وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کی 2 گھنٹے طویل ملاقات، ایران امریکا مذاکرات زیر بحث
جدہ: وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ایک اہم اور طویل ملاقات ہوئی، جو تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہی۔ یہ ملاقات جدہ کے قصرِ اسلام میں منعقد ہوئی، جہاں وزیراعظم کی آمد پر ولی عہد نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال سمیت مختلف علاقائی اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ خاص طور پر ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کو مرکزی اہمیت حاصل رہی، جس میں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ کے امکانات پر غور کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور شہزادہ محمد بن سلمان نے خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں کو مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب نہ صرف قریبی اتحادی ہیں بلکہ خطے میں امن اور ترقی کے لیے مشترکہ وژن رکھتے ہیں۔
ملاقات کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔ اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری، اور دیگر شعبوں میں شراکت داری کو فروغ دینے پر بھی بات چیت ہوئی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو نئی جہت ملنے کی توقع ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کا دورہء سعودی عرب
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف گزشتہ شب جدہ سے مدینہ منورہ پہنچے.
گورنر مدینہ شہزادہ سلمان بن سلطان بن عبدالعزیز آلسعود نے وزیرِ اعظم اور پاکستانی وفد کا مدینہ منورہ آمد پر استقبال کیا.
وزیرِ اعظم نے مدینہ منورہ میں مسجد النبوی میں… pic.twitter.com/pIPx3Te6X5
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) April 16, 2026
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس موقع پر خطے میں امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے تعمیری کردار کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے ثالثی کے عمل کو مثبت قرار دیتے ہوئے اسے علاقائی استحکام کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔
اس اہم ملاقات میں پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی موجود تھے، جنہوں نے سفارتی امور اور دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے جاری کوششوں میں اپنا کردار ادا کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور مختلف ممالک تنازعات کے حل کے لیے متحرک ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان یہ مشاورت خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک مثبت قدم سمجھی جا رہی ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگی بلکہ خطے میں جاری سفارتی عمل اور امن کی کوششوں کو بھی تقویت دے گی۔


One Response