تقریباً دو ماہ گوئی ژو میں قیام کرتے ہیں جہاں وہ معیار کی نگرانی، پیکجنگ کے معاملات اور مشرق وسطیٰ میں موجود گاہکوں کو براہِ راست ویڈیوز اور تصاویر فراہم کرتے ہیں۔ دبئی کو تجارتی مرکز بناتے ہوئے وہ اب گوئی ژو کی زرعی پیداوار سعودی عرب، قطر اور عمان سمیت مختلف ممالک کو فراہم کر رہے ہیں۔

گوئی ژو وان ہوئی انٹرنیشنل ٹریڈ کمپنی کے بزنس ڈائریکٹر وو لونگ ہوا نے بتایا کہ گوئی یانگ جامع بانڈڈ زون میں موجودگی کی بدولت کمپنی کو زرعی مصنوعات کی پروسیسنگ اور برآمد کے لیے مربوط سہولیات حاصل ہیں۔ موبائل آلات کے ذریعے ایک ہی مرحلے میں کسٹمز ڈیکلریشن مکمل کی جا سکتی ہے، جس سے وقت اور نقصان دونوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔

2025 سے اب تک کمپنی مشرق وسطیٰ کو 10 سے زائد اقسام کی زرعی مصنوعات برآمد کر چکی ہے جن کی مجموعی مالیت 2 کروڑ یوآن سے تجاوز کر گئی ہے۔ دبئی میں محمد وقار کے گودام میں ہفتہ وار 320 ٹن سے زائد لہسن اور ادرک کی کھیپ عموماً ایک ہفتے کے اندر فروخت ہو جاتی ہے۔

پاکستانی تاجر محمد وقار نے رواں سال گوئی ژو کے کیوی پھل کو بھی مشرق وسطیٰ میں متعارف کرانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گوئی ژو کا کیوی غذائیت اور ذائقے کے لحاظ سے اعلیٰ معیار کا حامل ہے اور خطے میں نئی پسندیدہ فصل بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]