شہباز شریف کا آئی جی اور چیف کمشنر اسلام آباد کی بگھی سواری پر نوٹس، برہمی کا اظہار

یوم آزادی پریڈ میں آئی جی اور چیف کمشنر اسلام آباد کی شاہی بگھی میں سواری
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

شہباز شریف کا آئی جی اور چیف کمشنر اسلام آباد کی بگھی سواری پر نوٹس، برہمی کا اظہار

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے یوم آزادی کی تقریب میں آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر کی شاہی بگھی میں سواری کا نوٹس لیتے ہوئے برہمی کا اظہار کیا ہے۔ سرکاری دستاویز کے مطابق دونوں افسران کو وزیراعظم کی ناراضی سے تحریری طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔

سرکاری دستاویز کے مطابق 17 اگست کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر کو وزیراعظم کی ناراضی سے آگاہ کیا گیا۔ دونوں افسران کو جوائنٹ سیکریٹری ڈسپلن کی جانب سے تحریری طور پر بتایا گیا کہ سرکاری عہدے داروں کی جانب سے ایسی ذاتی نمود و نمائش عوامی خدمت کے اصولوں کے منافی ہے۔

دستاویز میں وزیراعظم کی جانب سے سول سرونٹس کو ایسے طرز عمل سے گریز کرنے اور سرکاری امور میں سادگی برقرار رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف اسلام آباد میں گوگل کے دفتر کا افتتاح کرتے ہوئے
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں گوگل کے نئے دفتر کا افتتاح کردیا۔

یوم آزادی کی تقریب میں بگھی سواری

14 اگست کو اسلام آباد کے ڈی چوک میں یوم آزادی کی پریڈ کے دوران آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی اور چیف کمشنر اسلام آباد و چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف کو شاہی بگھی میں تقریب کے مقام پر پہنچتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

یہ منظر سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تو آئی جی اور چیف کمشنر اسلام آباد کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض صارفین نے سرکاری افسران کی بگھی میں آمد کو شاہانہ انداز قرار دیتے ہوئے اسے نوآبادیاتی طرزِ عمل سے تشبیہ دی۔

اس تقریب کے مہمان خصوصی اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق تھے، تاہم ان کی آمد میں تاخیر ہوئی اور وہ شاہی بگھی کے بجائے اپنی گاڑی میں تقریب میں پہنچے۔

محسن نقوی نے افسران کا دفاع کیا تھا

بگھی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد وزیر داخلہ محسن نقوی نے وضاحت دیتے ہوئے کہا تھا کہ جو کچھ ہوا وہ مناسب نہیں تھا، تاہم یہ آئی جی اور چیف کمشنر اسلام آباد کی غلطی نہیں تھی۔

محسن نقوی کے مطابق صدر مملکت کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے باعث مہمان خصوصی اور انہیں تقریب میں پہنچنے میں تاخیر ہوئی۔ چونکہ عوام شام 5 بجے سے تقریب کے آغاز کا انتظار کر رہے تھے، اس لیے افسران کو ہدایت دی گئی کہ پروگرام شروع کر دیا جائے تاکہ شہریوں کو مزید انتظار نہ کرنا پڑے۔

حضرت علی ہجویری انڈر پاس لاہور
حضرت علی ہجویری انڈر پاس عام ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا

وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا تھا کہ شاہی بگھی دراصل مہمان خصوصی کے لیے مختص تھی، تاہم ناگزیر حالات کے باعث اسے افسران نے استعمال کیا۔ ان کے مطابق دونوں افسران نے ابتدا میں مہمان خصوصی اور وزیر داخلہ کی غیر موجودگی میں پروگرام شروع کرنے پر ہچکچاہٹ ظاہر کی تھی، لیکن عوام کی سہولت کے لیے انہیں تقریب آگے بڑھانے کی ہدایت دی گئی۔

وزیراعظم کی ناراضی کے بعد معاملہ پھر زیر بحث

محسن نقوی کی وضاحت کے باوجود آئی جی اور چیف کمشنر اسلام آباد کی بگھی سواری کا معاملہ ایک بار پھر اس وقت نمایاں ہوگیا جب وزیراعظم کی ناراضی سے متعلق سرکاری دستاویز سامنے آئی۔

دستاویز کے مطابق وزیراعظم نے سرکاری افسران کی جانب سے ذاتی نمود و نمائش کے تاثر کو ناپسند کیا اور سول سرونٹس کو سادگی اختیار کرنے کی ہدایت کی۔

یوں 14 اگست کی یوم آزادی پریڈ میں سامنے آنے والا شاہی بگھی کا منظر، جو ابتدا میں سوشل میڈیا پر تنقید اور محسن نقوی کی وضاحت کا باعث بنا تھا، اب وزیراعظم کی ناراضی اور سرکاری سطح پر تحریری کارروائی کے باعث دوبارہ خبروں کا مرکز بن گیا ہے۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: شہباز شریف نے کس معاملے کا نوٹس لیا؟
وزیراعظم شہباز شریف نے یوم آزادی کی اسلام آباد پریڈ میں آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر کی شاہی بگھی میں سواری کا نوٹس لیا۔

سوال 2: آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر بگھی میں کیوں سوار ہوئے؟
وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق مہمان خصوصی اور ان کی آمد میں تاخیر کے باعث افسران کو تقریب شروع کرنے کی ہدایت دی گئی، جس کے بعد بگھی استعمال کی گئی۔

سوال 3: وزیراعظم نے افسران کو کیا ہدایت کی؟
سرکاری دستاویز کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے سول سرونٹس کو ذاتی نمود و نمائش سے گریز اور سادگی برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی۔

سوال 4: یوم آزادی پریڈ کے مہمان خصوصی کون تھے؟
اسلام آباد کی یوم آزادی پریڈ کے مہمان خصوصی اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق تھے، جن کی آمد میں تاخیر ہوئی تھی۔