دہشت گردی پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، دہشت گردوں کی سہولت کاری کا الزام مسترد: پی ٹی آئ رہنماؤں کی مشترکہ پریس کانفرنس

پی ٹی آئ رہنماؤں کی مشترکہ پریس کانفرنس دہشت گردوں کی سہولت کاری کا الزام مسترد
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

دہشت گردی پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، دہشت گردوں کی سہولت کاری کا الزام مسترد: پی ٹی آئ رہنماؤں کی مشترکہ پریس کانفرنس

اڈیالہ جیل عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات

اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے دہشت گردوں کی سہولت کاری کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی ایک قومی مسئلہ ہے جس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے اور اس کے خلاف پورے ملک کو متحد ہونا ہوگا۔

اسلام آباد میں پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سینئر رہنما سلمان اکرم راجا اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کا مؤقف ہمیشہ سے واضح رہا ہے کہ دہشت گردی ایک ناسور ہے جسے جڑ سے ختم کرنا قومی ذمہ داری ہے۔

پی ٹی آئ رہنماؤں کی مشترکہ پریس کانفرنس کے موقع پر بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب، قوم، جنس یا سرحد نہیں ہوتی، وہ مساجد، عیدگاہوں اور معصوم شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں، اور پی ٹی آئی نے ہر دہشت گرد حملے کی غیر مشروط مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سوال کرنا کہ پی ٹی آئی کو دہشت گرد نشانہ کیوں نہیں بنا رہے، نہ صرف نامناسب بلکہ خطرناک بھی ہے، کیونکہ دہشت گردی کا ہر واقعہ پورے پاکستان پر حملہ ہوتا ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اگر دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ حکمت عملی درکار ہے تو الزامات ٹوئٹر یا پریس کانفرنسوں کے ذریعے نہیں بلکہ متعلقہ آئینی فورمز پر لگائے جائیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت نے پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے 40 ارب روپے خرچ کیے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔

پی ٹی آئ رہنماؤں کی مشترکہ پریس کانفرنس کے موقع پر سلمان اکرم راجا نے الزامات کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کا دہشت گردوں سے کوئی ہمدردی کا تعلق نہیں، بلکہ صرف ایک غیر سنجیدہ شخص ہی دہشت گردوں کا حامی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف متفقہ ایکشن پلان کے لیے تعاون کی پیشکش کی ہے، تاہم معصوم شہریوں کی نقل مکانی اور شہادت کسی صورت قبول نہیں کی جا سکتی۔

خیبر پختونخوا میں دہشتگردی
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری سینئر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں منعقد ہونے والے امن جرگے میں تمام سیاسی جماعتوں، علماء اور دانشوروں نے متفقہ طور پر اس بات پر اتفاق کیا کہ دہشت گردی کے خلاف موجودہ پالیسی ناکام ہو چکی ہے اور اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

پی ٹی آئ رہنماؤں کی مشترکہ پریس کانفرنس کے موقع پر اسد قیصر نے کہا کہ گرینڈ جرگے میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف کسی بھی پالیسی کی تشکیل صوبائی اسمبلی کی مشاورت سے ہونی چاہیے۔ انہوں نے مرکز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کو ترقی کے لیے فنڈز فراہم نہیں کیے جا رہے جبکہ پی ٹی آئی کو سیاسی طور پر دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ یہ پی ٹی آئ رہنماؤں کی مشترکہ پریس کانفرنس ترجمان پاک فوج کی ایک روز قبل ہونے والی طویل پریس کانفرنس کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں 2021 میں برسرِ اقتدار ایک سیاسی جماعت پر دہشت گردوں کی اندرونی سہولت کاری کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

 

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]