ٹی ٹی ایس ریسرچرز کی تنخواہیں 5 سال سے منجمد، برین ڈرین کا خطرہ بڑھ گیا

ٹی ٹی ایس ریسرچرز کی تنخواہیں اور پاکستان میں سائنسی تحقیق
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ٹی ٹی ایس ریسرچرز کی تنخواہیں گزشتہ پانچ برس سے جمود کا شکار ہیں اور نئے مالی سال کے بجٹ میں بھی ان کے لیے کسی نمایاں ریلیف کی توقع نہیں کی جا رہی۔ سرکاری جامعات میں خدمات انجام دینے والے ہزاروں سائنسی محققین کا کہنا ہے کہ مسلسل بڑھتی مہنگائی اور تنخواہوں میں عدم اضافے نے ان کے لیے پیشہ ورانہ زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق فنانس ڈویژن نے اب تک ٹینیور ٹریک سسٹم (TTS) کے تحت کام کرنے والے محققین کی تنخواہوں میں اضافے کی سفارشات کو حتمی منظوری نہیں دی۔ اس صورتحال کے باعث اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بین الاقوامی معیار کے سائنسدانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی ایس ریسرچرز کی تنخواہیں جب اس نظام کا آغاز کیا گیا تھا تو بی پی ایس اساتذہ کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ تھیں کیونکہ ان سے غیر معمولی تحقیقی کارکردگی کی توقع کی جاتی تھی۔ ان کی کارکردگی کا جائزہ بھی ہر تین سال بعد بین الاقوامی ماہرین کے ذریعے لیا جاتا تھا۔

سابق چیئرمین ایچ ای سی، ڈاکٹر عطاء الرحمٰن کے دور میں متعارف کرائے گئے اس نظام کا مقصد عالمی معیار کی تحقیق کو فروغ دینا تھا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ تنخواہوں میں اضافے کے فقدان نے اس نظام کی کشش کو کم کر دیا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں انہیں اضافی آمدنی کے لیے مختلف تحقیقی منصوبے حاصل کرنا پڑتے ہیں، جس سے ان کی بنیادی تحقیق متاثر ہو رہی ہے۔ کئی سائنسدان بہتر مواقع کی تلاش میں جامعات چھوڑ چکے ہیں جبکہ باقی ماندہ محققین بھی مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں اب تقریباً 3600 ٹی ٹی ایس ریسرچرز خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ماہرین تعلیم کے مطابق اگر تنخواہوں اور مراعات کے مسائل حل نہ کیے گئے تو یہ تعداد مزید کم ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق رواں سال مارچ میں پلاننگ کمیشن کی ٹاسک فورس نے ٹی ٹی ایس ریسرچرز کی تنخواہیں 35 فیصد پریمیئم کے ساتھ بی پی ایس اسکیل کے مساوی کرنے کی سفارش کی تھی۔ اس سفارش کا مقصد محققین کی پیشہ ورانہ حوصلہ افزائی اور تحقیق کے معیار کو برقرار رکھنا تھا۔

یہ ٹاسک فورس وفاقی وزیر احسن اقبال کی سربراہی میں قائم کی گئی تھی۔ بعد ازاں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے بھی ان سفارشات کی حمایت کی اور فنانس ڈویژن کو اس حوالے سے اقدامات کی ہدایت دی۔

اس کے باوجود ذرائع کا کہنا ہے کہ فنانس ڈویژن اب تک ان سفارشات پر عمل درآمد کے لیے آمادہ نہیں، جس کے باعث محققین میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔

تنخواہوں کے موجودہ فرق پر نظر ڈالیں تو ایک بی پی ایس پروفیسر کی ماہانہ آمدن تقریباً پانچ لاکھ روپے تک پہنچ چکی ہے جبکہ ٹی ٹی ایس پروفیسر ٹیکس کٹوتی کے بعد تقریباً ساڑھے تین لاکھ روپے وصول کر رہا ہے۔ اسی طرح بی پی ایس ایسوسی ایٹ پروفیسر تقریباً چار لاکھ روپے جبکہ ٹی ٹی ایس ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈھائی لاکھ روپے کے قریب تنخواہ حاصل کر رہا ہے۔

اسی طرح بی پی ایس اسسٹنٹ پروفیسر کی تنخواہ تین لاکھ روپے سے زائد ہے جبکہ ٹی ٹی ایس اسسٹنٹ پروفیسر کی آمدن ٹیکس کٹوتی کے بعد تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے رہ جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فرق مسلسل بڑھ رہا ہے جس سے تحقیقی شعبے کی کشش متاثر ہو رہی ہے۔

تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کو سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت کے میدان میں ترقی کرنی ہے تو سائنسی محققین کی مالی اور پیشہ ورانہ ضروریات کو ترجیح دینا ہوگی۔ بصورت دیگر ملک کو قابل ترین انسانی وسائل کے بیرون ملک منتقل ہونے کے خطرے کا سامنا رہے گا۔

جامعات میں تحقیق کے فروغ اور عالمی درجہ بندی میں بہتری کے لیے ضروری ہے کہ ٹی ٹی ایس ریسرچرز کی تنخواہیں اور مراعات ان کی خدمات اور تحقیقی معیار کے مطابق مقرر کی جائیں۔ ماہرین کے مطابق آنے والا بجٹ اس حوالے سے ایک اہم امتحان ثابت ہوسکتا ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]