نوئیڈا میں بلند عمارت سے خودکشی، ویڈیو وائرل؛ بیوی کو 15 لاکھ نان نفقہ دینے کا معاملہ بھی سامنے آگیا
ویب ڈیسک — رئیس الاخبار: بھارت کے شہر نوئیڈا میں 28 سالہ سافٹ ویئر انجینئر سنبھو جین کی بلند عمارت سے خودکشی کے واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد معاملہ سوشل میڈیا پر زیر بحث آگیا ہے۔ پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں مالی مشکلات، قرض، بچے کے علاج کے اخراجات اور ازدواجی تنازع کے ساتھ بیوی کو دی جانے والی 15 لاکھ بھارتی روپے کی مالی رقم بھی سامنے آئی ہے۔
پولیس کے مطابق سنبھو جین نے نوئیڈا کے سپرنووا کمپلیکس میں ایک Airbnb کمرہ بک کیا تھا۔ وہ جمعہ کو وہاں پہنچے اور اگلے روز عمارت کی بالکونی کے قریب دیکھے گئے۔ قریب کام کرنے والے افراد نے انہیں واپس آنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، تاہم وہ کامیاب نہ ہوسکے اور بعد ازاں عمارت سے گرنے کے نتیجے میں ان کی موت ہوگئی۔
واقعے کی ویڈیو بھی سامنے آگئی
پولیس کے مطابق واقعے سے متعلق دو ویڈیوز حاصل ہوئی ہیں۔ ایک ویڈیو ایک رہائشی کی جانب سے ریکارڈ کی گئی، جبکہ دوسری میں قریب موجود افراد کو سنبھو سے بات کرنے اور انہیں محفوظ مقام پر واپس آنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

پولیس نے ویڈیوز کے علاوہ عمارت کی سی سی ٹی وی فوٹیج، موبائل فون اور دیگر شواہد بھی قبضے میں لے کر تحقیقات شروع کردی ہیں۔
موبائل سے ویڈیو اور والد سے گفتگو
پولیس کو سنبھو جین کے موبائل فون سے ایک ویڈیو بھی ملی ہے جس میں انہوں نے اپنی مالی مشکلات کا ذکر کیا تھا۔ پولیس ان کے والد کے ساتھ ہونے والی چیٹس اور حالیہ رابطوں کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق سنبھو اپنے والد سے قرض اور مالی ذمہ داریوں کے بارے میں بات کرتے رہے تھے، جبکہ والد انہیں گھر واپس آنے پر آمادہ کر رہے تھے۔ پولیس ان گفتگوؤں کو واقعے سے پہلے ان کی صورتحال سمجھنے کے لیے اہم شواہد کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
بچے کے علاج پر لاکھوں روپے خرچ
پولیس کی تحقیقات میں سنبھو کے کم عمر بیٹے کی بیماری اور علاج کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ان کے بیٹے کی پیدائش قبل از وقت ہوئی تھی اور اسے طویل طبی علاج کی ضرورت پڑی۔ خاندان کے مطابق بچے کے علاج پر 30 لاکھ روپے سے زائد خرچ ہوچکے تھے، جس کے لیے سنبھو نے دوستوں اور خاندان سے رقم ادھار بھی لی تھی۔
اس کے نتیجے میں ان پر پہلے ہی مالی ذمہ داریاں اور قرض بڑھ چکے تھے۔
بیوی کو 15 لاکھ روپے دینے کا معاملہ
سنبھو جین کی اہلیہ سے بھی ازدواجی اختلافات پیدا ہوگئے تھے اور دونوں کے درمیان علیحدگی کے بعد مالی تصفیہ ہوا۔

