نواز شریف کا بھاٹی گیٹ دورہ، حضرت علی ہجویری انڈر پاس کھول دیا گیا
حضرت علی ہجویری انڈر پاس کو لاہور کے بھاٹی گیٹ کے مقام پر عام ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے بھاٹی گیٹ کا دورہ کیا، جس کے دوران نئے انڈر پاس کا افتتاحی مرحلہ مکمل ہونے کے بعد ٹریفک کی روانی شروع ہوگئی۔
ایک ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا حضرت علی ہجویری انڈر پاس تین لین پر مشتمل ہے جبکہ اس کی مجموعی لمبائی تقریباً 400 میٹر ہے۔ منصوبے کا بنیادی مقصد بھاٹی گیٹ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا اور شہریوں کو نسبتاً آسان اور سگنل فری راستہ فراہم کرنا ہے۔
بھاٹی گیٹ سے ٹریفک روانی میں بہتری
نئے انڈر پاس کے فعال ہونے سے آزادی چوک سے بھاٹی چوک کی جانب آنے والی ٹریفک کو کچہری اور مال روڈ کی سمت جانے کے لیے سگنل فری راستہ دستیاب ہوگا۔ اس اقدام سے مصروف علاقے میں ٹریفک کی روانی بہتر ہونے اور گاڑیوں کے انتظار کے وقت میں کمی آنے کی توقع ہے۔
بھاٹی گیٹ لاہور کے تاریخی اور مصروف علاقوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں روزانہ بڑی تعداد میں شہری، مسافر اور کاروباری افراد آمدورفت کرتے ہیں۔ اس لیے یہاں ٹریفک مینجمنٹ کو بہتر بنانے کے لیے انفراسٹرکچر منصوبوں کو اہمیت حاصل رہی ہے۔
تین لین پر مشتمل انڈر پاس
حضرت علی ہجویری انڈر پاس تین لین پر مشتمل ہے اور اسے کروو شیپ ڈیزائن میں تعمیر کیا گیا ہے۔ منصوبے کی لمبائی تقریباً 400 میٹر ہے جبکہ انڈر پاس کے اندر گاڑیوں کے لیے حد رفتار 30 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کی گئی ہے۔
انڈر پاس کی تعمیر میں بارشی پانی کے نکاس کے لیے خصوصی ڈرینج سسٹم بھی شامل کیا گیا ہے، جس کا مقصد بارش کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے کو کم کرنا ہے۔
مریم نواز کے دور میں پہلا انڈر پاس
یہ منصوبہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے دور حکومت میں تعمیر ہونے والا پہلا انڈر پاس قرار دیا جا رہا ہے۔ منصوبے کی تکمیل کو لاہور میں شہری ٹریفک کے مسائل کم کرنے کے لیے جاری ترقیاتی اقدامات کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق انڈر پاس کے فعال ہونے سے بھاٹی گیٹ کے اطراف میں ٹریفک مینجمنٹ مزید مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔ خاص طور پر آزادی چوک سے آنے والی ٹریفک کو کچہری اور مال روڈ کی جانب جانے کے لیے متبادل اور نسبتاً تیز راستہ دستیاب ہوگا۔
ایک ارب روپے کی لاگت
حضرت علی ہجویری انڈر پاس کی تعمیر پر تقریباً ایک ارب روپے لاگت آئی ہے۔ منصوبے میں ٹریفک کے لیے تین لین، نکاسی آب کا نظام اور دیگر ضروری سہولیات شامل کی گئی ہیں۔
عام ٹریفک کے لیے انڈر پاس کھولے جانے کے بعد شہریوں نے اس راستے کو استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ منصوبے کی کامیابی کا اصل اندازہ آنے والے دنوں میں ٹریفک کے دباؤ، سفر کے دورانیے اور بھاٹی گیٹ کے اطراف سڑکوں پر ٹریفک کی روانی میں ہونے والی بہتری سے لگایا جائے گا۔
لاہور کے شہریوں کیلئے اہم سہولت
بھاٹی گیٹ شہر کے تاریخی مراکز میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اہم ٹریفک پوائنٹ بھی ہے۔ یہاں ٹریفک کے مسلسل دباؤ کے باعث شہریوں کو کئی اوقات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حضرت علی ہجویری انڈر پاس سے براہ راست گزرنے والی ٹریفک کے لیے سگنل فری سہولت فراہم ہونے سے اس مسئلے میں کمی آنے کی امید ہے۔
نئے منصوبے کے ساتھ ڈرینج سسٹم کی موجودگی بھی اہم ہے کیونکہ لاہور میں مون سون کے دوران بعض مقامات پر بارشی پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوتی ہے۔ انڈر پاس میں پانی کے نکاس کا انتظام بارش کے دوران آمدورفت کو برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
حکام کی جانب سے مقرر کردہ 30 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کی پابندی بھی شہریوں کی حفاظت اور انڈر پاس کے اندر ٹریفک کو منظم رکھنے کے لیے اہم ہوگی۔ ڈرائیورز سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ رفتار کی حد اور ٹریفک قوانین پر عمل کریں گے۔
حضرت علی ہجویری انڈر پاس کے کھلنے کے بعد لاہور کے تاریخی علاقے میں ٹریفک مینجمنٹ کے حوالے سے ایک نیا راستہ دستیاب ہوگیا ہے۔ منصوبے کا مقصد نہ صرف سفر کو آسان بنانا بلکہ بھاٹی گیٹ کے اطراف ٹریفک کے مجموعی دباؤ کو کم کرنا بھی ہے۔
READ MORE FAQS
حضرت علی ہجویری انڈر پاس کہاں واقع ہے؟
حضرت علی ہجویری انڈر پاس لاہور کے بھاٹی گیٹ کے مقام پر واقع ہے۔
انڈر پاس کی تعمیر پر کتنی لاگت آئی؟
اس منصوبے پر تقریباً ایک ارب روپے لاگت آئی ہے۔
حضرت علی ہجویری انڈر پاس کتنا لمبا ہے؟
انڈر پاس تقریباً 400 میٹر طویل ہے۔
انڈر پاس کتنی لین پر مشتمل ہے؟
حضرت علی ہجویری انڈر پاس تین لین پر مشتمل ہے۔








