لاہور سمیت پنجاب بھر میں گردوں کے امراض میں خطرناک اضافہ، ڈائیلاسز مریضوں کی تعداد تشویشناک حد تک بڑھ گئی
پنجاب میں گردوں کے امراض میں اضافہ صحت کے شعبے کے لیے ایک سنگین چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ لاہور سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں گردوں کی دائمی بیماریوں کے مریضوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، جس کے باعث سرکاری اور نجی طبی مراکز پر غیر معمولی دباؤ پیدا ہو چکا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق گردوں کی بیماریوں میں اضافہ صرف طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی اور معاشی چیلنج بھی ہے جس کے اثرات لاکھوں خاندانوں تک پہنچ رہے ہیں۔
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب بھر میں ہزاروں مریض باقاعدگی سے ڈائیلاسز کروانے پر مجبور ہیں۔ گردوں کی کارکردگی متاثر ہونے کے بعد مریضوں کو ہفتے میں کئی بار ڈائیلاسز کی ضرورت پیش آتی ہے، جس کے باعث علاج کے اخراجات اور ہسپتالوں پر بوجھ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ڈائیلاسز مراکز پر بڑھتا دباؤ
پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈائیلاسز مشینوں اور نشستوں کی محدود دستیابی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ مریضوں کو کئی کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے جبکہ بعض علاقوں میں انہیں علاج کے لیے دوسرے شہروں کا رخ بھی کرنا پڑتا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب ڈائیلاسز پروگرام کے تحت 41 ہزار 880 مریض رجسٹرڈ ہیں۔ پروگرام کے آغاز سے اب تک 18 لاکھ 24 ہزار سے زائد ڈائیلاسز سیشنز مکمل کیے جا چکے ہیں، جو اس مسئلے کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔
گردوں کے امراض میں اضافے کی وجوہات
طبی ماہرین کے مطابق گردوں کی بیماریوں میں اضافے کی کئی بنیادی وجوہات ہیں:
- ذیابیطس (شوگر)
- ہائی بلڈ پریشر
- غیر متوازن غذا
- پانی کا کم استعمال
- غیر معیاری ادویات کا استعمال
- موٹاپا
- جسمانی سرگرمیوں میں کمی
- تمباکو نوشی
ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر گردوں کی خرابی کی سب سے بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ اگر ان بیماریوں کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو گردے مستقل طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔
لاہور میں صورتحال زیادہ تشویشناک
صوبائی دارالحکومت لاہور میں گردوں کے مریضوں کی تعداد دیگر شہروں کے مقابلے میں زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔ بڑے سرکاری ہسپتالوں میں روزانہ سینکڑوں مریض ڈائیلاسز کے لیے رجوع کرتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق شہری آبادی میں تیزی سے اضافہ، غیر صحت بخش خوراک اور طرز زندگی میں تبدیلیاں اس رجحان کی اہم وجوہات ہیں۔
حکومت پنجاب کے اقدامات
حکومت پنجاب نے گردوں کے مریضوں کو علاج کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے متعدد اقدامات شروع کیے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب ڈائیلاسز پروگرام کے تحت مریضوں کو نجی ہسپتالوں میں بھی علاج کی سہولت دی جا رہی ہے تاکہ سرکاری مراکز پر بوجھ کم کیا جا سکے۔
اس پروگرام کے لیے 8 ارب 60 لاکھ روپے مختص کیے گئے تھے تاہم اخراجات 9 ارب 55 کروڑ روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔ مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مزید فنڈز مختص کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
نجی ہسپتالوں کا کردار
نجی ہسپتالوں کو پروگرام میں شامل کرنے سے مریضوں کو کافی حد تک سہولت ملی ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف انتظار کا دورانیہ کم ہوا بلکہ دور دراز علاقوں کے مریضوں کو بھی بہتر علاج کی سہولت میسر آئی ہے۔
صحت حکام کے مطابق مزید نجی اداروں کو پروگرام کا حصہ بنانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ علاج کی سہولیات کو مزید وسعت دی جا سکے۔
احتیاطی تدابیر
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ گردوں کی بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہے اگر چند بنیادی احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں:
- روزانہ مناسب مقدار میں پانی پینا۔
- بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنا۔
- شوگر کے مریض باقاعدگی سے معائنہ کروائیں۔
- نمک کا کم استعمال کریں۔
- ورزش کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔
- غیر ضروری ادویات سے گریز کریں۔
- سالانہ میڈیکل چیک اپ کروائیں۔
اگر گردوں کے امراض میں اضافے کا موجودہ رجحان برقرار رہا تو آئندہ چند برسوں میں صحت کے نظام پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بیماریوں کی بروقت تشخیص، آگاہی مہمات اور احتیاطی اقدامات ہی اس مسئلے پر قابو پانے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔
حکومت، طبی اداروں اور عوام کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا تاکہ گردوں کے امراض کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کیا جا سکے اور مریضوں کو بروقت اور معیاری علاج فراہم کیا جا سکے۔
پنجاب میں گردوں کے امراض میں اضافہ ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے جس کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ بہتر طبی سہولیات، احتیاطی تدابیر اور عوامی شعور کے ذریعے ہی اس بڑھتے ہوئے چیلنج کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
READ MORE FAQS
پنجاب میں گردوں کے امراض کیوں بڑھ رہے ہیں؟
ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، غیر صحت بخش غذا، موٹاپا اور پانی کی کمی اس کی بڑی وجوہات ہیں۔
ڈائیلاسز کیا ہوتا ہے؟
ڈائیلاسز ایک طبی عمل ہے جس میں مشین کے ذریعے خون کو صاف کیا جاتا ہے جب گردے اپنا کام درست طریقے سے انجام نہ دے سکیں۔
پنجاب میں کتنے مریض ڈائیلاسز پروگرام میں رجسٹرڈ ہیں؟
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 41 ہزار 880 مریض رجسٹرڈ ہیں۔
گردوں کی بیماری کی ابتدائی علامات کیا ہیں؟
سوجن، تھکاوٹ، پیشاب میں تبدیلی، بلڈ پریشر میں اضافہ اور بھوک کی کمی اہم علامات ہیں۔








