پیٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال موخر کر دی، حکومت نے دو ہفتوں میں مطالبات حل کرنے کی یقین دہانی کرا دی
اسلام آباد: آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے حکومت کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لیتے ہوئے پیٹرول پمپ بند کرنے کا فیصلہ مؤخر کر دیا، جس کے بعد ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ممکنہ بحران کا خدشہ ٹل گیا۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی قیادت میں ہونے والے مذاکرات کے دوران حکومت نے پیٹرول پمپ مالکان اور ڈیلرز کو یقین دہانی کرائی کہ ڈیلرز مارجن سمیت تمام اہم مسائل آئندہ دو ہفتوں میں حل کیے جائیں گے۔
مذاکرات کے بعد اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سیکریٹری اطلاعات آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن ندیم عزیز نے کہا کہ ایسوسی ایشن کو وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک پر مکمل اعتماد ہے اور امید ہے کہ حکومت مقررہ مدت میں ڈیلرز مارجن کا مسئلہ حل کر دے گی۔

اس موقع پر وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ وہ آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن اور دیگر متعلقہ تنظیموں کے تعاون کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے باعث حکومت کو بھی متعدد چیلنجز کا سامنا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔
علی پرویز ملک نے بتایا کہ حکومت نے فروری سے اب تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کم کرنے کے لیے سیکڑوں ارب روپے خرچ کیے ہیں، جبکہ ٹارگٹڈ سبسڈی کا نظام بھی متعارف کرایا گیا تاکہ عوام پر مالی بوجھ کم کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں دوبارہ کشیدگی بڑھنے سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے باعث حکومت کو اضافی مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر خطے میں امن کے قیام اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
وفاقی وزیر نے یقین دلایا کہ اوگرا اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ڈیلرز کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈیلرز مارجن میں اضافے سے متعلق سمری جلد وفاقی کابینہ کو ارسال کی جائے گی اور آئندہ دو ہفتوں کے دوران اس حوالے سے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔
پیٹرول پمپ مالکان کی جانب سے ہڑتال موخر کیے جانے کے بعد ملک بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی فراہمی معمول کے مطابق جاری رہے گی اور عوام کو ایندھن کی قلت یا سپلائی میں رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی پیٹرول پمپس ایسوسی ایشن کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو
حکومت کو عوام کی مشکلات کا اندازہ ہے
وفاقی حکومت نے ٹارگٹڈ سبسڈی کا منصوبہ دیا
حکومت نے عوام کو بھرپور ریلیف دینے کی کوشش کی
خطے کی صورتحال کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا
شفاف اور… pic.twitter.com/Mf9c7JtUio
— PTV News (@PTVNewsOfficial) July 22, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: کیا پاکستان میں پیٹرول پمپ بند ہوں گے؟
جواب: نہیں، حکومت اور پیٹرول پمپ مالکان کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد ہڑتال مؤخر کر دی گئی ہے، اس لیے ملک بھر میں پیٹرول پمپ معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔
سوال 2: پیٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کیوں مؤخر کی؟
جواب: حکومت نے ڈیلرز مارجن سمیت دیگر مطالبات دو ہفتوں میں حل کرنے کی یقین دہانی کرائی، جس کے بعد ایسوسی ایشن نے ہڑتال واپس لینے کا اعلان کیا۔
سوال 3: ڈیلرز مارجن کا مسئلہ کیا ہے؟
جواب: پیٹرول پمپ مالکان کا مطالبہ ہے کہ بڑھتی ہوئی آپریشنل لاگت کے پیش نظر ڈیلرز کا منافع (مارجن) بڑھایا جائے تاکہ کاروبار کو پائیدار بنایا جا سکے۔
سوال 4: حکومت نے کیا یقین دہانی کرائی؟
جواب: وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ ڈیلرز مارجن سے متعلق سمری کابینہ کو بھجوائی جائے گی اور دو ہفتوں کے اندر معاملہ حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
سوال 5: کیا عوام کو پیٹرول کی قلت کا سامنا ہوگا؟
جواب: نہیں، ہڑتال مؤخر ہونے کے بعد ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی معمول کے مطابق جاری رہے گی اور کسی قلت کا خدشہ نہیں ہے۔