پولیس کے مطابق عدالت کے ذریعے ان کی سابق اہلیہ کے لیے تقریباً 15 لاکھ بھارتی روپے کی رقم طے ہوئی تھی، جو دو اقساط میں ادا کی جانی تھی۔
سنبھو پہلے ہی تقریباً 7 سے 8 لاکھ روپے ادا کرچکے تھے، جبکہ باقی رقم آئندہ ماہ ادا کی جانی تھی۔
سوشل میڈیا پر 3 کروڑ روپے کا دعویٰ
سنبھو جین کی موت کے بعد سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ بھی تیزی سے پھیلا کہ انہیں سابق اہلیہ کو 3 کروڑ بھارتی روپے نان نفقہ یا Alimony کی مد میں ادا کرنا تھے۔
تاہم پولیس کے مطابق یہ دعویٰ درست نہیں۔ پولیس کی جانب سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق مالی تصفیہ تقریباً 15 لاکھ روپے کا تھا، نہ کہ 3 کروڑ روپے۔
اسی تضاد کے باعث سوشل میڈیا پر معاملہ مزید بحث کا موضوع بن گیا ہے۔
کیا موت کی وجہ صرف نان نفقہ تھا؟
پولیس نے ابھی تک یہ نہیں کہا کہ سنبھو جین کی موت کی واحد وجہ نان نفقہ یا طلاق کا مالی تصفیہ تھا۔
تحقیقات میں قرض، بچے کے علاج کے اخراجات، ازدواجی تنازع، مالی ذمہ داریاں اور ذہنی دباؤ سمیت کئی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پولیس موبائل فون، چیٹس، ویڈیوز اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے واقعے سے قبل کے حالات جاننے کی کوشش کررہی ہے۔
Alimony قوانین پر سوشل میڈیا میں بحث
واقعے کے بعد بھارت میں طلاق کے دوران مالی تصفیے اور Alimony کے قوانین پر سوشل میڈیا پر بحث تیز ہوگئی ہے۔

کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ طلاق کے معاملات میں مالی رقم طے کرتے وقت فریقین کی آمدنی، قرض، اثاثوں اور بچوں کے اخراجات کو زیادہ تفصیل سے مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
بعض صارفین نے Alimony کے موجودہ نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے اس میں تبدیلی یا مزید نگرانی کا مطالبہ کیا، جبکہ دوسرے صارفین نے خبردار کیا کہ ایک افسوسناک واقعے کی بنیاد پر پورے قانونی نظام کے بارے میں حتمی رائے قائم نہیں کی جانی چاہیے۔
سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے اس کیس کا موازنہ اتل سبھاش کے 2024 کے کیس سے بھی کیا، جس کے بعد بھارت میں ازدواجی قوانین اور مالی تصفیوں پر ملک گیر بحث ہوئی تھی۔
پولیس کی تحقیقات جاری
پولیس سنبھو جین کی موت کے حالات کی مزید تحقیقات کررہی ہے۔ حکام ان کے مالی معاملات، والد کے ساتھ چیٹس، موبائل فون سے ملنے والی ویڈیو اور عمارت کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہے ہیں۔
فی الحال دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ موت صرف بیوی کو دی جانے والی رقم کی وجہ سے ہوئی۔ البتہ پولیس کے مطابق قرض، بچے کے علاج کے اخراجات، ازدواجی تنازع اور مالی تصفیے ان حالات کا حصہ تھے جن کا تحقیقات میں جائزہ لیا جارہا ہے۔
واقعے نے بھارت میں طلاق کے بعد مالی ذمہ داریوں، Alimony کے تعین اور ایسے معاملات میں فریقین کے مالی حالات کو مدنظر رکھنے کے طریقہ کار پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
🚨 Another Angle of the Tragic Incident ⚠️
Even after all the efforts Sambhav Jain couldn't be saved 😓
Mental health matters. If you or someone you know is struggling please seek help and talk to someone. A conversation can save a life.
#Noida #Supernova #MentalHealthMatters https://t.co/BQlqpyekKk
— Dr. Abhinaba Pal (@drabhinabapal7) October 5, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: سنبھو جین کون تھا؟
سنبھو جین 28 سالہ سافٹ ویئر انجینئر تھا اور بھارت کے شہر گروگرام کے علاقے مانِیسر سے تعلق رکھتا تھا۔
سوال 2: سنبھو جین کے طلاقی تصفیے کی رقم کتنی تھی؟
پولیس کے مطابق سنبھو جین اور اس کی اہلیہ کے درمیان طلاقی تصفیہ تقریباً 15 لاکھ روپے میں طے ہوا تھا۔
سوال 3: کیا سنبھو جین کو 3 کروڑ روپے Alimony دینی تھی؟
پولیس کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا 3 کروڑ روپے کا دعویٰ درست نہیں۔ پولیس نے طلاقی تصفیے کی رقم تقریباً 15 لاکھ روپے بتائی ہے۔
سوال 4: سنبھو جین کی موت کے معاملے میں کن وجوہات کی تحقیقات ہو رہی ہیں؟
پولیس قرض، بچے کے علاج کے اخراجات، ازدواجی تنازع، مالی دباؤ اور ذہنی تناؤ سمیت مختلف پہلوؤں کی تحقیقات کر رہی ہے۔ حتمی وجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگی۔




