رئیل اسٹیٹ ٹیکس میں کمی: فائلرز کیلئے بڑا ریلیف، پراپرٹی خرید و فروخت پر ٹیکس کم کرنے کی تجویز

رئیل اسٹیٹ ٹیکس میں کمی سے فائلرز کیلئے بڑا ریلیف
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

رئیل اسٹیٹ ٹیکس میں کمی: فائلرز کیلئے بڑا ریلیف، پراپرٹی مارکیٹ میں نئی امید

رئیل اسٹیٹ ٹیکس میں کمی آئندہ وفاقی بجٹ 2026-27 کی اہم ترین تجاویز میں شامل ہو سکتی ہے۔ حکومت ملک میں تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے، سرمایہ کاری میں اضافہ کرنے اور پراپرٹی مارکیٹ میں جاری سست روی کو ختم کرنے کیلئے بڑے اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق فائلرز کیلئے پراپرٹی خرید و فروخت پر عائد مختلف ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی سفارشات تیار کر لی گئی ہیں۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر موجودہ 1.5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کو کم کرکے صرف 0.25 فیصد تک لانے کی تجویز زیر غور ہے۔ اسی طرح پراپرٹی فروخت کرنے والوں کیلئے 4.5 فیصد ٹیکس کو کم کرکے 1.5 فیصد تک محدود کرنے کی سفارش بھی سامنے آئی ہے۔

رئیل اسٹیٹ ٹیکس میں کمی کا بنیادی مقصد پراپرٹی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران ٹیکسوں میں اضافے، معاشی غیر یقینی صورتحال اور بلند شرح سود کے باعث پراپرٹی سیکٹر شدید دباؤ کا شکار رہا ہے۔ متعدد سرمایہ کاروں نے اپنی سرمایہ کاری روک دی جبکہ نئی خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں بھی واضح کمی دیکھی گئی۔

ماہرین کے مطابق اگر مجوزہ ٹیکس ریلیف منظور ہو جاتا ہے تو پراپرٹی مارکیٹ میں نئی جان پڑ سکتی ہے۔ کم ٹیکس شرحیں سرمایہ کاروں کو مارکیٹ میں واپس لانے میں مددگار ثابت ہوں گی اور جائیداد کی خرید و فروخت میں اضافہ متوقع ہے۔

حکومت اس اہم پالیسی تبدیلی کیلئے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات بھی کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے نے ابتدائی طور پر بعض تحفظات کا اظہار کیا ہے کیونکہ ٹیکسوں میں کمی سے حکومتی محصولات متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم حکام کا مؤقف ہے کہ ٹیکس شرحیں کم ہونے سے کاروباری حجم بڑھے گا اور مجموعی طور پر حکومتی آمدن میں اضافہ ہوگا۔

پاکستان کا تعمیراتی شعبہ ملکی معیشت کا ایک اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔ اس شعبے سے درجنوں صنعتیں وابستہ ہیں جن میں سیمنٹ، سریا، ٹائلز، پینٹ، الیکٹریکل سامان اور دیگر تعمیراتی مصنوعات شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں سرگرمی بڑھنے سے ان تمام صنعتوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

رئیل اسٹیٹ ٹیکس میں کمی سے نہ صرف سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ تعمیراتی منصوبوں کے آغاز سے انجینئرز، آرکیٹیکٹس، مزدوروں اور مختلف شعبوں سے وابستہ افراد کیلئے روزگار کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا ایک اہم مقصد ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا بھی ہے۔ فائلرز کو مراعات دینے سے مزید افراد ٹیکس نظام میں شامل ہونے کی ترغیب حاصل کریں گے۔ اسی وجہ سے مجوزہ ریلیف صرف فائلرز کیلئے رکھا گیا ہے جبکہ نان فائلرز کیلئے سخت شرائط برقرار رہنے کا امکان ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق دنیا کے کئی ممالک میں پراپرٹی سیکٹر کو فروغ دینے کیلئے کم ٹیکس پالیسی اختیار کی جاتی ہے کیونکہ تعمیراتی سرگرمیاں معاشی ترقی کا اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔ پاکستان میں بھی یہی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے تاکہ معیشت کو متحرک کیا جا سکے۔

پراپرٹی مارکیٹ سے وابستہ کاروباری حلقوں نے مجوزہ اقدامات کا خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ٹیکس شرحوں میں واقعی کمی کر دی جاتی ہے تو مارکیٹ میں اعتماد بحال ہوگا، لین دین میں اضافہ ہوگا اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں رئیل اسٹیٹ ٹیکس میں کمی ملکی معیشت کیلئے مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف ہاؤسنگ سیکٹر مضبوط ہوگا بلکہ حکومت کو بالواسطہ طور پر دیگر شعبوں سے بھی زیادہ ٹیکس وصولیاں حاصل ہو سکتی ہیں۔

آئندہ بجٹ میں ان تجاویز کی حتمی منظوری کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ سرمایہ کار، بلڈرز اور پراپرٹی ڈیلرز کی نظریں بجٹ اعلانات پر مرکوز ہیں کیونکہ یہ فیصلے آنے والے برسوں میں پاکستان کی پراپرٹی مارکیٹ کی سمت کا تعین کریں گے۔

اگر رئیل اسٹیٹ ٹیکس میں کمی کی تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو ماہرین کے مطابق پاکستان میں تعمیراتی سرگرمیوں، سرمایہ کاری، روزگار اور معاشی نمو میں نمایاں بہتری دیکھنے کو مل سکتی ہے، جس کا فائدہ نہ صرف کاروباری طبقے بلکہ مجموعی قومی معیشت کو بھی پہنچے گا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]