راولپنڈی اسپتال سے ملزم فرار ہونے کا ایک اہم واقعہ سامنے آیا ہے جہاں بے نظیر بھٹو شہید اسپتال میں زیر علاج ایک ملزم پولیس کی نگرانی کے باوجود فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ واقعے کے بعد پولیس نے تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے متعلقہ اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق فرار ہونے والا ملزم منشیات اسمگلنگ کے مقدمے میں مطلوب تھا اور علاج کی غرض سے اسپتال کے سرجیکل وارڈ نمبر 9 میں داخل تھا۔ ملزم کی نگرانی کے لیے دو پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے تاکہ وہ علاج کے دوران سیکیورٹی میں رہے۔
ذرائع کے مطابق نگرانی پر مامور اے ایس آئی عمران اور کانسٹیبل قمر علی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے، تاہم مبینہ غفلت اور لاپرواہی کے باعث ملزم اسپتال سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
مقدمے کے متن کے مطابق جب متعلقہ افسران نے وارڈ کا معائنہ کیا تو نہ صرف ملزم غائب تھا بلکہ تعینات اہلکار بھی اپنی مقررہ جگہ پر موجود نہیں تھے، جس پر فوری طور پر معاملے کی تحقیقات شروع کی گئیں۔
تحقیقات کے دوران سامنے آنے والی معلومات کے مطابق عدنان جمیل نامی شخص اور ایک نامعلوم ساتھی مبینہ طور پر اسپتال پہنچے اور ملزم کو ویل چیئر پر وارڈ سے باہر لے گئے۔ بعد ازاں اسے ایک گاڑی میں بٹھا کر نامعلوم مقام کی جانب فرار کرا دیا گیا۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لینے پر بھی یہی منظر سامنے آیا کہ ملزم کو ویل چیئر کے ذریعے عمارت سے باہر منتقل کیا گیا اور پھر گاڑی میں سوار کرایا گیا۔
واقعے کے بعد پولیس نے فرائض میں غفلت برتنے کے الزام میں اے ایس آئی عمران خان اور کانسٹیبل قمر علی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ زیر حراست ملزم کی حفاظت اور نگرانی ان کی ذمہ داری تھی۔
اس کے علاوہ عدنان جمیل اور ایک نامعلوم شخص کے خلاف بھی قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ پولیس مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہے اور فرار ہونے والے ملزم کی تلاش کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق زیر حراست ملزمان کی اسپتالوں میں منتقلی کے دوران اضافی حفاظتی اقدامات ضروری ہوتے ہیں تاکہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔ اس واقعے نے اسپتالوں میں زیر علاج قیدیوں کی نگرانی کے نظام پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے مطابق گرفتار کیا جائے گا اور غفلت کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔








